سوشل میڈیا پوسٹ پر لڑائی اور پھر صلح، ’جعلی ہے، سب جھوٹ ہوتا ہے‘

رمضان کا مہینہ محبتیں بانٹنے اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا پیغام دیتا ہے، آپس کی تخلیوں کو مٹا کر ایک دوسرے کو معاف کرنے کی مثال اداکار فیروز خان نے بھی قائم کی۔
ماہ صیام کے ابتدا میں ہی فیروز خان نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر ساتھی فنکاروں سے معافی مانگی اور خاص طور پر اداکار منیب بٹ سے صلح کر لی جس نے مداحوں کے دل جیت لیے۔
فیروز خان نے اپنی ایک پوسٹ میں پہلے لکھا ’17 جنوری کو میری پرانی لیگل ٹیم نے ایک لیگل نوٹس کا ڈرافٹ تیار کیا جو میں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کردیا۔ اور اس بات کا خیال نہیں کہ لیگل نوٹس جن لوگوں کو بھیجا گیا اس میں ان کی ذاتی معلومات بھی موجود ہیں۔ جیسے ہی مجھے اس بات کا احساس ہوا میں نے چند منٹوں میں پوسٹ ڈیلیٹ کر دی۔‘
فیروز خان نے مزید لکھا ’لیکن اس کی وجہ سے میرے کولیگز کی پرائیوسی کو نقصان پہنچا۔ بحثیت اداکار میں جانتا ہوں کہ پرائیوسی کی کیا اہمیت ہے۔ میرا یہ ارادہ بالکل بھی نہیں تھا کہ میرے کولیگز اس کی وجہ سے ڈسٹرب ہوں، میں اس بات پر دل کی گہرائی سے معافی مانگتا ہوں۔‘

یہی نہیں بلکہ اداکار منیب بٹ نے فیروز خان کے ساتھ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ فیروز خان کا ارادہ انہیں یا ان کے خاندان کو تکلیف دینا نہیں تھا، یہ صرف ایک فہمی غلطی تھی اور وہ فیروز خان کے خلاف تمام الزامات کو واپس لیتے ہیں۔
اداکار کی اہلیہ ایمن خان اور ان کی بہن منال خان نے منیب بٹ کے بیان کی تائید کرتے ہوئے فیروز خان سے صلح کر لی اور یوں سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی لڑائی سوشل میڈیا کی ہی ایک پوسٹ سے کچھ حد تک تھم گئی۔
گزشتہ دنوں اداکار محسن عباس حیدر نے ایک ٹاک شو میں سوشل میڈیا کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا جعلی ہے، اس پر سب کچھ جھوٹ ہوتا ہے۔اداکار کے مطابق سوشل میڈیا کی وجہ سے بہت سے گھر اور زندگیاں تباہ ہوچکی ہیں کیونکہ لوگ اس پر اپنی زندگی کا صرف اچھا پہلو دکھاتے ہیں، اپنی ناکامیوں کو چھپا کر وہ صرف اچھی چیزیں ہی سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔
محسن عباس حیدر نے کہا کہ اس منظر کشی کی وجہ سے لوگوں کے گھر تباہ ہو رہے ہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر لوگ سوشل میڈیا پر اپنی اصل زندگی کو دکھا دیں تو اس سےعوام کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
یاد رہے کہ محسن عباس حیدر کو بھی فیروز خان جیسے حالات کا سامنا 2019 میں کرنا پڑا تھا جب ان کی سابقہ اہلیہ کی جانب سے ان پر گھریلو تشدد جیسے الزامات لگائے گئے تھے۔

وائٹ ہائوس سمیت نامور شخصیات نے ٹوئیٹر کو نہ کر دی

Back to top button