TTP، را اور عوامی ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب

خفیہ ویڈیوز اور آڈیو ریکارڈنگز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ٹی ٹی پی، بھارتی خفیہ ایجنسی "را” اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مبینہ روابط سے متعلق نئے دعوے سامنے آ گئے ہیں، رپورٹس کے مطابق افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی سے وابستہ مبینہ رکن شہزاد کی ویڈیو اور آڈیو سامنے آئی ہے، جس میں وہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق بیانات دیتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔
اس حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ ویڈیو میں وہ افغانستان سے ایک تحریر شدہ بیان پڑھ رہا ہے اور تنظیمی سطح پر بعض ہدایات جاری کر رہا ہے۔مبینہ ویڈیو میں شہزاد کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی احتجاج کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی تھی، جبکہ پاکستان کی ریاست کے حوالے سے آئندہ پیش رفت کے اثرات جلد سامنے آئیں گے۔
اسی تناظر میں ایک مبینہ آڈیو کال بھی منظرِ عام پر آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس میں شہزاد اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک رہنما کے درمیان گفتگو ہونے کا کہا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس گفتگو میں آزاد کشمیر میں بدامنی پھیلانے، کارکنوں کو متحرک کرنے اور انتخابات کے انعقاد کی مخالفت سے متعلق بات چیت کی گئی۔مبینہ آڈیو لیک کے مطابق انتخابات کے انعقاد کی ہر ممکن مخالفت کرنے اور انہیں روکنے کے عزم کا اظہار کیا گیا، جبکہ عسکریت اور طاقت کے استعمال سے متعلق بھی گفتگو سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان مبینہ آڈیوز اور ویڈیوز کی آزادانہ اور مستند فرانزک تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ریاست مخالف سرگرمیوں اور بیرونی عناصر کے ممکنہ کردار سے متعلق اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، ان دعوؤں کی تاحال کسی آزاد اور غیر جانب دار ادارے کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔دوسری جانب، ان الزامات میں نامزد فریقین کی جانب سے بھی ان دعوؤں پر کوئی تفصیلی اور باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے حساس معاملات میں حقائق کے تعین کے لیے شفاف تحقیقات، ڈیجیٹل فرانزک جانچ اور متعلقہ اداروں کی مستند رپورٹس انتہائی اہمیت رکھتی ہیں، تاکہ عوام کے سامنے مصدقہ معلومات لائی جا سکیں اور کسی بھی قسم کی گمراہ کن اطلاعات سے بچا جا سکے۔
