کیا ٹیکسز کی ادائیگی کے بغیر نان PTA موبائل فونز کا استعمال ممکن ہے؟

 

 

 

پاکستانی موبائل مکینیکس نے بھاری ٹیکسز کے ادائیگی کے بعد جگاڑ لگا کر نان پی ٹی اے موبائل فونز میں سمز کا استعمال ممکن بنا دیا تاہم ماہرین کے مطابق مارکیٹس میں سامنے آنے والے ’’جگاڑ‘‘ دراصل مختلف غیر منظور شدہ سافٹ ویئر یا ہارڈویئر طریقوں کا مجموعہ ہے جن کے ذریعے فون عارضی طور پر نیٹ ورک پر کام کرنے لگتا ہے۔ بظاہر یہ صارف کے مسئلے کا حل معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ انتہائی غیر محفوظ اور غیر قانونی طریقہ ہے۔ ایک چھوٹا سا اپڈیٹ یا نیٹ ورک پالیسی کی تبدیلی دوبارہ فون کو بلاک کر سکتی ہے جبکہ ایسے سافٹ ویئرز کے استعمال سے جہاں فون کی سکیورٹی متاثر ہوتی ہے وہیں آپ کے ذاتی ڈیٹا یا بینکنگ معلومات کے لیک ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

 

خیال رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر سمگل شدہ موبائل فونز کا استعمال ممنوع ہے اگر کوئی شخص یہ موبائل فون استعمال کرتا بھی ہے تو ٹیکس کی ادائیگی تک ان میں ڈالی جانے والے موبائل سم نان ورکنگ رہتی ہے۔ حکومت کی جانب سے سمگلڈ موبائل فونز پر ٹیکسز کی ادائیگی کر کے انھیں قابل استعمال بنانے کیلئے ڈیوائس رجسٹریشن سسٹم متعارف کروایا گیا تھا تاکہ جعلی اور سمگل شدہ فونز کی حوصلہ شکنی کے ساتھ ساتھ صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ بنایا جا سکے۔ تاہم ملکی معاشی حالات اور ٹیکسز کے بوجھ نے صارفین کے لیے رجسٹرڈ فون خریدنا یا موبائل فونز کو ٹیکس ادا کر کے رجسٹر کروانا مشکل بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں سستے نان پی ٹی اے فونز کی مانگ بڑھ گئی ہے جنہیں اب مارکیٹ میں موجود موبائل مکینکس نے مختلف غیر رسمی طریقوں سے سم کے لئے بھی قابل استعمال بنانا شروع کر دیا ہے۔ صارفین بھی فوری ضرورت کے تحت ان شارٹ کٹس طریقوں کو ترجیح دیتے دکھائی دیتے ہیں تاکہ بھاری ٹیکسز کی ادائیگی کئے بغیر سستے موبائل فونز کا استعمال ممکن بنایا جا سکے۔

 

واضح رہے کہ مارکیٹس میں اس وقت تین طرح کے موبائل فون فروخت ہوتے دکھائی دیتے ہیں ایک موبائل فون وہ ہیں جو نہ صرف پی ٹی اے سے منظور شدہ ہوتے ہیں بلکہ ان کی ٹیکسز کی ادائیگی بارے بھی کوئی ایشو نہیں ہوتا، دوسری طرح کے فروخت ہونے والے موبائل فون جے وی یا کلونڈ فونز کہلاتے ہیں جن میں آئی ایم ای آئی یا دوسرے کسی طریقے سے قابل استعمال بنایا جاتا ہے جبکہ تیسری قسم کے موبائل فونز نان پی ٹی اے فونز ہوتے ہیں جن میں موبائل سم تو استعمال نہیں کی جا سکتی البتہ وائی فائی پر وہ مکمل قابل استعمال ہوتے ہیں تاہم گزشتہ چند روز میں سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں کچھ دکاندار سمیت عام صارفین یہ دعویٰ کرتے نظر آ رہے ہیں کہ اب نان پی ٹی اے آئی فونز کو ٹیکسز کی ادائیگی کے بغیر سم کیلے قابل استعمال بنانا بھی ممکن ہو گیا ہے۔ مختلف کنٹینٹ کریئٹرز اس حوالے سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے منفرد حربے دکھاتے بھی پائے گئے کہ نان پی ٹی اے فونز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے کیسے سم چلائی جا سکتی ہے۔

 

موبائل مارکیٹس میں سافٹ ویئرز کا کام کرنے والے متعدد دکاندار بھی ڈھکے چھپے انداز میں یہ دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہمیں تھوڑی سی رقم ادا کریں اور ہم آپ کے نان پی ٹی اے فونز میں بغیر کوئی پیچ یا کلون کیے سم چلا دیں گے۔اسے عام فہم زبان میں لوگ ’جگاڑ‘ کا نام دیتے ہیں مگر واضح رہے ان طریقوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر کچھ سیکنڈز کے لیے کسی نان پی ٹی اے فون نے گلچ کے ذریعے سگنل پکڑ بھی لیے تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ اس میں میسجز کالز یا موبائل ڈیٹا کام کرتا رہے گا۔

 

 

تاہم ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کوئی بھی ہو جب بھی اس کا استعمال کیا جائے یا چھیڑ چھاڑ کی جائے تو امکانات ہوتے ہیں کہ ان میں کسی قسم کا گلِچ آ جائے اور سم چلنے بھی لگے مگر اس بنا پر یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ نان پی ٹی اے فونز میں سم مستقل طور پر چلانی ممکن ہے کیونکہ جب بھی اس کے حوالے سے اپ ڈیٹ آئے گی موبائل فون میں سم کام کرنا چھوڑ دے گی۔

 

دوسری جانب پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی بار بار اپنی آگاہی مہم میں اعلان کر چکی ہے کہ فون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا اور ان کے آئی ایم ای آئز میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا جرم ہے۔ اس حوالے سے جے وی اور کلونڈ فون بیچنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائیاں بھی ہوتی رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر نان پی ٹی اے موبائل فونز میں سم کے چلنے کے حوالے سے پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر کیے جانے والے یہ تمام دعوے جھوٹے ہیں،ٹیکنالوجی میں گلچ ہو جانا معمولی بات ہے مگر اس پر کوئی حتمی نتیجہ اخذ کر لینا غلط ہے۔ موبائل فون میں ٹیکنیکل خرابی پیدا کر کے اس میں وقتی طور پر تو سم کا چلانا ممکن ہے تاہم نان پی ٹی اے موبائل فون کو ٹیکسز کے ادائیگی کے بغیر صرف جگاڑ سے مستقل طور پر سم کیلئے قابل استعمال بنانا ممکن نہیں۔

 

Back to top button