کیا پاکستان کی مدد کرنے والی 4 کمپنیوں پر پابندی کی وجہ ایران ہے؟

فلسطین کے خلاف جاری خون آشام جنگ میں اسرائیل کو تین ارب ڈالرز سے زائد مالیت کا اسلحہ فراہم کرنے والے امریکہ کی جانب سے پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی میں معاونت فراہم کرنے پر چار بین الاقوامی کمپنیوں کو بین کرنے کا فیصلہ شدید تنقید کی زد میں ہے اور اسے ڈبل سٹینڈرز پر مبنی امریکی منافقت قرار دیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ امریکہ نے حال ہی میں چین کی تین اور بیلاروس کی ایک کمپنی پر پاکستانی میزائل پروگرام کی تیاری میں تعاون کے الزام پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پابندیوں کی بنیادی وجہ امریکہ کا یہ الزام یے کہ چار پاکستانی شہریوں نے ماضی قریب میں ایرانی میزائل کے پرزے حوثی باغیوں کو پہنچائے تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو مِلر کی جانب سے جاری سرکاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’امریکہ ان چار کمپنیوں کو نامزد کر رہا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان کی ترسیل میں ملوث رہے ہیں۔ امریکہ تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف کارروائی کرتا رہے گا۔‘ واضح رہے کہ اب تک خود امریکہ نے اسرائیل کو غزہ میں جنگ کے لیے تین ارب ڈالرز سے زیادہ کے ہتھیار مہیا کیے ہیں جس کے نتیجے میں 35 ہزار کے قریب نہتے فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکی ایکشن کے بعد کہا تھا کہ اسلام آباد امریکہ کے حالیہ اقدامات کے حوالے سے آگاہ نہیں تاہم ماضی میں ’محض شک کی بنیاد پر فہرست جاری کی گئی یا پھر ان میں شامل اشیا کنٹرول لسٹ میں شامل بھی نہیں تھیں مگر انھیں حساس سمجھا گیا۔‘ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے برآمدی پابندیوں کے استعمال کو مسترد کرتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ایک فیکٹ شیٹ بھی جاری کی گئی جس کے مطابق امریکہ نے چین میں قائم شیان لونگڈے ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ پر پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کی تیاری کے لیے پرزے اور آلات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس میں فلیمینٹ وائنڈنگ مشین بھی شامل ہے۔ بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ وائنڈنگ مشین کو راکٹ موٹر کیسز تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

تیانجِن کری ایٹو انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کو آلات فرام کیے ہیں۔۔ امریکہ کے مطابق سپیس لانچ وہیکل میں استعمال ہونے والے ٹینکوں کی تیاری میں بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ امریکی فیکٹ شیٹ میں چین کی گرانپیکٹ کمپنی لمیٹڈ پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ کمپنی پاکستان کی خلائی تحقیق کے ادارے سپارکو کے ساتھ مل کر راکٹ موٹروں کی جانچ پڑتال میں معاون آلات کی فراہمی میں ملوث پائی گئی ہے۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ یہی کمپنی پاکستان کو بڑی راکٹ موٹرز آزمانے کے لیے پرزے فراہم کرتی رہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ایم ٹی سی آر کیٹگری ون بیلسٹک میزائل کی پروڈکشن کی جاتی ہے۔ فیکٹ شیٹ کے مطابق بیلاروس میں قائم مِنسک وہیل ٹریکٹر پلانٹ نے پاکستان کو بیلسٹِک میزائل پروگرام کے لیے خصوصی گاڑیوں کے چیسس فراہم کیے ہیں۔ یہ چیسس بیلسٹک میزائل کے لانچ سپورٹ پروگرام میں کام آتا ہے۔ جسے پاکستان کے نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس کو فراہم کیا گیا تھا۔لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ان چار کمپنیوں پر یہ پابندی اب کیوں عائد کی جا رہی ہے؟ امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں اس کا سادہ سا جواب یہ دیا گیا ہے کہ امریکہ دنیا میں تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی روک تھام کرنا چاہتا ہے جس کے نتیجے میں یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ماضی میں بھی بغیر شواہد فراہم کیے ایسی نجی کمپنیوں پر پابندیاں لگائی جاتی رہی ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر الزامات بھی۔ انکا کہنا تھا کہ ’ہمیں امریکہ کی جانب سے لیے گئے حالیہ اقدامات کی مخصوص تفصیلات کا علم نہیں ہے لیکن ماضی میں ہمیں ایسے متعدد مواقع پر دیکھنے کو ملا ہے کہ شکوک کی بنیاد پر اور ایسے موقعوں پر جب مذکورہ اشیا کسی کنٹرول لسٹ کا حصہ نہیں تھیں لیکن انھیں حساس نوعیت کا سمجھ کر پابندیاں لگائی جاتی رہی ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ پاکستان برآمدات پر پابندیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے معاملے کو مسترد کرتا ہے۔ ’یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی ادارے، جو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے والے قواعد کے کڑے استعمال کا دعویٰ کرتے ہیں، نے کچھ ممالک کی جدید فوجی ٹیکنالوجیز کی لائسنسنگ کی ضرورت کو ختم کر رکھا ہے۔ ’اس کے باعث ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ، خطوں میں موجود ممالک کی طاقت میں عدم توازن اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے مقاصد اور خطے اور دنیا بھر کا امن اور سلامتی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔‘

ادھر سکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کچھ اور ہی کہتے ہیں۔دفاعی امور کے ماہر سیّد محمد علی نے کہا یہ افسوس کی بات ہے کہ دنیا بھر میں عالمی قانون، عالمی ادارے اور عالمی ٹیکنالوجی تک رسائی جیو پولٹکس کے زیرِ اثر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’چین کی معاشی ایکسپنشن اور وسعت کو روکنے یا محدود رکھنے کی مغربی ممالک کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔‘ ’ان پابندیوں کے بعد ان الزامات کو چیلنج کرنے، اس کا جواب دینے یا پھر اس کی قانونی چارہ جوئی کی تمام تر ذمہ داری ان چینی کمپنیوں پر ہے جن پر یہ الزامات لگائے گئے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’دوسری جانب پاکستان کا کئی دہائیوں سے یہی جواب رہا ہے کہ اسکے سٹریٹیجک پروگرامز پاکستان کے مقامی وسائل سے تیار کیے گئے ہیں۔‘ اگر امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ شیٹ پر نظر ڈالیں تو اس میں سخت پابندیاں لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان چار کمپنیوں کے امریکہ میں موجود یا امریکی افراد کی تحویل میں موجود تمام تر اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔ ان کمپنیوں کی ملکیت رکھنے والے افراد کے امریکہ میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی جائے گی۔ اور امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے روک دیا جائے گا۔ تاہم صحافی اور تجزیہ کار اعزاز سیّد نے بتایا کہ اس پابندی کی ایک وجہ رواں سال فروری میں سامنے آنے والی ایک خبر سے بھی جڑی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’چار پاکستانی شہریوں پر امریکی افسران نے ایرانی میزائل کے پرزے حوثی باغیوں کو پہنچانے کا الزام عائد کیا تھا۔ محمد پہلوان نامی اس شخص پر یہ الزام فروری میں لگایا گیا تھا جبکہ اس کی گرفتاری جنوری میں ایک آپریشن کے دوران ہوئی تھی۔‘

تفصیلات کے مطابق، امریکہ کی جانب سے یہ آپریشن جنوری کے اوائل میں کیا گیا تھا جس کے دوران دو نیوی سیلز ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد امریکہ کی فیڈرل کورٹ میں یہ دلائل دیے گئے تھے کہ پاکستانی شہری محمد پہلوان، جو کہ اس واقعے کے اہم ملزم ہیں، ان کو ہتھیار پہنچانے پر 20 سال کی سزا اور کوسٹ گارڈ سے جھوٹ بولنے پر مزید پانچ سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ حوثی باغیوں کو مبینہ طور پر ایرانی میزائل بحیرہ احمر کے ذریعے ملتے رہے ہیں۔ امریکہ کے محکمۂ انصاف نے کہا ہے کہ یہ ہتھیار یا میزائل مبینہ طور پر امریکی جہاز پر ہونے والے حالیہ حملوں میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ رواں سال جنوری سے اس آپریشن کو جاری رکھا ہوا ہے تاکہ حوثی باغیوں کی کسی قسم کی مدد نہ ہوسکے۔

Back to top button