کفایت شعاری کی دعویدار کپتان حکومت کی عیاشیاں

2018 میں اقتدار سونپے جانے کے بعد کفایت شعاری اور سادگی اپنانے کے دعوے کرنے والے وزیراعظم عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کی لگژری گاڑیاں اور بھینسیں تک فروخت کر دیں تھیں، لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ یہ سب ڈھکوسلہ تھا اور اس کا مقصد عوام کو ماموں بنانا تھا۔

اب وزیراعظم کے احکامات پر سینکڑوں نئی لگژری کاریں خریدنے کا انکشاف ہوا ہے جو کہ ایسے وزراء اور حکومتی مشیروں کو بھی فراہم کر دی گئی ہیں جن کے پاس کوئی وزارت اور محکمہ بھی نہیں۔ اب قومی اسمبلی کی

قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن نے ان فضول خرچیوں کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ اردو نیوز کے مطابق حال ہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ کابینہ میں شامل 11 مشیران اور معاونین خصوصی ایسے ہیں, جن کے پاس کسی وزارت کا قلمدان نہیں ہے تاہم انہیں کابینہ ڈویژن نے 1800 سی سی کی نئی لگثری گاڑیاں دے رکھی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سال میں ان وزرا کے زیر استعمال گاڑیوں کے پیٹرول اور مینٹینینس پر تین کروڑ

66 لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ کابینہ ڈویژن کے حکام نے کابینہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ اس وقت اسکے پاس عمومی استعمال میں 30 گاڑیاں ہیں جن میں 800 سی سی کلٹس سے لے کر 1600 سی تک کی کاریں، جبکہ 2800 سی سی اور 3600 سی سی کی کوسٹرز ہیں۔ کابینہ ڈویژن کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق 1800 سی سی کی 11 لگژری کاریں مشیران اور معاونین خصوصی کے زیر استعمال ہیں جن کے پاس وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کا عہدہ تو ہے لیکن ان کے پاس کسی وزارت کا قلمدان یا کوئی محکمہ بھی نہیں ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ جب کسی مشیر یا معاون خصوصی کو کسی وزارت یا ڈویژن کا قلمدان مل جاتا ہے تو اسے اپنی وزارت کی جانب سے کار مہیا ہو جاتی ہے، تاہم جن کے پاس کوئی وزارت نہیں ہوتی انہیں کابینہ ڈویژن کی جانب سے گاڑی فراہم کی جاتی ہے۔ جب کابینہ کمیٹی کے اراکین نے استفسار کیا کہ یہ گاڑیاں کون سی شخصیات کے زیر استعمال ہیں تو کابینہ ڈویژن کی جانب سے تفصیل فراہم کرنے سے معذرت کر لی گئی۔

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سربراہ سانحہ مری کے ذمہ دار قرار

تاہم کابینہ ڈویژن کی ویب سائٹ پر موجود مشیران اور معاونین خصوصی کی لسٹ پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جن کے پاس اس وقت تک کوئی قلمدان نہیں ہے ان میں سردار یار محمد رند، ڈاکٹر شہباز گل، ملک عامر ڈوگر، عثمان ڈار، نوابزادہ شاہ زین بگٹی، ڈاکٹر ارباب غلام رحیم، ملک خالد منصور، شہزاد نواز، عون عباس بپی اور اعظم جمیل شامل ہیں۔ کمیٹی نے کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں تمام گاڑیوں کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں کہ وہ کس کے استعمال میں ہیں اور مرمت و پیٹرول وغیرہ پر کتنا خرچہ آیا ہے۔

کمیٹی کے استفسار پر کابینہ ڈویژن حکام نے بتایا کہ اس وقت سینٹرل کار پول میں 91 وی وی آئی پی گاڑیاں ہیں۔ یہ گاڑیاں بیرون ملک سے پاکستان کے دورے پر آنے والے سربراہان مملکت و حکومت وزراء اور دیگر وی وی آئی پیز کے لیے کسی بھی متعلقہ وزارت کی درخواست پر فراہم کی جاتی ہیں۔ ان 91 گاڑیوں میں 30 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں۔ حال ہی میں او آئی وزرائے خارجہ اجلاس میں وزارت خارجہ کی درخواست پر یہ گاڑیاں فراہم کی گئی تھیں۔

اس موقع پر انچارج وزیر برائے کابینہ ڈویژن علی محمد خان نے کہا کہ ’میں عموماً بطور وزیر غیر ملکی مہمانوں کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہماری وی وی آئی پیز گاڑیاں کافی پرانی ہیں۔ یہ گاڑیاں اہم ممالک کے سفارت خانے اپنی وی آئی پی شخصیات کے لیے استعمال نہیں کرتے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے اپنے پاس جدید ماڈلز کی گاڑیاں ہوتی ہیں۔ ہماری گاڑیاں پروٹوکول کے طور پر فراہم تو کی جاتی ہیں لیکن عموما وہ ان میں بیٹھتے نہیں ہیں۔ کابینہ کمیٹی نے تمام وی وی آئی پیز کی گاڑیوں، ان کے استعمال اور سابق وزرائے اعظم اور صدور کے زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔

Back to top button