الیکشن کمیشن نے تحریک لبیک کی سیاست میں واپسی ناممکن کیسے بنائی؟

پاکستان کی انتخابی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہ کرنے، بروقت انٹرا پارٹی انتخابات منعقد نہ کرنے اور الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی پر انتخابی جماعت کے طور پر نااہل قرار دیتے ہوئے اس کا انتخابی نشان "کرین” بھی واپس لے لیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف ٹی ایل پی کی مستقبل کی انتخابی حکمت عملی کو شدید متاثر کیا ہے بلکہ یہ واضح پیغام بھی دیا ہے کہ انتخابی عمل میں حصہ لینے والی ہر سیاسی جماعت کے لیے آئین اور قانون کی پابندی ناگزیر ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو ٹی ایل پی کی قومی سیاست میں واپسی کی امیدوں کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان اپنے مقررہ وقت میں شفاف، منصفانہ اور قانونی تقاضوں کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی۔ فیصلے کے مطابق جماعت کے آخری انٹرا پارٹی انتخابات 28 دسمبر 2021 کو چار سالہ مدت کے لیے ہوئے تھے، جن کی مدت 28 دسمبر 2025 کو ختم ہو چکی تھی، تاہم اس کے بعد مقررہ وقت میں نئے انتخابات نہیں کرائے گئے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق جماعت کو متعدد مرتبہ نوٹس جاری کیے گئے تاکہ وہ انٹرا پارٹی انتخابات منعقد کرکے قانونی تقاضے پورے کرے، لیکن بروقت کوئی مؤثر جواب یا قابل قبول کارروائی سامنے نہیں آئی۔ اسی بنیاد پر الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
سماعت کے دوران ٹی ایل پی کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جولائی 2026 میں انٹرا پارٹی انتخابات مکمل کیے جا چکے ہیں اور تمام عہدیداران بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں، تاہم الیکشن کمیشن نے ان دستاویزات اور دلائل کو قانونی معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث مسترد کر دیا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ قانون کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کے شیڈول سے کم از کم پندرہ روز قبل الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنا ضروری تھا، جبکہ جماعت نے مبینہ انتخابات صرف گیارہ دنوں کے اندر مکمل کرکے کمیشن کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق مطلع بھی نہیں کیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اس اصول کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی داخلی جمہوریت اور شفاف تنظیمی ڈھانچہ محض رسمی تقاضہ نہیں بلکہ انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لیے بنیادی شرط ہے۔ دوسری جانب سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابی نشان کی واپسی کے بعد ٹی ایل پی کے لیے مستقبل میں کسی بھی عام یا ضمنی انتخاب میں مؤثر شرکت کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا، جب تک وہ تمام قانونی اور آئینی تقاضے مکمل کرکے اپنی انتخابی حیثیت بحال نہیں کر لیتی۔
