خلیل الرحمن قمر نے اپنا پہلا گانا کس عمر میں لکھا؟

معروف ڈرامہ نویس و لکھاری خلیل الرحمن قمر نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے اپنا پہلا مشہور گانا ’’ضروری تھا‘‘ اس وقت لکھا جب وہ نویں جماعت کے طالب علم تھے، ’’ضروری تھاُ‘‘ کو راحت فتح علی خان نے گایا ہے اور اسے یونیورسل میوزک کے بینر تلے 2014 میں ریلیز کیا گیا تھا۔
گانے کو یوٹیوب پر ڈیڑھ ارب بار تک دیکھا جا چکا ہے اور اسے راحت فتح علی خان کا مقبول ترین گانا سمجھا جاتا ہے، گانے کی شاعری خلیل الرحمٰن قمر نے لکھی ہے جنہوں نے دیگر بھی متعدد گانے، ڈرامے اور فلمیں لکھی ہیں، حال ہی میں خلیل الرحمٰن قمر نے سما ٹی وی کے پروگرام گپ شپ میں شرکت کی جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر بات کی اور یہ بھی بتایا کہ انہیں ہوائی جہاز میں سفر سے کیوں ڈر لگتا ہے۔ڈراما ساز کا کہنا تھا کہ 12 سال قبل وہ ایک لفٹ میں 40 منٹ تک پھنس گئے تھے اور واقعے نے ان کے ذہن پر متعدد اثرات مرتب کیے اور وہ خوف زدہ ہوگئے۔ واقعے کے بعد انہوں نے ڈھائی سال تک جہاز میں سفر نہیں کیا تھا، وہ لاہور سے کراچی براستہ روڈ آتے تھے لیکن اب وہ فضائی سفر کے دوران نیند کی گولیاں کھاتے ہیں۔خلیل الرحمٰن قمر کا کہنا تھا کہ جب بھی وہ فضائی سفر کرتے ہیں تو وہ نیند کی گولی کھاتے ہیں، کیوںکہ وہ فضائی سفر سے ڈرتے ہیں، پروگرام کے ایک حصے میں انہوں نے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ اگر انہیں اداکارہ صبا حمید اور ماہرہ خان میں سے کسی ایک کے ساتھ ٹائی ٹینک پر سوار ہونے کا موقع ملے تو وہ ماہرہ خان کے ساتھ سفر کریں گے۔ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ وہ دونوں خواتین اور خصوصی طور پر ماہرہ خان کی عزت کرتے ہیں، البتہ کچھ باتوں میں ان سے ان کا اختلاف ہوسکتا ہے۔ ’میرے پاس تم ہو‘ کی آخری قسط سینما میں دیکھنے کے بعد بعض خواتین ان کے پاس آئیں اور ان سے لڑ پڑیں کہ انہوں نے ہمایوں سعید کو کیوں مارا؟اُن کا کہنا تھا کہ خواتین کے شوہر انہیں روکتے رہے اور سمجھاتے رہے کہ یہ صرف ڈراما ہے لیکن ان خواتین کو کچھ سمجھ نہیں آیا، انہوں نے خواتین کو سمجھایا کہ ہمایوں سعید زندہ ہیں اور وہ انہیں ان سے ملوا سکتے ہیں۔اسی طرح انہوں نے ایک اور واقعہ بتایا کہ جب ’پیارے افضل‘ میں حمزہ علی عباسی کی موت ہوئی تو بھی لوگ ان سے ناراض ہوگئے اور ایک دفعہ فضائی سفر کے دوران ایک خاتون نے انہیں کمر پر تھپڑ مار کر ان سے حمزہ علی عباسی کو مارنے کی وجہ پوچھی؟انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ کتاب لکھیں لیکن اب ان کے پاس وقت نہیں لیکن اگر کوئی انہیں بہت سارے پیسے دے تو وہ کتاب لکھیں گے، پروگرام کے دوران انہوں نے ’ضروری تھا‘ نظم کی کچھ سطریں گنگنانے کے بعد انکشاف کیا کہ نظم اس وقت لکھی تھی جب وہ نویں جماعت کے طالب علم تھے۔ وہ اس وقت چھپ چھپ کر شاعری کیا کرتے تھے، کیوںکہ ان پر والدین کی جانب سے انگریزی پڑھنے کی سختی ہوتی تھی اور یہ کہ انہوں نے 10 سال تک اردو میں کچھ لکھا ہی نہیں تھا۔
