قومی کرکٹرز کیلئے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی قرار

چیرمین پی سی بی محسن نقوی نے قومی کرکٹرز کیلے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی قرار دیدیا۔0691
چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کے کرکٹ اور ٹیم کی کارکردگی کی بہتری کیلئے بڑی بیٹھک، ریڈبال اور وائیٹ بال کوچز کو باقاعدہ سلیکشن کمیٹی کا حصہ بنا دیا گیا۔کھلاڑیوں کے سنٹرل کنٹریکٹ کی مدت تین سال سے کم کر کے ایک سال کر دی گئی، ہر تین ماہ بعد کھلاڑی کی فٹنس کا جائزہ لینے کے
قومی کرکٹرز کیلئے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی قرار
چیرمین پی سی بی محسن نقوی نے قومی کرکٹرز کیلے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی قرار دیدیا۔0691
چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کے کرکٹ اور ٹیم کی کارکردگی کی بہتری کیلئے بڑی بیٹھک، ریڈبال اور وائیٹ بال کوچز کو باقاعدہ سلیکشن کمیٹی کا حصہ بنا دیا گیا۔کھلاڑیوں کے سنٹرل کنٹریکٹ کی مدت تین سال سے کم کر کے ایک سال کر دی گئی، ہر تین ماہ بعد کھلاڑی کی فٹنس کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی قرار دیدیا گیا۔
نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے بورڈ روم میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے، گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی کو بااخیتار سلیکشن کمیٹی کا رکن بنانے کی بھی منظوری دی گئی،
اجلاس میں کھلاڑیوں کے سنٹرل کنٹریکٹ کی مدت تین سال سے کم کر کے ایک سال کرکٹ دی گئی تاہم اس کی رقم کرنے کا کوئی فیصلہ نہ ہو سکا، سنٹرل کنٹریکٹ کا حصہ بننے کے لیے کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے ساتھ فٹنس ٹیسٹ بھی پاس کرنا ہوگا
کھلاڑیوں کو غیر ملکی لیگ کھیلنے کے این او سی کے حصول کے لیے پی سی بی کے واضع کردہ طریقہ کار پر پورا اترنا ہوگا، چیئرمین محسن نقوی نے ڈسپلن پر بھی کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ، نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی لاگو، گروپنگ کرنے والے کھلاڑیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس میں لاہور اور کراچی کے بعد اسلام آباد اور پشاور میں بھی ہائی پرفارمنس سنٹرز بنائے جانے کی منظوری دی گئی، شاہینز اور انڈر 19 ٹیموں کے ساتھ ساتھ وویمنز کرکٹ ٹیم کو بہتر بنانے اور سنٹرل کنٹریکٹ پر نظر ثانی کے حوالے سے ٹاسک دے دیئے گئے۔

9 مئی کیس: یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر کی ضمانت منظور

ساتھ ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی قرار دیدیا گیا۔
نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے بورڈ روم میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے، گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی کو بااخیتار سلیکشن کمیٹی کا رکن بنانے کی بھی منظوری دی گئی،
اجلاس میں کھلاڑیوں کے سنٹرل کنٹریکٹ کی مدت تین سال سے کم کر کے ایک سال کرکٹ دی گئی تاہم اس کی رقم کرنے کا کوئی فیصلہ نہ ہو سکا، سنٹرل کنٹریکٹ کا حصہ بننے کے لیے کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے ساتھ فٹنس ٹیسٹ بھی پاس کرنا ہوگا
کھلاڑیوں کو غیر ملکی لیگ کھیلنے کے این او سی کے حصول کے لیے پی سی بی کے واضع کردہ طریقہ کار پر پورا اترنا ہوگا، چیئرمین محسن نقوی نے ڈسپلن پر بھی کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ، نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی لاگو، گروپنگ کرنے والے کھلاڑیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس میں لاہور اور کراچی کے بعد اسلام آباد اور پشاور میں بھی ہائی پرفارمنس سنٹرز بنائے جانے کی منظوری دی گئی، شاہینز اور انڈر 19 ٹیموں کے ساتھ ساتھ وویمنز کرکٹ ٹیم کو بہتر بنانے اور سنٹرل کنٹریکٹ پر نظر ثانی کے حوالے سے ٹاسک دے دیئے گئے۔

Back to top button