پی ٹی آئی قیادت کی عمران خان کی بہنوں کی حمایت سے توبہ

پی ٹی آئی قیادت نے عمران خان کی بہنوں کی حمایت سے پیچھے ہٹتے ہوئے انھیں سرخ جھنڈی دکھا دی۔ پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین عمران خان کی بہن نورین خان کے متنازع بیان اور علیمہ خان کی عوامی رابطہ مہم سے باضابطہ طور پر لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں کے اقدامات انفرادی نوعیت کے ہیں اور انہیں پارٹی کی پالیسی یا فیصلوں سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ احتجاج، اسٹریٹ موومنٹ اور دیگر سیاسی حکمت عملی سے متعلق تمام فیصلے مشاورت کے بعد صرف تحریک انصاف کی سیاسی قیادت کرے گی، جبکہ بانی چیئرمین کے اہلِ خانہ کی سرگرمیاں ان کی ذاتی حیثیت میں تصور کی جائیں گی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت نے واضح کیا ہے کہ نورین خان کی جانب سے دیا گیا متنازع بیان ان کی ذاتی رائے ہے اور اس کا پارٹی کی سرکاری پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح علیمہ خان کی جانب سے مختلف علاقوں میں عوامی رابطہ مہم اور اسٹریٹ موومنٹ کی حمایت کو بھی ان کا انفرادی اقدام قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عوامی احتجاج اور سیاسی تحریک کے لیے کارکنوں کی متحرک شمولیت ناگزیر ہے، تاہم ایسی کسی بھی ملک گیر مہم کے آغاز، وقت اور طریقہ کار کا حتمی فیصلہ پارٹی کی مرکزی قیادت باہمی مشاورت سے کرے گی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی حکمت عملی اور تنظیمی فیصلوں کا اختیار صرف پارٹی قیادت کے پاس ہے، جبکہ بانی چیئرمین کے اہلِ خانہ سے مشاورت ضرور کی جاتی ہے لیکن ان کے انفرادی بیانات یا سرگرمیوں کو پارٹی پالیسی نہیں سمجھا جا سکتا۔

یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نورین خان کے ایک انٹرویو میں دیے گئے متنازع بیان پر قومی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے اور متعلقہ ادارے بھی اس معاملے کا نوٹس لے چکے ہیں۔ دوسری جانب علیمہ خان خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں عوامی اجتماعات اور ریلیوں سے خطاب کر کے کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جس کے بعد ان کی سرگرمیوں کو ممکنہ اسٹریٹ موومنٹ سے جوڑا جا رہا تھا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کی یہ وضاحت اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش ہے کہ پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کا تعین بانی چیئرمین کے اہلِ خانہ کر رہے ہیں۔ اس بیان سے پارٹی نے یہ پیغام دیا ہے کہ مستقبل کی احتجاجی سیاست، عوامی تحریک یا دیگر اہم سیاسی فیصلے صرف مرکزی قیادت کی مشاورت اور منظوری سے ہی کیے جائیں گے۔

Back to top button