عافیہ صدیقی کیس: وزیراعظم کو توہینِ عدالت نوٹس فی الحال قابلِ عمل نہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) کے جوڈیشل ڈپارٹمنٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق کیس میں ایک رپورٹ عدالت میں جمع کروائی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے خلاف جاری کیے گئے توہینِ عدالت کے نوٹس بعض قانونی معاملات طے ہونے تک قابلِ عمل نہیں۔

یہ رپورٹ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی دائر کردہ درخواست میں جمع کرائی گئی ہے، جس میں انہوں نے اپنی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی حراست سے رہائی کے لیے حکومتِ پاکستان کو عملی اقدام پر مجبور کرنے کی استدعا کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، وزیراعظم اور وفاقی وزرا کے خلاف عدالتی حکم پر مبینہ عدم عملدرآمد پر جاری کیے گئے نوٹس اس وقت نافذ نہیں کیے جا سکتے کیونکہ ان کی بنیاد میں کچھ قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں۔

رجسٹرار آفس نے اس کیس میں تین بنیادی قانونی نکات پر روشنی ڈالی ہے اور تجویز دی ہے کہ ان پر غور کے لیے ایک لارجر بینچ تشکیل دیا جائے:

کیا کوئی جج خود سے مقدمہ اپنی عدالت کو الاٹ کر سکتا ہے، اور کیا یہ عدالتی نشستوں کی منظور شدہ فہرست کی خلاف ورزی ہوگی؟

کیا جج کسی مقدمے کی سماعت بغیر منظور شدہ کاز لسٹ کے کر سکتا ہے؟

یکساں نوعیت کی درخواستوں کو یکجا کرنے کے لیے کیا مختلف بینچوں کی رضا مندی ضروری ہے؟

یہ قانونی پیش رفت 29 اگست کو اُس وقت سامنے آئی، جب کیس جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان سے واپس لے کر جسٹس راجہ انعام امین منہاس کو منتقل کر دیا گیا۔ یہ تبدیلی یکم ستمبر سے نافذ ہونے والی نئی عدالتی نشستوں کی فہرست کے تحت کی گئی۔

خیال رہے کہ جسٹس اعجاز اسحٰق نے 21 جولائی کو وزیراعظم اور ان کے وزرا کے خلاف توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے، تاہم اس اقدام پر اعتراضات اس وقت سامنے آئے جب انکشاف ہوا کہ وہ عدالتی فہرست میں شامل نہیں تھے، کیونکہ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر پہلے ہی 20 جولائی سے رخصت پر جا چکے تھے۔

رجسٹرار آفس نے ان نوٹسز پر انتظامی بنیادوں پر عمل درآمد روک دیا تھا، اور معاملہ متعلقہ اتھارٹی کی منظوری تک مؤخر رکھا گیا۔

اب، آئی ایچ سی کی نئی کاز لسٹ کے مطابق، جسٹس راجہ انعام امین منہاس یکم ستمبر کو کیس کی نئی سماعت کریں گے۔

دوسری جانب، جسٹس اعجاز اسحٰق کو نئی عدالتی فہرست میں جسٹس بابر ستار کے ساتھ ایک خصوصی ڈویژن بینچ کا حصہ بنایا گیا ہے، جو ٹیکس اور کمرشل معاملات کی سماعت کرے گا۔ اس وجہ سے وہ بطور سنگل جج اس کیس کی سماعت کے اہل نہیں رہیں گے۔

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی یہ درخواست 2015 سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہے، جس میں انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے امریکی حکومت کے سامنے باضابطہ اور بھرپور مؤقف اپنائے۔ تاہم اب تک پاکستانی حکومت نے امریکی عدالتوں میں ان کی حمایت میں کوئی دوستانہ رائے جمع کرانے سے گریز کیا ہے۔

Back to top button