عدالتی امور میں مداخلت کی شکایت 24 گھنٹے میں لازمی ہوگی، عدالتی پالیسی ساز کمیٹی

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ عدالتی امور میں بیرونی مداخلت پر متعلقہ جج کو 24 گھنٹےمیں شکایت درج کرانا ہوگی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور اٹارنی جنرل نے شرکت کی۔ اجلاس میں عدالتی امور میں شفافیت اور تیزی کے لیے اہم فیصلے کیے گئے اور ایس او پیز کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں طے پایا کہ اگر کسی جج کو عدالتی معاملات میں بیرونی مداخلت کا سامنا ہو تو وہ 24 گھنٹوں کے اندر شکایت درج کرائیں گے۔ شکایت پر 14 دن کے اندر فیصلہ کیا جائے گا جبکہ شکایت کنندہ جج کے وقار کو مکمل طور پر محفوظ رکھا جائے گا۔
کمرشل مقدمات کی حوصلہ شکنی کے لیے جسٹس شفیع صدیقی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔
مزید برآں، مقدمات کے جلد از جلد تصفیے کے لیے ٹائم لائنز مقرر کی گئیں۔ کرایہ داری اور عائلی کیسز 6 ماہ میں، جائیداد اور وراثتی کیسز 12 ماہ میں جبکہ قتل کے مقدمات زیادہ سے زیادہ 2 سال کے اندر نمٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جبری گمشدگی کے کیسز میں زیر حراست افراد کو 24 گھنٹے میں عدالت کے روبرو پیش کرنا لازم ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کی ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹس کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ مزید یہ کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری پالیسی فورم کے قیام اور ججز کی فلاح و بہبود سے متعلق سفارشات تیار کی جائیں گی۔
اجلاس میں ہائی کورٹس اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں شکایات کے ازالے کے فورمز قائم کرنے اور اسپیشل کورٹس و ٹریبونلز کے ججز کی واپسی میں تاخیر کے مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔
نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کا اگلا اجلاس 17 اکتوبر 2025 کو منعقد ہوگا۔
