این سی سی آئی اے کا چھاپہ، 6 لاکھ شہریوں کے فنگر پرنٹس، بائیو میٹرک ڈیٹا برآمد

ملک میں شہریوں کے ذاتی اور بائیومیٹرک ڈیٹا کے غیر قانونی استعمال کا انکشاف ہوا ہے، این سی سی آئی اے نے ایک کارروائی کے دوران لاکھوں شہریوں کا حساس ڈیٹا برآمد کرلیا۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دیتےہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایک چھاپے کے دوران ملزمان کے قبضے سے 6 لاکھ شہریوں کے فنگر پرنٹس اور بائیومیٹرک ڈیٹا برآمد ہوا۔
قائمہ کمیٹی کو بتایاگیا کہ فیصل آباد سے گرفتار ایک شخص کے قبضے سے 195 ایکٹو موبائل سمز، 16 سمارٹ فونز اور مختلف بینکوں کے 81 اے ٹی ایم کارڈز بھی برآمد کیے گئے۔
ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کےمطابق چوری شدہ بائیومیٹرک ڈیٹا اور برآمد ہونے والی سمز کے ذریعے شہریوں سے بڑےپیمانے پر مالیاتی فراڈ کیا جارہا تھا۔
چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کمیٹی کو بتایاکہ اب تک دوسروں کے نام پر جاری ایک کروڑ 80 لاکھ جعلی سمز بلاک کی جاچکی ہیں، جب کہ ٹیلی کام کمپنیوں پر مجموعی طور پر ساڑھے 4 ارب روپے کے جرمانے عائد کیےگئے ہیں۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی داخلہ خرم نواز نے اجلاس میں بتایاکہ ہر ہفتے کورئیر کمپنیوں کے نام پر جعل سازوں کی جانب سے شہریوں کو کالز موصول ہوتی ہیں، جب کہ ان کا واٹس ایپ اکاؤنٹ بھی ہیک ہوچکا ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے نے اعتراف کیاکہ موبائل کمپنیوں کے بعض اہلکار بھی صارفین کا ڈیٹا لیک کرنےمیں ملوث ہیں۔راجن پور میں راشن فراہم کرنےکے بہانے ایک خاتون کا انگوٹھا لگوا کر اس کے نام پر سم جاری کی گئی،جو بعد ازاں دہشت گردی کی کارروائی میں استعمال ہوئی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اجلاس کو بتایاکہ پاکستان میں ’’رینٹ اے بینک اکاؤنٹ‘‘ کی ایک نئی سکیم بھی چل رہی ہے،جس میں لوگ رقم کے عوض اپنا بینک اکاؤنٹ دوسرے افراد کو استعمال کرنے کےلیے دےدیتے ہیں۔
نیپال اور تبت میں سیلاب سے اموات کی تعداد 1301 ہوگئی، 5339 افراد تاحال لاپتہ
طلال چوہدری کےمطابق ایسے اکاؤنٹ ہولڈرز کو علم ہوتاہے کہ غیرقانونی سرگرمی سامنے آنے پر انہیں جیل جانا پڑسکتا ہے،تاہم وہ پہلے سےطے شدہ رقم کے عوض اپنا اکاؤنٹ استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
