مولانا ڈیزل اور عمران حکومت کے خلاف ہاتھ کیوں نہیں ملا پا رہے؟

شہباز حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے گھاس نہ ڈالنے پر ایک بار پھر مولانا ڈیزل اور یہودی ایجنٹ نے پیار کی پینگیں بڑھانا شروع کر دی ہیں۔ پی ٹی آئی اور جمعیت علمائے اسلام میں متوقع اتحاد پر دونوں جماعتوں کی کمیٹیوں کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ ہو گیا ہے، رابطے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ دونوں سیاسی جماعتوں کی کمیٹیاں آئندہ ہفتہ باضابطہ ملاقات کریں گی جس کے لیے دونوں جماعتوں کی مذاکراتی کمیٹیوں نے اپنی اپنی تجاویز بھی تیار کر لی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلی اس باضابطہ ملاقات میں پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے مابین اتحاد سے متعلق مشاورت بھی کی جائے گی جبکہ مذاکراتی کمیٹیوں کی ملاقات کے بعد دونوں جانب سے پیش کردہ تجاویز پر قیادت کو اعتماد میں بھی لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی اور جے یو آئی ف کے درمیان بداعتمادی کی فضا برقرار تھی جس کے باعث مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کے ’گرینڈ آلائنس تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ میں فوری شمولیت سے معذرت کر لی تھی۔ذرائع نے بتایا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کے درمیان ایک دوسرے پر اعتماد کے فقدان کے باعث آگے بڑھنے اور اپوزیشن اتحاد میں شمولیت پر تاحال ڈیڈ لاک برقرار ہےتاہم دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کے حوالے سے سیز فائر جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے متضاد بیانات، خیبر پختونخوا حکومت کی پالیسیوں اور عمران خان کا واضح مؤقف سامنے نہ آنے کی وجہ سے اپوزیشن اتحاد میں فوری شمولیت اختیار کرنے سے ہچکچا رہے ہیں جبکہ جمعیت علمائے اسلام کی قیادت خیبر پختونخوا حکومت کے قبائلی اضلاع کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مؤقف سے بھی خوش نہیں ے اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے قائدین کی جانب سے متضاد بیانات بھی ڈیڈ لاک کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جے یو آئی ف کے سربراہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار سے متعلق متضاد مؤقف پر بھی ناخوش ہیں۔ مولانا فضل الرحمان سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے قائدین میں سے کوئی اسٹیبلشمنٹ سے تو کوئی سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کی بات کرتا ہے، اس لیے دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد کے حوالے سے ڈیڈ لاک برقرار ہے، تاہم ذرائع کے مطابق اب اس میں اتنی پیش رفت ہوئی ہے کہ دونوں جماعتوں کی طرف سے اتحاد کے لیے قائم کی گئی کمیٹیوں نے ملاقات کے بعد آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اب دیکھنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت مولانا کو رام کرنے میں کیسے کامیاب ہوتی ہے۔
تاہم دوسری جانب تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی یہ تاریخ رہی ہے کہ جب جب اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف مشترکہ احتجاج کیا ہے تب تب حکومتِ وقت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ اس بار اگر اپوزیشن جماعتیں الگ الگ اپنے ایجنڈے کے تحت احتجاج کریں تو ہوسکتا ہے کہ حکومت کو زیادہ ٹف ٹائم نہ ملے تاہم اگر پی ٹی آئی، جے یو آئی اور جماعت اسلامی نے مل کر سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کرلیا تو حکومت کے لیے یہ ہرگز اچھی خبر نہیں ہوگی۔
