نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس کیلئے حکومتی کوششیں ناکام ہونے کا خدشہ

حکومت کی جانب سے مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کیلئے کاوشیں ناکام ہونے کا خدشہ ہے۔

مسلم لیگ نواز کے اندرونی ذرائع سے معلوم ہوا کہ حکومت نے جس قسم کی تفصیلی میڈیکل رپورٹس مانگی ہیں وہ شاید دستیاب نہ ہو سکیں، سابق وزیراعظم کو ابھی تک کسی ایسے طریقہ کار سے گزرنا باقی ہے جو انہیں ڈاکٹروں نے تجویز کیا تھا۔

سابق وزیراعظم کو دل کے نئے طریقہ کار سے گزرنے کا مشورہ دیا گیا تھا جو خطرے سے خالی نہیں ہے، اس مسئلے کو کووڈ 19 نے مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

غیرملکی فنڈنگ کیس میں حکومتی وکیل کی دلائل دینے سے معذرت

تاہم ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق نواز شریف کے پاس علاج کے لیے کافی وقت ہے چاہے کووڈ ہو یا نہیں، اگر وہ دو سال تک صرف دواؤں پر زندہ رہیں تو پاکستان واپس آنے کیلئے ٹھیک ہے۔

پنجاب کی وزیر صحت اس سارے عمل کا ایک اہم حصہ رہی ہیں جس میں نواز شریف کو علاج کے لیے جاتے ہوئے دیکھا اور بعد میں اس اُمید پر ان کی حالت پر نظر رکھے ہوئے تھیں کہ وہ پاکستانی عدالتوں میں اپنے خلاف الزامات کا سامنا کرنے کے لیے واپس آ سکیں گے۔

Back to top button