فواد کی گرفتاری نے پی ٹی آئی کی کمر توڑ دی

عمران خان کے قریبی ساتھی اور پارٹی ترجمان فواد چوہدری کی گرفتاری نے بظاہر پی ٹی آئی کی حکومت مخالف جارحانہ مہم کی کمر توڑ دی ہے کیونکہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب دیگر پی ٹی ائی رہنما خوف یا مصلحت کا کمبل اوڑھے سکون کے مزے لوٹ رہے تھے اور ہر محاذ پر فواد چوہدری ہی حکومت کے خلاف پیش پیش نظر آتے تھے۔ اس سے پہلے ایسا جارحانہ رویہ سینیٹر اعظم سواتی اور عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے اختیار کیا تھا۔ دونوں عمران خان کی پیروی کرتے ہوئے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جوش جذبات میں ریڈ لائن کراس کر گئے۔ چنانچہ انہیں اس عمل کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور گرفتاری کے بعد جیل بھی کاٹنا پڑی۔ جیل یاترا کے بعد شہباز گل کا سافٹ ویئر تو اپ ڈیٹ ہوگیا ہے لیکن اعظم سواتی کا پلگ اب بھی شارٹ ہے اور کبھی کبھی پٹاخا مار جاتا ہے۔ جذبات کی تلاطم خیزی کو اپنے فوج مخالف بیانات سے خطرے کے نشان تک پہنچانے والے عمران کے چکنے ساتھی مراد سعید بھی اپنے خلاف کیسوں کے اندراج کے بعد ٹھنڈے ہو چکے ہیں اور مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری کی گرفتاری کا بنیادی مقصد تحریک انصاف کی قیادت کو یہ پیغام دینا ہے کہ اب ملک میں پی ٹی آئی کی غنڈہ گردی نہیں بلکہ قانون کا ڈنڈا چلے گا اور ریاست کی رٹ کو ہر قیمت پر قائم کیا جائے گا۔ یہ بھی طے کرلیا گیا ہے کہ اب جو بھی شخص الیکشن کمیشن یا فوج کے ادارے کو گالی دے گا اس کا فوری احتساب کیا جائے گا اور اسے نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے دیگر قائدین کی گرفتاریاں بھی متوقع ہیں جن میں فرخ حبیب اور علی امین گنڈاپور سر فہرست ہیں۔ یاد رہے کہ فواد چوہدری کی گرفتاری کے بعد ان کے قافلے کو موٹروے پر روکنے کے جرم میں فرخ حبیب کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کا پرچہ درج ہو چکا ہے اور پولیس ان کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ اسی طرح علی امین گنڈا پور کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا گیا ہے چونکہ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہونے والی ایک ویڈیو میں حکومت اور اداروں کو نہ صرف گالیاں دی ہیں بلکہ دھمکیاں بھی دی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر گرفتار ہونے والوں کی لسٹ میں سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر کے صاحبزادے حماد اظہر کا نام بھی شامل ہے۔

ایسے ماحول میں تحریک انصاف پنجاب کے بیشتر سینئر رہنما خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اعجاز پیالہ کے نام سے معروف اعجاز چوہدری، شفقت محمود، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ اور یاسمین راشد بھی بیک فٹ پر ہیں اور سامنے آ کر اداروں اور حکومت کو للکارنے سے گریزاں ہیں۔ ایسے میں لے دے کر تحریک انصاف کے دامن میں چنگاری کو شعلہ بنانے والے فواد چوہدری جیسے ہی کچھ لوگ باقی بچے تھے جن کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ دوسری طرف فواد چوہدری کے معاملے پر اپنی پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے جس طرح اعداد و شمار اور شواہد کے ساتھ گرفتاری کا دفاع کیا ہے اور تحریک انصاف کی حکومت کے دوران "نہال، دانیال اور طلال” کے خلاف کارروائی کا حوالہ دیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینے کے لیے ہوم ورک بڑی حد تک مکمل کرلیاہے۔

شہباز تاثیر کے اغواء اور رہائی کی کہانی، ان کی اپنی زبانی

Back to top button