تحریک لبیک اور تحریک طالبان دونوں کا علاج ڈنڈے کی زبان

معروف لکھاری اور تجزیہ کار ایاز امیر نے کہا ہے کہ پاکستانی ریاست نے تحریک لبیک کی بڑھتی ہوئی متشدد کاروائیوں کے بعد اسکے خلاف بروقت ایکشن لیا ہے جسے اب منطقی انجام تک پہنچائے بغیر پیچھے ہٹنا بڑی غلطی ہوگی۔ انکا کہنا ہے کہ اتنی ٹھوکریں کھانے کے بعد ریاست کی سوچ میں کچھ میچورٹی آنی چاہیے۔ وقتی مصلحتوں کے تحت کتنے ہی مسلح گروہ بنائے اور پالے گئے جو بعد میں دردِ سر بنے۔ ایم کیو ایم سے لے کر افغان گروہوں تک‘ کشمیر کے نام پر جہاد کرنے والوں سے لے کر ٹی ایل پی تک، سب نے ریاست کی اتھارٹی کو چیلنج کیا اور اس کے لیے مسائل کھڑے کیے لہذا اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
عمران خان کے لیے ہمدردیاں رکھنے والے کیپٹن ریٹائرڈ ایاز میر اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ ہماری لڑائی طالبان سے زیادہ ان حماقتوں سے ہے جو ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ نے پچھلے 40 برس میں کیں اور جن کا خمیازہ ریاست نے بھگتا۔ اس لمبے عرصے کی حماقتوں کے پیچھے ضیاالحق سے لے کے جنرل باجوہ تک ہر شخص نے حصہ ڈالا۔ اس دوران مکمل اتفاقِ رائے رہا کہ یہی درست ریاستی پالیسی ہے اور اسی میں پاکستان کا مفاد ہے۔ لہذا اس مؤقف سے ہٹ کر کوئی آواز نہیں اٹھائی جا سکتی تھی۔ ہمارے کرتا دھرتا ہوں یا وزارتِ خارجہ کے پردھان‘ وہ 40 برس تک یہی راگ الاپتے رہے کہ ہمارا افغانستان کے تندور میں کودنا اور افغانستان کا بوجھ اُٹھانا دینی اور قومی فریضہ ہے۔
لیکن ایاز امیر کہتے ہیں کہ آج سب کچھ اُلٹ ہو گیا ہے کیونکہ طالبان نے سابقہ ادوار کے افغانوں کی طرح یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پہلے افغان ہیں اور پھر کوئی اور چیز۔ ایاز امیر کہتے ہیں کہ یہ کبھی نہ بھولا جائے کہ طالب یا غیر طالب کوئی ایک افغان نہیں جو پاک افغان سرحد یا ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرتا ہو۔ اسکی قانونی حیثیت سے ہر مکتبہ فکر کا افغان انکاری ہے۔ جب تک پاکستان افغان مفادات کا ٹھیکیدار بنا رہا تب تک طالبان اور دیگر افغان پاکستان کو سلام کرتے رہے۔ جونہی ہماری ضرورت ختم ہوئی طالبان نے ہمیں آئینہ دکھا دیا اور ہمارے پردھان یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ افغان بڑے بے وفا لوگ ہیں جو ہماری چالیس سال کی خدمات بھول گئے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیئے کہ بین الاقوامی تعلقات میں وفا نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ کل تک ہم طالبان کے سگے بنے رہے اور آج حیرت سے منہ کھولے ہم ان طالبان کو انڈیا کی جھولی میں بیٹھا دیکھ رہے ہیں۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ ہم کب تک ماضی کا رونا روتے رہیں گے‘ جو بیوقوفیاں ہونی تھیں ہو گئیں۔ اب تو آج کی حقیقتوں کا سامنا کرنا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ طالبان کے ساتھ ڈائیلاگ کی کوئی افادیت نہیں۔ طالبان بندوق کے سہارے پروان چڑھے‘ اور امریکہ نے بھی طالبان کو بندوق کے ذریعے طالبان کابل سے نکالا۔ پھر اٹھارہ سالہ گوریلا جدوجہد کے بعد طالبان دوبارہ افغانستان کے حاکم بن گئے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ طالبان صرف بندوق کی زبان سمجھتے ہیں کیونکہ اس زبان کے علاوہ اُن کی کسی اور فلسفے سے شناسائی نہیں۔ اس لیے ان کو پاکستانی ریاست کی جانب سے بندوق کی زبان میں ہی دیا جانے والا جواب سمجھ آئے گا۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ تحریک طالبان افغان طالبان حکومت کی نظریاتی حمایتی اور ہمنوا ہے۔ جیسے افغان طالبان نے طویل جدوجہد کے بعد امریکہ کو افغانستان سے رخصت ہونے پر مجبور کیا اسی طرح سے ٹی ٹی پی والوں کی نظریں خیبر پختونخوا کے سابقہ علاقوں پر جڑی ہوئی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر افغان طالبان نے امریکہ کو افغانستان سے بھگا دیا تھا تو پاکستانی طالبان ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیوں نہیں کر سکتے۔ ٹی ٹی پی اسی لیے پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی شدت میں اضافہ کرتی چلی جا رہی ہے تاکہ دباؤ بڑھایا جا سکے۔
ایاز امیر کے مطابق عمران خان سمیت ہمارے جو سیاستدان پاکستانی طالبان کے ساتھ ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں وہ خام خیالی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی والے ڈائیلاگ سے یہ مطلب لیتے ہیں کہ اُن کے مطالبات من و عن تسلیم کیے جائیں۔ یہ ریاست پاکستان کی بھول تھی کہ بندوق کی منطق سمجھنے والوں سے بات چیت ہو سکتی ہے۔ سیدھی اور سادہ بات یہ ہے کہ بندوق استعمال کرنے والوں کو بندوق سے جواب دینے کی جو اپروچ ریاستِ پاکستان اب اپنا رہی ہے وہی درست اپروچ ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ افغان اور پاکستانی حکام کے مابین قطر معاہدے کے بعد جنگ بندی تو ہو گئی ہے لیکن افغان طالبان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے۔ ان کا علاج یہی ہے کہ ان کی سرپرستی میں کام کرنے والے پاکستانی طالبان ہماری فورسز پر ایک حملہ کریں تو ہم ان کو 10 بھرپور حملوں سے منہ توڑ جواب دیں۔ ان کے ساتھ ڈائیلاگ میں پڑھ کر مزید وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ بنیادی نکتہ سمجھ لیا جائے کہ یہ ایک لمبی جنگ ہے اور ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارا نہیں کہ ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔ دیگر کوئی آپشن نہیں۔
عمران خان پاکستان دشمن طالبان کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں؟
ایاز امیر کہتے ہیں کہ تحریک طالبان کے ساتھ جب بھی ریاست پاکستان نے ڈائیلاگ شروع کیا ہے تو اس نے نفاذ شریعت کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد مذاکرات کی گنجائش باقی بچتی ہی نہیں۔ صوفی محمد، بیت اللہ محسود‘ نیک محمد‘ حکیم اللہ محسوداور اب نورولی محسود کی ٹی ٹی پی‘ ان سب کا مطالبہ ایک ہی ہے کہ سابقہ قبائلی علاقوں میں شریعت نافذ کی جائے اور ٹی ٹی پی کی نقل و حرکت پر کوئی قدغن نہ ہو۔ یعنی ریاستِ پاکستان اُن کے سامنے سرینڈر کر جائے۔ آزما لیجئے‘ ٹی ٹی پی والے ان مطالبات سے کبھی نہیں ہٹیں گے۔ وہ تو یہ سمجھتے ہیں کہ برطانوی ایمپائر کو افغانوں نے شکست دی ‘ روس کو انہوں نے افغانستان سے بھگایا اور پھر اٹھارہ سالہ جدوجہد کے بعد امریکیوں کو افغانستان سے نکالا۔ ایسے میں انہیں یہ غلط فہمی ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں؟ ایسی منطق کے ساتھ کوئی ڈائیلاگ ہو ہی نہیں سکتا اور نہ ہی ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے۔
