آزاد کشمیر الیکشن، بلاول کی جارحانہ مہم، نون لیگ خاموش کیوں؟

آزاد کشمیر کے عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں بھی تیز ہو چکی ہیں۔ ایسے میں سب سے زیادہ توجہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بھرپور انتخابی مہم پر مرکوز ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کی خاموشی اور انتخابی میدان میں محدود موجودگی سیاسی مبصرین اور خود جماعت کے امیدواروں کے لیے بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ن لیگ نے اپنی حکمت عملی تبدیل نہ کی تو یہ خاموشی انتخابی نتائج پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے انتخابات ملتوی کرانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں اور اگر انتخابات شیڈول کے مطابق منعقد ہوتے ہیں تو اسے ریاستی عملداری اور جمہوری تسلسل کی کامیابی قرار دیا جائے گا۔ نئی قانون ساز اسمبلی اور حکومت کی تشکیل سے سیاسی استحکام کو بھی تقویت ملنے کی توقع ہے۔

دوسری جانب انتخابی مہم میں بلاول بھٹو زرداری مسلسل سرگرم ہیں اور مختلف جلسوں میں مسلم لیگ (ن) کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔ اس کے برعکس ن لیگ کی مرکزی قیادت، خصوصاً نواز شریف اور مریم نواز، تاحال انتخابی مہم میں نمایاں کردار ادا کرتی نظر نہیں آ رہیں، جس پر پارٹی کے اندر بھی بے چینی پائی جا رہی ہے۔ بعض رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگر مرکزی قیادت انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لے تو کارکنوں کا حوصلہ بلند ہوگا اور انتخابی نتائج بہتر آ سکتے ہیں۔

سیاسی مبصرین اس صورتحال کا موازنہ گلگت بلتستان کے گزشتہ انتخابات سے بھی کر رہے ہیں، جہاں بلاول بھٹو نے بھرپور مہم چلائی جبکہ ن لیگ کی مرکزی قیادت محدود رہی۔ اس وقت بھی پارٹی کے اندر یہ رائے سامنے آئی تھی کہ اگر نواز شریف یا مریم نواز انتخابی مہم میں شریک ہوتیں تو جماعت مزید نشستیں حاصل کر سکتی تھی۔

ن لیگ کے امیدواروں اور رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں موجودہ حکومتی حیثیت کے باوجود سیاسی طور پر خود کو بحران سے الگ اور مسلم لیگ (ن) کو ذمہ دار ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ پارٹی کی جانب سے اس بیانیے کا مؤثر جواب سامنے نہیں آ رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کے سامنے حقائق رکھنا بھی انتخابی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے، لیکن مرکزی قیادت کی خاموشی مخالفین کے بیانیے کو تقویت دے رہی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی انتخابی حکمت عملی کو مؤثر انداز میں سامنے لانا، کارکنوں کو متحرک رکھنا اور مخالف جماعتوں کے الزامات کا بروقت سیاسی جواب دینا ہے۔ اگر پارٹی نے اپنی خاموشی برقرار رکھی تو آزاد کشمیر کے انتخابات میں اس کی سیاسی پوزیشن مزید کمزور ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Back to top button