کرپٹو کرنسی کے فراڈ میں 37 ہزار پاکستانی کیسے لوٹے گئے؟

حال ہی میں کرپٹو کرنسی کے بزنس میں 18 ارب روپے کے فراڈ کا شکار ہونے والے 37 ہزار پاکستانیوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور ہر لٹنے والے نے اوسطا 20 ہزار ڈالرز کی سرمایہ کاری کی تھی جس کے نتیجے میں اسے رقم ڈبل ہو جانے کا لالچ دیا گیا تھا۔

تفتیش کاروں کے اندازے کے مطابق تقریباً 37000 افراد میں سے ذیادہ تر کا تعلق متوسط گھرانوں سے ہے جنہوں نے کرپٹو سکیم میں سرمایہ لگانے کے لیے اپنے گھر بھی گروی رکھوائے اور زیور بھی بیچ ڈالے۔ تاہم نتیجہ پھر وہی نکلا کہ لالچ بری بلا ہے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے تازی ترین ورچوئل بزنس فراڈ میں لوگوں کے لیے سرمایہ کاری کی حد سو ڈالر سے لے کر 80 ہزار ڈالر تک تھی اور ہر لٹنے والے نے اوسطاً 20 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کہ لہذا ایک محتاط اندازے کے مطابق کل 10 کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی جو پاکستانی روپوں میں 18 ارب بن جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ 18 ارب روپے کے کرپٹو کرنسی فراڈ کی چھان بین میں مصروف ہے اور حکومت کو سفارش کی گئی ہے کہ اس پر پابندی لگا دی جائے۔

ایف آئی اے کے علاوہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی حکومت کو کرپٹو کرنسی پر پابندی لگانے کی سفارش کر دی یے۔ سٹیٹ بینک کا استدلال ہے کہ کرپٹو بزنس کی اجازت دینے سے فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے علاوہ بھاری سرمایہ بھی بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے۔ چنانچہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے بھی کرپٹو کرنسی کا لین دین کرنے والوں کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کرتے ہوئے 1600 ویب سائٹس کو بند کرنے کے لیے پی ٹی اے کو خط لکھ دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کرپٹوکرنسی سے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ بھی کی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان ميں کرپٹو اور ڈيجيٹل کرنسی کا بزنس کرنے والے ڈیلرز کی فہرستیں بھی بنانا شروع کردی گئی ہیں۔ ایف آئی اے نے کرپٹو کرنسی اور ڈيجيٹل کرنسی کا کام کرنے والی ان 1600 ویب سائٹس کے خلاف پی ٹی اے کو کارروائی کے لیے کہا ہے جنکے ذریعے ڈیجیٹل کرنسی کا لین دین جاری ہے۔ ایف آئی اے نے پی ٹی اے سے ان ویب سائٹس کو بند کرنے کا کہتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈيجيٹل کرنسی فراڈ ميں اب تک شہریوں سے کروڑوں ڈالرز کا فراڈ ہوچکا ہے لہذا ان ویب سائٹس کو فوری طور پر بند کیا جائے چونکہ اسٹيٹ بينک نے 2018 سے اس بزنس کو پاکستان ميں غير قانونی قرار دے رکھا ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی کی تجارت کی قانونی حیثیت بارے ابہام نے پاکستانی شہریوں کو فراڈیوں کا آسان شکار بنایا۔ تفتیش کاروں کے اندازے کے مطابق تقریباً 37000 افراد جن میں سے زیادہ ترکا تعلق پنجاب کے شہر فیصل آباد کے متوسط گھرانوں سے ہے اس سکیم میں رقم لگا کر کنگال ہو گے۔ ان سب کو ڈبل شاہ کی طرح رقم دگنی ہونے کا لالچ دیا گیا تھا۔ سندھ میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ڈویژن کے سربراہ عمران ریاض نے بتایا کہ ورچوئل کرنسی میں سرمایہ کاری کی حد سو ڈالر سے لے کر 80 ہزار ڈالر تھی۔

اب 100 روپے کے بیلنس پر 27 روپے 20 پیسے کا ٹیکس

ہر رکن نے اوسطاً 20 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اس لیے ہم محتاط اندازے سے کہہ سکتے ہیں 10 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ لٹنے والوں کہ کہانیاں دکھ بھری ہیں۔ ایک متاثرہ شخص نے جلد امیر ہونے کے لیے اپنی والدہ کا سارا سونا بیچ دیا۔ ان کی والدہ کو اس کا علم نہیں تھا۔ اسی طرح سینکڑوں افراد نے اپنے گھر گروی رکھوا کر ان کے عوض رقم لی تھی جو کہ اب ڈوب چکی ہے اور یہ لوگ بے گھر ہونے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ دھوکہ دینے والوں نے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج ’بائی نانس‘ کے والیٹس کے ساتھ منسلک ایم سی ایکس، ایچ ایف سی، ایچ ٹی فوکس، ایف ایکس کاپی، اوکی منی، بی بی 001، اے وی جی 86 سی، بی ایکس 66، 91 ایف پی، یو جی اور ٹاسک ٹوک جیسی جعلی ایپس کا استعمال کیا۔ جعل ساز اپنے شکار کو میسیجنگ ایپ ٹیلی گرام کے گروپس میں شامل کرتے تھے جہاں انہوں نے کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کے بارے میں مشورے شیئر کر رکھے ہوتے تھے۔ ایک بار جب صارفین اپنی رقم بائی نانس سے سکیم میں استعمال ہونے والی

ایپس میں منتقل کر دیتے ہیں تو یہ ایپس کام کرنا بند کر دیتیں اور متاثرین اپنے فنڈز تک رسائی سے محروم ہو جاتے۔ ایف آئی اے نے فراڈ میں استعمال ہونے والے 26 والیٹس کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے بائی نانس سے رابطہ کیا ہے۔ کمپنی نے ایف آئی اے کے ساتھ مکمل تعاون پر رضامندی ظاہر کی ہے اور ایف آئی اے کے ساتھ رابطے کے لیے امریکی محکمہ خزانہ کے دو سابق تفتیش کاروں پر مشتمل ٹیم کو نامزد کیا ہے۔

بائی نانس کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر سائمن میتھیوز نے بتایا ہے کہ انکینکمپنی ایف آئی اے کے ساتھ رابطے میں ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی تجارت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے گھپلے زیادہ تر قانونی فریم ورک کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

پاکستانی ٹیلی ویژن کے میزبان اور سرگرم کارکن وقارذکا جو ڈیجیٹل کرنسیز کو باضابطہ بنانے کے ایک مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں، کا ماننا ہے کہ کرپٹو کرنسی کا کاروبار باضابطہ بنانے سے سے دھوکہ دہی کو روکنے میں مدد ملے گی۔ وقارذکار کے مطابق انہوں نے حکام سے استدعا کی ہے کہ لوگوں نے کرپٹو تجارت میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے لہذا حکومت اسے غیر قانونی قرار نہ دے۔ اس کے بجائے اسے کاروبار کو قانونی شکل دینے اور لین دین پر نظر رکھنے کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے۔

Back to top button