ایلون مسک نے ٹوئیٹر لوگو کو ’’ایکس‘‘ میں بدل دیا

سماجی رابطے کے سب سے بڑا پلیٹ فارم ’’ٹوئیٹر‘‘ نئے مالک کے ہاتھ میں آنے کے بعد مسلسل تبدیلیوں کے مراحل سے گزر رہا ہے، ٹوئیٹ باس ایلون مسک نے بیشتر تبدیلیوں کے بعد ٹوئیٹر کے لوگو کو بھی تبدیل کر دیا جوکہ ایک فاختہ کی شکل میں تھا۔چیف ٹوئیٹ ایلون مسک اور اس کی سی ای او کے مابق ٹوئٹر اپنا پرندے والا لوگو ترک کر کے اسے ایکس نام کے ساتھ ری برانڈ کرے گا اور جلد ہی ادائیگیوں، بینکاری اور تجارت کی طرف جائے گا، ایلون مسک اور اس کی نئی چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نے اتوار کو کہا ہے کہ سوشل میڈیا نیٹ ورک اپنا پرندے والا لوگو ترک کرکے اسے ایکس نام کے ساتھ ری برانڈ کرے گا اور جلد ہی ادائیگیوں، بینکاری اور تجارت کی طرف جائے گا۔ڈیزائن ویب سائٹ کری ایٹو بلوک کے مطابق 2006 میں بنائے گئے ٹوئٹر کا نام پرندوں کے چہچہانے سے لیا گیا ہے اور اس نے اپنے ابتدائی ایام سے ہی ایک برڈ کو برانڈنگ کے لیے استعمال کیا، جب کمپنی نے ہلکے نیلے رنگ کے پرندے کا لوگو 15 ڈالر میں خریدا تھا۔
ٹوئٹر کی چیف ایگزیکٹیو لنڈا یاکارینو نے اتوار کی رات کمپنی کے نئے لوگو سیاہ بیک گراؤنڈ پر سفید ایکس کی ایک تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایکس آگیا!، اتوار کی رات ہی ایلون مسک نے اپنی پروفائل تصویر کو کمپنی کے نئے لوگو کے ساتھ تبدیل کر دیا اور اپنے ٹوئٹر بائیو کو ’ X.com‘ میں بدل دیا، جو اب twitter.com پر ری ڈائریکٹ ہوتا ہے۔ایلون مسک پہلے ہی ٹوئٹر کی پیرنٹ کمپنی کو ایکس کارپوریشن کا نام دے چکے ہیں اور اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا کمپنی کا حصول ’ایکس‘ بنانے کی جانب ایک قدم تھا، جوکہ ان کی 1999 میں قائم کی گئی X.com کمپنی کا حوالہ ہے، جو بعدازاں پے پال رقوم کی منتقلی کرنے والی بڑی کمپنی بن گئی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹوئٹر کو چینی کمپنی وی چیٹ یا ایسی ہی دیگر ایپس کی طرح بنانا چاہتے ہیں، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے طور پر کام کر سکے اور اس میں پیغام رسانی اور موبائل ادائیگیاں بھی ہوں۔این بی سی یونیورسل کی ایڈورٹائزنگ سیلز ایگزیکٹو یاکارینو، جنہیں ایلون مسک نے ٹوئٹر کا سی ای او بننے کے لیے گذشتہ ماہ منتخب کیا تھا، نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اپنے دائرہ کار کو بڑھانے کے قریب ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ٹوئٹر کے روزانہ تقریباً 20 کروڑ فعال صارفین ہیں، لیکن 52 سالہ ٹیسلا کے بانی کی جانب سے چارج سنبھالنے اور زیادہ تر عملے کو برطرف کرنے کے بعد سے اسے بار بار تکنیکی خامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔صارفین اور ایڈورٹائزرز نے سوشل میڈیا سائٹ کی جانب سے پہلے سے مفت خدمات کیلئے نئی قیمتیں، مواد میں تبدیلی اور پہلے سے ممنوع اکاؤنٹس کی بحالی پر منفی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔فیس بک کی سرپرست کمپنی میٹا نے بھی رواں ماہ اپنا ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم تھریڈز متعارف کرایا ہے، اندازوں کے مطابق اس کے ایک کروڑ 50 لاکھ صارفین ہوچکے ہیں، لیکن مارکیٹ تجزیہ کرنے والی فرم سینسر ٹاور کے اعداد و شمار کے مطابق، اس کے متعارف کروائے جانے کے بعد سے حریف ایپ پر گزارے گئے
وقت میں کمی آئی ہے۔
