نگران حکومت کا دور اقتدار طویل ہونے کا خطرہ کیوں؟

اتحادی حکومت کے خاتمے کا وقت قریب آنے کے ساتھ جہاں تمام سیاسی جماعتیں انتخابات میں اپنی جیت کو یقینی بنانے کیلئے سر گرم۔ہو چکی ہیں وہیں نگران سیٹ اپ میں اپنے اپنے حصے کے حصول کیلئے بھی میدان میں ہیں۔ نون لیگ کی طرف سے جہاں اسحاق ڈار کا نام بطور نگراں وزیر اعظم سامنے آ چکا ہے وہیں دوسرے طرف پیپلز پارٹی نے بھی اسحاق ڈار کے نام کی حمایت کے بدلے اپنے مطالبات لیگی قیادت کے سامنے رکھ دئیے ہیں تاہم دوسری طرف نگران سیٹ اپ کی مدت میں توسیع در توسیع کی خبروں کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔نگران حکومت کا دورانیہ 60 ،90 دن یا زیادہ ہوگا، ابھی تک طے نہ ہوسکا۔ 90 دن میں انتخابات کرانے سے جنرل ضیاء کے11 سال یاد آجاتے ہیں، ہر دہائی کے بعد ملک میں آمریت قائم ہوتی رہی، حکومت کی مدت ختم ہونے کو ہے تاہم غیر سیاسی شخصیات کو وزیراعظم، نگران کابینہ میں شامل کرنے پر پی پی ردعمل کا اظہار کررہی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں نہ تو نگران حکومت کے حوالے سے کوئی مصدقہ خبر سامنے آرہی ہے نہ ہی نگران حکومت کے دورانیہ بارے کوئی تصدیق ہو رہی ہے۔ اور نہ ہی ابھی تک ملک میں عام انتخابات کا ماحول بن سکا ہے جو فضا بنائی جارہی ہے وہ رسمی سی سرگرمیوں اور خبروں کی حد تک محدود ہے۔اب جبکہ حکومت کی مدت ختم ہونے میں ہفتے تیزی سے دنوں میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں ابھی تک یہ بات بھی طے نہیں ہوسکی کہ نگران حکومت کا دورانیہ 60 دن ہوگا یا 90 دن یا پھر دو سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ۔ویسے بھی جب 90 دن کے اندر انتخابات کی بات آتی ہے تو جنرل ضیاء الحق کا آپریشن فیر پلے ذہنوں میں آجاتا ہے جب پانچ جولائی1977 کو انہوں نے ملک میں مارشل لاء کا اعلان اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کو یہ کہتے ہوئے تحلیل کردیا تھا کہ یہ اقدام ملک کو انتخابات کے بعد ہونیوالی بدامنی

عمران خان کے توہین الیکشن کمیشن کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

سے بچانے کیلئے اپنایا گیا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آ

نیوالے عام انتخابات کے حوالے سے بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ کسی صورت بھی اپنی شکست کے نتائج کو تسلیم نہ کرنیوالی جماعت( اگر وہ ان انتخابات میں شامل ہوسکی) انتخابی نتائج کے حوالے سے ملک میں بدامنی پیدا کرسکتی ہے اور اس طرح یہ مماثلت خطرناک بھی ہوسکتی ہے۔خیال رہے کہ قومی اسمبلی کی مدت آئندہ ماہ 12 اگست کی رات 12 بجے ختم ہو جائے گی جب کہ عام انتخابات اکتوبر یا نومبر میں کرانے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پی ڈی ایم کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آٹھ اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم وفاقی وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب نے اِس خبر کی تصدیق نہیں کی۔

حکومتی اعلانات کے باجود سیاسی حلقے سمجھتے ہیں کہ انتخابات کے حوالے سے تاحال غیر یقینی کی سی صورتِ حال ہے۔سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے دستور میں صاف اور واضح لکھا ہے کہ حکومت کی مدت پوری ہونے پر 90 روز کے اندر انتخابات کرائے جائیں اگر ایسا نہیں ہوتا تو ملک میں سیاسی اور معاشی مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔سینئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نویس سہیل وڑائچ کے خیال میں پی ڈی ایم حکومت مقررہ وقت پر حکومت چھوڑ دے گی کیونکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد اب وہ ملک کو درست پر ڈالنے کا بیانیہ اپنا رہے ہیں۔ شاید اسٹیبلشمنٹ بھی موجودہ حکومت کی مدت میں مزید توسیع کے حق میں نہیں تھی جب کہ عدلیہ سے بھی حکومت کے لیے کوئی ریلیف ملنا مشکل تھا۔ اسی لیے حکومت مقررہ مدت پر ہی جا رہی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ انتخابات کب ہوں گے اِس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا، یوں لگتا ہے کہ نگراں حکومت کی مدت طویل ہو جائے گی۔اُن کے بقول پی ٹی آئی کا ووٹ بینک برقرار ہے اور جب تک پی ٹی آئی کا توڑ نہیں ہوتا نہ اسٹیبلشمنٹ نہ پی ڈی ایم دونوں کو یہ گوارہ نہیں کہ پی ٹی آئی زیادہ سیٹیں لے کر آ جائے۔

دوسری جانب سہیل وڑائچ کے بقول ستمبر کے وسط میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریٹائر ہونا ہے۔ اُن کے ہوتے ہوئے انتخابات نہیں ہو سکیں گے۔ اُن کی رائے میں فوری انتخابات کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی تیار نہیں ہے۔سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ نواز شریف کی پاکستان واپسی اکتوبر میں متوقع ہے جس کے بعد وہ انتخابی مہم چلائیں گے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ہوتے ہوئے نواز شریف کبھی بھی واپس نہیں آئیں گے۔تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے خیال میں پاکستان کا آئندہ نگران سیٹ اپ معیشت کو ترجیح دے گا جس کی وجہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی موجودہ ڈیل کو آگے بڑھانا ہے۔

کالم نویس سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے لیے ابھی بہت سی مشکلات ہیں، لیکن اُنہیں اپنی پالیسی کو تبدیل کرنا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ وہ اپنے معاملات درست کریں۔اُن کا کہنا تھا کہ کسی کے ساتھ تو وہ اپنے معاملات سیدھے کریں۔ سب سے کٹ کے اور تنہائی اختیار کر کے راستہ نہیں ملتا۔اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان کو کوئی راستہ نکالنا چاہیے۔ شاہ محمود قریشی جیسے لوگ اُن کے پاس موجود ہیں جو یہ کام کر سکتے ہیں۔ عمران خان کو آہستہ آہستہ ایسےلوگ چھوڑ گئے ہیں جو

عمران خان کے توہین الیکشن کمیشن کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

مصالحت پسند تھے۔

Back to top button