کیا شہباز حکومت کیخلاف مولانا پی ٹی آئی سے ہاتھ ملائیں گے؟

شہباز شریف کی ڈیڑھ ماہ سے کم مدت کی نوزائیدہ حکومت جہاں ایک طرف معاشی بحران سے دوچار ہے وہیں دوسری طرف پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن میں شامل سیاسی جماعتوں نے حکومت کے خلاف طبل جنگ بجا دیا ہے اور مبینہ الیکشن دھاندلی کو جواز بناتے ہوئے ملک بھر میں بحالی آئین تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن کے احتجاجی تحریک شروع کرنے کے اعلان نے بحرانوں میں گھری شہباز حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔تاہم مبصرین  کا ماننا ہے کہ جے یو آئی کی تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک میں عدم شمولیت اور سولو فلائٹ سے جہاں شہباز حکومت کو ریلیف ملے گا وہیں حکومت کیلئے اپوزیشن کی احتجاجی تحریک سے نمٹنا بھی آسان ہو گا۔

خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 4 مارچ کو اپنے منصب کا حلف اٹھایا تھا، ان کی حکومت کا دورانیہ محض 50 سے بھی کم دنوں پر محیط ہے لیکن اس مختصر دورانیے میں جتنی تیزی سے حکومت نے کام شروع کیا حالات و واقعات میں تبدیلیاں ہوئیں، خوش آئند فیصلے، اقدامات ہوئے اور ناخوشگوار واقعات سامنے آئے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اس عرصے میں سابق وزیراعظم شہباز شریف ہی نہیں بلکہ سابق صدر آصف علی زرداری بھی دوسری مرتبہ صدارت کے منصب پر فائز ہوئے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ ایک خاتون مریم نواز بنیں، نگران حکومت میں شامل رہنے والے عوام کی منتخب حکومت میں بھی پہلی مرتبہ شامل ہوئے۔نہ صرف جماعتی شناخت سے محروم شخصیات بلامقابلہ ایوان بالا میں پہنچیں بلکہ وہ اہم وزارتیں حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہیں۔

دوسری جانب تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کی خواہش لیکر وطن واپس آنے والے میاں نواز شریف ابھی تک سیاسی کسمپرسی اور غیر یقینی صورتحال کے عالم میں ہیں، پھر ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات مہنگائی کا پھلتا پھولتا عفریت خارجی امور کے پاکستان کی داخلی صورتحال پر اثرات غرض حالات وحادثات اور واقعات کا ایک ایسا انبوہ ہے جس کی روانی میں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ مختصر دورانیے کی حکومت ہے بلکہ موجودہ صورتحال میں اس پر کئی سالوں کی ایسی حکومت کا گمان ہوتا ہے جو مسلسل بحرانوں کا شکار ہے۔ دوسری طرف یہ بات بھی لمحہ فکریہ سے کم نہیں کہ سیاسی طور پر اس نوزائیدہ حکومت جو ابھی تک پوری طرح سنبھلی بھی نہیں کے خلاف اپوزیشن نے باضابطہ طور پر احتجاجی تحریک بھی شروع کردی ہے۔ قومی سطح کی سیاسی جماعتوں نے پہلی مرتبہ کسی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کامایوس کن آغاز بلوچستان سے کیا ہے۔

خیال رہے کہ ملک بھر میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو متعدد سیاسی جماعتوں نے تسلیم نہیں کیا تھا اور پاکستان تحریک انصاف، جمیعت علما اسلام، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتوں نے شروع دن سے انتخابی نتائج کو قبول نہ کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

ماہ رمضان میں دیگر سیاسی جماعتوں نے احتجاج تو نہیں کیا تاہم پی ٹی آئی نے ماہ رمضان میں بھی احتجاج جاری رکھا، تمام بڑے شہروں میں ہفتے میں ایک مرتبہ احتجاجی ریلی نکالی جاتی تھی، اس دوران پی ٹی آئی رہنما اور کارکنان چوری کیا گیا اپنا مینڈیٹ واپس دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔

جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ماہ رمضان کے شروع میں ہی عمرے کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب روانہ ہو گئے تھے اور ان کی پارٹی نے عید کے بعد ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی نے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد سے ہی احتجاج شروع کر دئیے تھے، جماعت اسلامی کراچی اور اسلام آباد میں بڑے احتجاجی جلسے کرچکی ہے، جبکہ ماہ رمضان میں جماعت اسلامی نے انتخابی نتائج کے خلاف کوئی بڑا احتجاج نہیں کیا تاہم اعلانات کے مطابق عید کے بعد جماعت اسلامی ایک مرتبہ پھر سے میدان میں نظر آئےگی۔

واضح رہے کہ ماہ رمضان میں اپوزیشن جماعتوں کا انتخابات کے نتائج کے خلاف ہونے والا احتجاج کافی ٹھنڈا رہا تاہم تمام اپوزیشن جماعتوں نے عید کے بعد نئے سرے سے احتجاج کی تیاری کر رکھی ہے، اس سلسلے میں بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی ایک بیٹھک بھی ہو چکی ہے جس میں عید کے بعد مل کر احتجاج کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کا دعوٰی ہے کہ ان سے قومی اسمبلی کی 100 سے زیادہ نشستیں چھینی گئی ہیں، اس لیے پی ٹی آئی کے احتجاج میں شدت بھی سب سے زیادہ نظر آئے گی۔ پی ٹی آئی نے تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے، اس لیے اس احتجاج سے حکومت کو ٹف ٹائم ملنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب جمعیت علما اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ملین مارچ اور ملک گیر احتجاج کی تیاری شروع کردی ہے اور ساتھ ہی انہوں نے مرکز میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی ساتھ لے کر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ پشین میں ہونے والے تحریک انصاف کے جلسے میں مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف مولانا ڈیزل کی نعرے بازی کے بعد دونوں جماعتوں کا مل کر آگے بڑھنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ تحریک انصاف اور جے یو آئی میں عدم اتفاق شہباز حکومت کیلئے فائدہ مند ثابت ہو گا۔

تاہم مبصرین کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں اپوزیشن جماعتوں کے ہونے والے احتجاج سے حکومت وقت کو بہت نقصان پہنچتا ہے، اس احتجاج کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں تاہم احتجاج اپوزیشن جماعتوں کا حق ہے اور وہ اسے استعمال کرتے ہیں۔ اگر اپوزیشن جماعتیں الگ الگ اپنے ایجنڈے کے تحت احتجاج کریں تو ہو سکتا ہے کہ حکومت کو زیادہ ٹف ٹائم نہ ملے تاہم اگر پی ٹی آئی، جے یو آئی اور جماعت اسلامی نے مل کر سڑکوں پر احتجاج شروع کردیا تو حکومت کو بہت ٹف ٹائم ملے گا۔

Back to top button