پاکستان امریکہ سے دوستی کر کے ایک اہم عالمی پلیئر کیسے بنا؟

معروف امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ سیٹ اپ نے کمال کی سفارت کاری دکھاتے ہوئے امریکی صدر کی مدد سے بھارت کو آئسولیٹ کرتے ہوئے اپنے لیے ایک خاص جگہ بنا لی ہے۔ لیکن پاکستان کے لیے ایسا کرنا اس لیے ممکن ہوا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور صدارت میں امریکی سفارت کاری کے اصول بدل دیے جن سے اسلام آباد نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔
سی این این نے ایک خصوصی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ جنگ بندی کے بعد عالمی رہنماؤں کے سامنے ٹرمپ نے آرمی چیف سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار دیا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کو اظہار خیال کرنے کا موقع دیا تو انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ایک بار پھر صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کریں گے۔ صرف ایک سال قبل تک ایسے مناظر کا تصور بھی مشکل تھا کیونکہ واشنگٹن نے طویل عرصے تک پاکستان سے فاصلہ رکھا ہوا تھا، پاکستان کی امریکہ سے دوری کی سب سے بڑی وجہ اس کا چین کا حلیف ہونا تھا جو کہ امریکی مفادات کے لیے چیلنج تھا۔
سی این این کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ سے قبل سابق امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنی صدارت کے دوران پاکستان کے کسی بھی وزیراعظم سے رابطہ نہیں کیا۔ سال 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد بائیڈن نے پاکستان کو دنیا کا خطرناک ملک قرار دے کر مزید دوریاں پیدا کیں، لیکن ٹرمپ جب دوسری بار اقتدار میں آئے تو انہوں نے امریکی سفارت کاری کے اصول بدل دیے۔ اب مودی جیسے پرانے دوست ٹرمپ سے دور ہو گئے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ان کے قریب ہو گئے۔ پاکستان نے امریکہ سے بھارتی دوری کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ پاکستانی قیادت کو وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کیا گیا اور اُسے وہ تلخ باتیں سننے کو بھی نہیں ملی ہیں جو ٹرمپ دیگر عالمی رہنماؤں سے کرتے ہیں۔
پاکستان اور امریکہ کے بہتر تعلقات کے نتیجے میں امریکی دفاعی کمپنی ریتھیون کو اجازت مل گئی کہ وہ پاکستان کو ایمریم میزائل فروخت کرے۔ اسکے علاوہ پاکستان نے درآمدی ٹیرف پر بھی کامیاب مذاکرات کیے اور بھارت سمیت اپنے دیگر ہمسائیوں کے مقابلے میں کم ٹیرف حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سب پاکستان نے دو طریقوں سے حاصل کیا ہے، ایک تو اس نے امریکہ کو قیمتی معدنیات تک رسائی کی پیشکش کی اور دوسرا صدر ٹرمپ کی امن کی لیے کوششوں کو مسلسل سراہا۔ سی این این کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سفارت کاری کو جہاں اندرون ملک خوب سراہا جا رہا ہے، وہیں مسلسل نظر انداز کیے جانے پر بھارت میں صدر ٹرمپ کیخلاف غصے کی لہر چل رہی ہے، یاد رہے کہ انڈیا کو صدر ٹرمپ کی ناراضی کے باعث روسی تیل کی خریداری پر بھاری امریکی ٹیرف کا سامنا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان ان بڑھتے ہوئے تعلقات میں اہم کردار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ہے جو کہ مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعد سے عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ اس جنگ کے دوران دنیا کو خدشہ ہوا کہ یہ لڑائی جوہری جنگ میں بھی بدل سکتی ہے، جس پر ٹرمپ نے دونوں ممالک کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ جب یہ جنگ بندی ہوئی تو انہوں نے اس کا سہرا اپنے سر لیا اور پاکستان نے بھی اس دعوے کی بھرپور توثیق کی اور ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔دوسری جانب مودی نے سیاسی مصلحتوں کے تحت اس حقیقت سے ہی انکار کر دیا کہ صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بندی میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔
چنانچہ ٹرمپ نریندرا مودی سے سخت ناراض ہیں اور انڈیا کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے مئی کی جنگ میں بھارتی فضائیہ کے 7 طیارے مار گرائے تھے، صدر ٹرمپ یہ بات درجنوں مرتبہ دہرا چکے ہیں لیکن بھارت نے کبھی اس کی تصدیق نہیں کی۔
پاک افغان جنگ بندی زیادہ عرصہ کیوں نہیں چل پائے گی؟
امریکا میں مقیم پاکستانی مصنف اور تجزیہ کار شجاع نواز نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ کو فاتح پسند ہیں اور وہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ انہیں ہارنے والے پسند نہیں ہیں، غالباً انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر میں ایک ایسا فاتح دیکھا ہے جو فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایشیا پیسیفک فاؤنڈیشن کے سینیئر فیلو مائیکل کوگلمین کے مطابق موجودہ عالمی صورتحال پاکستان کے لیے فائدہ مند ہے، خاص طور پر اسکے جغرافیائی محل وقوع اور خطے کے اہم فریقوں کے ساتھ قریبی روابط کے باعث۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ نسبتاً ہموار سفارتی پالیسی نے بھی امریکا کی نظر میں پاکستان کو اہم کھلاڑی بنا دیا ہے جو واشنگٹن کا پیغام تہران تک پہنچا سکتا ہے۔یاد رہے کہ پاکستان ماضی میں بھی امریکا کے لیے سفارتی ثالث کا کردار ادا کر چکا ہے۔ 1971 میں پاکستان نے ہی سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے خفیہ دورہ چین کا بندوبست کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں امریکا اور چین کے تعلقات معمول پر آئے تھے۔
