اٹک جیل کی گرمی نے عمران کی چیخیں نکلوا دیں

گرمی کی شدت سے بے حال سابق وزیراعظم عمران خان اٹک جیل میں شدید مشکلات کا شکار ہیں اگرچہ انہیں ائیر کولر اور ٹیبل کرسی دے دی گئی ہے لیکن حبس کے باعث ائیر کولر کام نہیں کر رہا اور وہ گرمی کی شدت سے مفلوک الحال ہیں۔ ذرائع کے مطابق کچھ دنوں سے عمران خان نے ایکسر سائز بھی نہیں کی کیونکہ وہ گرمی کے باعث ساری رات جاگتے رہتےہیں اور صبح کے وقت سوتے ہیں۔ انہیں جیل میں حشرات الارض اور مچھروں نے بھی کافی ستایا ہوا ہے۔ جیل کا کھانا بھی وہ کوئی خاص دلچسپی سے نہیں کھا رہے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ گرمی کی وجہ سے عمران خان کے مزاج میں چڑچڑا پن عود آیا ہے۔ اپنے وکیل سے ملاقات کے دوران وہ بار بار اس بات پر زور دیتے رہے کہ انہیں جیل سے نکال نہیں سکتے تو کم از کم اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی کوششیں تیز کریں تاکہ انہیں وہاں اے کلاس سہولیات دی جا سکیں۔ ذرائع کے بقول اڈیالہ جیل منتقل ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اڈیالہ جیل کے سپریٹنڈنٹ پرویزالٰہی کے چہیتے اور مونس الٰہی کے مونس و غمخوار ہیں جنہیں پرویزالٰہی کے دورحکومت میں ہی اڈیالہ جیل میں تعینات کیا گیا تھ اوروہ ڈی آئی جی پروموٹ ہونے کے باوجود اب تک اڈیالہ جیل میں تعینات ہیں۔ دوسری جانب عمران خان سمیت ان کے وکلا کو بھی اندازہ ہے کہ وہ جیل سے جلد باہر آنے والے نہیں۔ کیونکہ انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے بھی گزشتہ روز نو مئی کے واقعات میں درج ان پر سات مقدمات میں ضمانتیں منسوخ کر دی ہیں۔

محکمہ جیل خانہ جات پنجاب اور ڈی آئی جی راولپنڈی ریجن کے اہم ذرائع نے بتایا کہ عمران خان کے وکلا کی کوشش ہے کہ پی ٹی آئی چیئر مین کواڈیالہ جیل منقل کر دیا جائے۔ کیونکہ اڈیالہ جیل میں جو سپر نٹنڈنٹ جیل تعینات ہیں ۔ وہ پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے کافی قریب ہیں۔ پہلے ہی اڈیالہ جیل میں پرویز الٰہی ان کی نوازشات سے جیل میں آسانی سے رہ رہے ہیں۔ اور اب تحریک انصاف کے وکلا کی کوشش ہے کہ عمران خان کو بھی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا جائے تاکہ وہ پرویز الٰہی کی طرح جیل میں سہولیات سے مستفید ہوسکیں ۔ واضح رہے کہ آج بھی پرویزالٰہی کوکھانا سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ کے گھر سے بھجوایا جا رہا ہے اور انہیں جیل میں کافی سہولیات بھی میسر ہیں۔ گرمی اور جس کے دنوں میں جب ان کا دل چاہتا ہے۔ وہ اڈیالہ جیل ہسپتال میں شفٹ ہو جاتے ہیں۔ جہاں لان میں گھومنے پھرنے کی آزادی کے ساتھ ساتھ ہسپتال کے اندر اے سی کی سہولت بھی میسر ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اسی لیے عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کرانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اٹک جیل میں چونکہ سہولیات کم ہیں اوران کی ملاقات کے لیے وکلا کو اسلام آباد سے دوسرے شہر سفر کر کے جانا پڑتا ہے۔ اس لیے اڈیالہ جیل میں منتقلی کے حوالے سے کیس دائر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اٹک جیل کے ذرائع نے بتایا کہ عمران خان کے سیل پر ڈیوٹی دینے والے اہلکاروں کو صبح پانچ بجے جیل میں حاضر ہونے کے آرڈر جاری کیے جا چکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر اہلکار رات نو بجے کے بعد جیل سے باہر آتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر وہ اہلکار شامل ہیں۔ جو جیل کے اندر ہی بنی رہائش گاہوں میں رہتے ہیں۔ کسی بھی ایسے اہلکار کی ڈیوٹی عمران خان کی بیرک پر نہیں لگائی گئی جس کی رہائش جیل کے اندر نہ ہو۔ اٹک جیل کے ذرائع کے مطابق عمران خان کو ابتدائی دنوں میں ہی بنیادی سہولیات جیل قانون کے مطابق دی جا چکی ہیں۔ جبکہ اس حوالے سے تحریک انصاف کے کارکنان سوشل میڈیا پر جو پراپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ وہ بالکل غلط ہے۔ انہیں جو کھانا دیا جاتا ہے۔ وہ با قاعدہ چیک کیا جاتا ہے۔ عمران خان سے پہلے جیل میں تعینات ڈی ایس پی کھانا کھا کر چیک کرتا ہے۔ اس کے بعد اسے عمران خان کے سیل میں اپنی نگرانی میں پہنچاتا ہے۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم مستقل عمران خان کا چیک اپ کرنے کے لیے اٹک جیل میں موجود ہے۔ علاوہ ازیں جیل کا ڈاکٹر بھی دن میں کئی بار ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے موجود ہوتا ہے۔ ڈی آئی جی پنڈی ریجن روزانہ اٹک جیل کا دورہ کرتے ہیں، اور وہاں کم از کم چار سے پانچ گھنٹے گزارتے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ گرمی اور حبس کے سبب عمران خان نے دو روز سے ایکسرسائز بھی نہیں کی ہے۔ وہ پوری رات جاگ کر گزارتے ہیں اور صبح سوتے ہیں۔ ناشتے کے وقت کبھی گیارہ بجے اور کبھی بارہ بجے جاگ جاتے ہیں۔ ایک سوال پر ان ذرائع کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ایئر کولر کی سہولت حاصل ہے لیکن سخت گرمی کی وجہ سے وہ بھی کام نہیں کرتا۔ یہی سبب ہے کہ سابق وزیراعظم چاہتے ہیں کہ انہیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا جائے جہاں پرویزالٰہی کے چہیتے سپر

اداکارہ غنا علی کو ماہر نفسیات کے پاس کیوں جانا پڑ گیا؟

نٹنڈنٹ جیل تعینات ہیں۔

Back to top button