یوتھیوں نے الیکشن میں عمران کو ہی ٹھوکنے کا پلان بنا لیا؟

سینئر صحافی جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے انتخابی نشان بلا واپس لے لیا گیا ہے اور اب پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے۔ اگر پارٹی الیکشن کے بعد قومی اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ آزاد امیدوار کوئی نئی پارٹی بنا سکتے ہیں یا کسی موجودہ سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔

یوٹیوب پر حالیہ وی-لاگ میں جاوید چودھری کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کے لیے 22 دسمبر کے دن کا آغاز تو بہت اچھا رہا کیونکہ سائفر کیس میں ان کی ضمانت منظور ہو گئی تاہم دن کا اختتام ان کے لیے بہت تکلیف دہ رہا کیونکہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دے دیے اور پی ٹی آئی سے انتخابی نشان ‘بلا’ بھی واپس لے لیا۔

جاوید چودھری کے مطابق جب سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت منظور ہوئی تو پی ٹی آئی رہنماؤں اور ورکرز کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خوب خیر مقدم کیا گیا اور عدالت کی تعریف کی گئی۔ بعدازاں پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی لیول پلیئنگ فیلڈ والی درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیا اور ریمارکس دیے کہ بظاہر لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے۔ الیکشن کمیشن فوری طور پر سیاسی جماعتوں سے ملاقات کرے۔ بعدازاں پی ٹی آئی کا ایک وفد الیکشن کمیشن گیا اور کمیشن نے 40 کے قریب شکایتیں سنیں۔ ان پر ہمدردانہ غور کرنے کے بعد کہا گیا کہ فکر نہ کریں، آپ کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گی۔جاوید چودھری نے کہا خیال کیا جا رہا تھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد الیکشن کمیشن دیوار کے ساتھ لگ گیا ہے اور الیکشن کمیشن کے لیے خاصا خفت بھرا دن تھا لیکن شام ہوتے ہی الیکشن کمیشن نے ایک زیرالتوا کیس کا فیصلہ سنا کر پی ٹی آئی کی تمام امیدیں خاک میں ملا دیں۔ پشاور ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق الیکشن کمیشن کو 22 دسمبر کو ہر صورت پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف درخواستوں کا فیصلہ سنانا تھا۔ رات 9 بجے کے قریب فیصلہ آیا جس میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کیلئے آئینی طریقہ کار نہیں اپنایا گیا۔ پی ٹی آئی الیکشن ایکٹ اور پارٹی آئین کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی۔ الیکشن کمیشن نے 23 نومبر 2023 کو انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا ایک اور موقع دیا۔ پی ٹی آئی کا 4 دسمبر کو جمع کرایا انٹرا پارٹی سرٹیفکیٹ مسترد کیا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کو الیکشن ایکٹ سیکشن 215 کے تحت انتخابی نشان کیلئے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔

جاوید چودھری کے مطابق اب پی ٹی آئی ایک ایسی پارٹی ہے جس کا کوئی سربراہ نہیں اور دونوں چیئرمین سابق ہو گئے ہیں۔ عمران خان سابق ہوئے تھے کیونکہ گوہر خان بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہوئے تھے جبکہ گوہر خان الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد سابق ہو گئے ہیں۔ اب پارٹی کے پاس صرف دو آپشن ہیں۔ ایک یہ کہ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ کے مطابق دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کروائیں جو کہ اس وقت پی ٹی آئی کے لیے ممکن نہیں کیونکہ کاغذات نامزگی جمع ہو رہے ہیں اور ان کے پاس زیادہ وقت نہیں بچا۔ لیکن اگر پارٹی انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرواتی تو عام انتخابات میں حصہ بھی نہیں لے سکتی۔دوسرا آپشن یہ ہے کہ پی ٹی آئی فوری طور پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دے لیکن اس صورت میں بھی درخواست منگل کے بعد سماعت کے لیے مقرر ہو گی۔ جسٹس عامر فاروق سماعت کریں گے جن سے پی ٹی آئی کو ریلیف ملنے کی امید نہیں ہے۔ اگر ریلیف ملے گا تو پارٹی الیکشن لڑ سکے گی، ورنہ نہیں۔ جاوید چودھری کے بقول پی ٹی آئی کے پاس آخری آپشن یہی بچے گا کہ وہ پارٹی امیدواروں کو آزاد حیثیت سے الیکشن لڑوائیں اور لگتا ہے کہ پی ٹی آئی ایسا ہی کرے گی۔ اگر پارٹی الیکشن کے بعد قومی اسمبلی تک پہنچتی ہے تو یہ آزاد امیدوار واپس پارٹی کا حصہ بن جائیں گے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار جیت جاتے ہیں تو وہ کوئی نئی پارٹی بھی بنا سکتے ہیں یا کسی موجودہ سیاسی پارٹی میں شمولیت بھی اختیار کر

PTI کو الیکشن سے پہلے بلا واپس ملنا ناممکن کیوں؟

سکتے ہیں جو عمران خان کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہو گا

Related Articles

Back to top button