انسانی حقوق کمیشن نے جاوید اقبال کی جنسی ہراسانی کا نوٹس لے لیا

انسانی حقوق کمیشن نےلاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے اور نیب کے دیگر حکام پر جنسی ہراسانی کے کے الزام کا سنجیدگی سے نوٹس لیا۔

یچ آر سی پی سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ یہ الزامات ایک خاتون کی طرف سے لگائے گئے جس نے جاوید اقبال سے ان کے بطورِ چیئرمین سی او آئی ای ڈی رابطہ کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین سی او آئی ای ڈی ایک ایسا عہدہ ہے جس میں وہ درخواست کنندہ کی گواہی کے تحفظ اور ایک لاپتہ رشتہ دار کے ضمن میں انہیں انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے ذمہ دار تھے۔

ایچ آر سی پی کی چیئر پرسن حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال نے نہ مبینہ طور پر دو حیثیتوں سے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ہے، جاوید اقبال الزامات کا جواب دینے کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہونے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق چیئرمین نیب سمیت دیگر سرکاری اہلکاروں کے خلاف الزامات کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر یہ الزامات ثابت ہو جائیں تو انھیں عہدے سے ہٹایا جائے۔

بیان کے مطابق ایچ آر سی پی تحقیقات کے اس مطالبے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں ہونے والی کارروائی پر نظر رکھے گا۔

واضح رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال پر الزام ہے کہ وہ اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے نیب اور لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کمیشن میں ان کے پاس آنے والی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ طیبہ گل کے بعد ڈیفنس فار ہیومن رائٹس سے منسلک آمنہ مسعود جنجوعہ نے بھی انکشاف کیا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے لاپتہ افراد کے کمیشن میں آنے والی ایک خاتون سے کہا تھا کہ ’تم اتنی خوبصورت ہو، تمہیں شوہر کو تلاش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘ اس سے پہلے طیبہ گل نے الزام عائد کیا تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بطور نیب چیئرمین انہیں ہراساں کیا اور ان کے خلاف کیسز درج کروائے تاکہ وہ ان کے شیطانی مطالبات پورے کریں۔

Back to top button