اب 100 روپے کے بیلنس پر 27 روپے 20 پیسے کا ٹیکس

نت نئے ٹیکسوں کے ذریعے پاکستانی عوام کی جیبیں خالی کروانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا کپتان حکومت نے عام آدمی کے زیر استعمال رہنے والے موبائل فون سے ہونے والی کالز، ایس ایم ایس اور انٹر نیٹ بھی مہنگا کر دیا ہے جس کے بعد اب 100 روپے کا بیلنس چارج کروانے والے فون صارفین کو 72.80 روپے کا بیلنس ملے گا جب 27 روپے اور 20 پیسے ٹیکسوں، ڈیوٹیز اور خدمات کے کھاتے میں کاٹ لیں جائیں گے.

آئی ایم ایف کی خواہش پر لائے جانے والے منی بجٹ میں موبائل بیلنس ڈلوانے پر ٹیکس کے علاوہ ٹیلی کام خدمات پر بھی ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اب نہ صرف فون کارڈ پر ٹیکس زیادہ کٹے گا بلکہ فون کال، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر ٹیکس بڑھنے سے وہ بھی مذید مہنگے ہو گے ہیں۔

ایف بی آر حکام کے مطابق منی بجٹ میں ٹیلی کام سروسز پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ 100 روپے کا بیلنس چارج کرنے والے صارفین کو اب 72.80 روپے کا بیلنس ملے گا۔ منی بجٹ کے بعد اب صارفین کے 100 روپے کے بیلنس میں سے ایڈوانس ٹیکس کی مد میں 13 روپے کی کٹوتی ہوگی۔ اس سے قبل 9 روپے 10 پیسے ہوتی تھی۔

سیلز ٹیکس کی مد میں صارفین 100 روپے کے بیلنس پر بدستور 14 روپے 80 پیسہ ادا کریں گے۔ یعنی صارفین سے 100 روپے کے بیلنس پر سیلز ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس کی مد میں 27 روپے 20 پیسے کا ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

منی بجٹ سے قبل صارفین کو 100 روپے کے بیلنس پر 76 روپے 10 پیسہ کا بیلنس ملتا تھا۔ ٹیکس ماہرین کے مطابق اگرچہ ایڈوانس ٹیکس ایڈجسٹ کرایا جا سکتا ہے لیکن پاکستان میں 187 ملین ٹیلی کام سروس استعمال کرنے والے افراد میں سے 98 فیصد پری پیڈ صارفین ہیں جن کا تعلق کم آمدنی والے طبقے سے ہے اور یہ طبقہ ریٹرن جمع نہیں کرواتا، اس لیے یہ صارفین ود ہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ بھی نہیں کرا سکتے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 21-2020 کے بجٹ میں ود ہولڈنگ ٹیکس 12 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کیا تھا۔ حکومت نے ود ہولڈنگ ٹیکس 8 فیصد تک کم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم ٹیکس خسارہ پورا کرنے کے لیے موبائل فون صارفین پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا دیا گیا۔

کرپٹو کرنسی کے فراڈ میں 37 ہزار پاکستانی کیسے لوٹے گئے؟

موبائل فون کمپنیوں کے مطابق عام صارف کے سمجھنے کے لیے یہ بات اہم ہے کہ بیلنس ڈلوانے پر ٹیکس کے علاوہ ٹیلی کام خدمات پر ٹیکس میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے نہ صرف کارڈ پر ٹیکس زیادہ کٹے گا بلکہ ٹیلی فون کال، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر بھی ٹیکس بڑھنے سے وہ بھی مہنگے ہو جائیں گے۔ ٹیلی کام خدمات کے علاوہ ضمنی فنانس بل میں مہنگے موبائل پر رعایتی فکسڈ ٹیکس ختم کرکے 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق صرف 30 سے 200 ڈالرز مالیت کے موبائل پر ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ تاہم 200 سے 350 ڈالرز کے موبائل پر 17 فیصد سیلز ٹیکس ہوگا۔ اس سے قبل 200 سے 350 ڈالرز مالیت کے موبائل پر 1750 روپے ٹیکس تھا۔ اب 351 سے 500 ڈالرز مالیت کے موبائل فون پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا اور پہلے 351 سے 500 ڈالرز مالیت کے موبائل پر 5400 روپے فکسڈ ٹیکس تھا۔

اسی طرح اب 501 ڈالر یا زائد مالیت کے موبائل پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے جبکہ پہلے 501 ڈالر یا زائد مالیت کے موبائل پر 9270 روپے ٹیکس تھا۔ اسی طرح 1300 ڈالر کے موبائل پر 9270 کی بجائے 42000 روپے ٹیکس ہوگا۔

Back to top button