ٹائیگر پٹودی نے اپنی شاعری سے شرمیلا ٹیگور کو کیسے الو بنایا؟

کرکٹرز کا فلمی ستاروں کی محبت میں گرفتار ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، ایسی ہی ایک محبت فلم سٹار شرمیلا ٹیگور اور ٹائیگر پٹودی کے نام سے مشہور معروف کرکٹر افتخارعلی خان پٹودی کے درمیان بھی پروان چڑھی، دونوں کی جوڑی کو کافی پسند کیا جاتا تھا۔ یاد رہے کہ سیف علی خان اور سوہا علی خان شر میلا ٹیگور کی اولاد ہیں۔
شرمیلا ٹیگور اور بھوپال کے نواب منصور علی خان کی پہلی ملاقات بھی عجیب انداز میں ہوئی، نواب منصور علی خان نے جب 1964میں برطانوی کرکٹ ٹیم کیخلاف ٹیسٹ میچ میں 203 رنز بنائے تو شرمیلا ٹیگور نے خاص طور پر انہیں فون کر کے ڈبل سنچری پر مبارک دی، اس کے بعد دونوں میں مراسم اور بڑھنے لگے۔ شرمیلا ٹیگور کے مطابق فلم ’این ایوننگ ان پیرس‘ کی عکس بندی جو پیرس کے رومان پرور ماحول میں ہوئی، وہیں نواب منصور علی خان نے باقاعدہ طور پر اظہار محبت بھی کیا جسے رد کرنا شرمیلا ٹیگور کیلئے ممکن نہیں تھا۔ نواب منصور علی خان نے والدہ کے سامنے یہ خواہش رکھی کہ وہ شرمیلا ٹیگور سے شادی کرنا چاہتے ہیں، تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا اور یوں 27 دسمبر 1968 کو شرمیلا ٹیگور اور نواب منصور علی خان کی سگائی ہو گئی، شرمیلا ٹیگور نے اسلام قبول کیا اور ان کا نام عائشہ بیگم رکھا گیا، ٹائیگر پٹودی نے انہیں اس بات کی اجازت دی کہ جب تک وہ چاہیں فلموں میں کام کر سکتی ہیں۔
چنانچہ شرمیلا نے شادی کے بعد بھی فلموں میں کام جاری رکھا۔ 1970 میں بھارتی فلم ’سفر‘ کی عکس بندی ہو رہی تھی۔ شرمیلا ٹیگور کے ساتھ اس فلم میں فیروز خان اور راجیش کھنہ کام کر رہے تھے، عکس بندی سے فارغ ہو کر شرمیلا ٹیگور کو اس لفافے کا خیال آیا جو ان کو نواب منصور علی خان پٹودی نے خصوصی طور پر بھجوایا تھا۔ شرمیلا ٹیگور نے انتہائی بے چینی اور بے تابی کے ساتھ وہ لفافہ کھولا تو اس کے اندر ایک کاغذ پر خوبصورت اشعار لکھے تھے، وہ شوہر کے انداز تحریر سے بخوبی آشنا تھیں، سمجھ گئیں کہ اس قدر حسین اور رومانی اشعار خود لکھے ہیں۔
اپنے شوہر کی جانب سے بھیجا خط شرمیلا ٹیگور لہراتی ہوئی راجیش کھنہ اور فیروز خان کے پاس پہنچیں اور لہک لہک کر انہیں وہ اشعار سنانے لگیں جو ’محبت نامے‘میں ٹائیگر پٹودی نے لکھے تھے، شرمیلا ٹیگور نے دونوں کو جب یہ بتایا کہ یہ اشعار ان کے محبوب شوہر کے خود شاعرانہ ذوق کا کمال ہے تو فیروز خان ہنستے ہنستے کرسی سے نیچے گر پڑے۔ وہ بار بار یہی دریافت کر رہے تھے کہ کیا واقعی جو شرمیلا کہہ رہی ہیں، وہ درست ہے؟ شرمیلا تو ہکا بکا تھیں کہ کیوں ایسا عجیب و غریب سوال پوچھا جا رہا ہے جبکہ وہ کہہ چکی ہیں کہ ٹائیگر پٹودی نے یہ شعر خود لکھے ہیں۔ جب شرمیلا کو تھوڑا غصہ آیا تو فیروز خان نے ان سے کہا کہ ذرا سناؤ تو سہی پھر سے اپنے شوہر نامدار کی شاعری، شرمیلا ٹیگور نے پھر شعر پڑھنا شروع کیا:
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
اس سے پہلے کہ شرمیلا اور پڑھتیں، فیروز خان نے ہنستے ہوئے بتایا کہ یہ شاعری ٹائیگر پٹودی کی نہیں بلکہ اردو کے سب سے مشہور شاعر مرزا غالب کی ہے، جو انہوں نے اپنی بتا کر شرمیلا کو بھیج دی، شرمیلا کو یقین نہیں آیا۔ اس نے راجیش کھنہ کی جانب دیکھا تو انہوں نے بھی فیروز خان کی تائید کر دی۔
حقیقت عیاں ہونے پر شرمیلا کو اپنی کم علمی پر ملال ہوا۔ اس کے بعد وہی ہوا جو کہ ہونا تھا یعنی شرمیلاٹیگور اپنے شوہر ٹائیگر پٹودی سے ناراض ہو گئیں، جنہیں منانے کے لیے انہیں ڈھیروں پاپڑ بیلنا پڑے۔
