دل کےامراض سے بچنےکیلئےورزش ضروری قرار

دل کی بے قاعدہ دھڑکن ایک بہت عام مسئلہ ہےجس سےہارٹ اٹیک،فالج اور دیگر سنگین پیچیدگیوں کاخطرہ بڑھتاہے۔
مگر ہر ہفتےایک گھنٹے ورزش سےآپ بےقاعدہ دھڑکن سے متاثر ہونے کا خطرہ 11فیصد تک کم کرسکتےہیں۔یہ بات امریکا میں ہونےوالی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
نیویارک یونیورسٹی کی تحقیق میں6ہزار سےزائد افرادکےڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔
ان افراد کی جسمانی سرگرمیوں کا جائزہ فٹنس ٹریکرکےذریعے ایک سال تک لیا گیا اور یہ دیکھا گیا کہ دل کی دھڑکن کی رفتار پرجسمانی سرگرمیوں سے کس حد تک اثرات مرتب ہوئے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہرہفتےجسمانی سرگرمیوں کا وقت جتنا زیادہ ہوگا، دل کی بے قاعدہ دھڑکن کےمسئلےکاخطرہ اتنا گھٹ جائے گا۔
درحقیقت معتدل ورزشوں جیسےتیز رفتاری سے چہل قدمی یا گھر کی صفائی سے بھی اس عام عارضہ قلب کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق جوافراد ہر ہفتےڈھائی سے5 گھنٹے جسمانی طور پر سرگرم رہتے ہیں، ان میں دل کی دھڑکن کی رفتار میں بےقاعدگی کا خطرہ 60فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ ضرورت نہیں کہ آپ اچانک اٹھ کرجم جاناشروع کر دیں بلکہ عام جسمانی سرگرمیوں سے بھی آپ اپنےدل کوصحت مند رکھ سکتے ہیں۔انہوں نےمزید بتایا کہ نتائج سے واضح ہوتاہے کہ ورزش کومعمول بنانے سے آپ اپنے دل سمیت جسمانی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
خیال رہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیادہ اموات امراض قلب کےنتیجے میں ہوتی ہیں۔
دل کی صحت سےجڑےمسائل بشمول ہارٹ اٹیک،دل کی دھڑکن کی رفتار میں بے ترتیبی یااس عضوکےمختلف حصوں کو پہنچنےوالےہرقسم کے نقصان کےلیے امراض قلب کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیاہےکہ ایسا تصورکیاجاتا ہے کہ امراض قلب کاسامنابڑھاپے یا کم از کم درمیانی عمر میں ہوتا ہے۔
مگرحالیہ برسوں میں جوان افراد میں دل کےامراض کی شرح میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔
