بلوچوں کی طرح پنجابیوں کے قتل کے خلاف آوازیں کیوں نہیں اٹھتیں  ؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے کہا ہے کہ ہم پاکستانی بلوچ عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا رونا تو تو زوروشور سے روتے ہیں لیکن بلوچستان میں پنجابیوں کے ساتھ جو ظلم کیا جا رہا ہے اس کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔ روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں بلال غوری پنجاب کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ بلوچوں کے حق میں آواز اُٹھائی ہے اور پشتونوں سے ہونے والی زیادتیوں پر کلمہ حق کہا ہے، میں نے سندھی عوام کے حقوق کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیا ہے اور آئندہ بھی اپنا فرض ادا کرتا رہوں گا۔ لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ پنجاب کے لوگ آپ کے ساتھ کھڑے ہوں تو پھر آپ کو بھی انکے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف بولنا ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں پنجاب نے ہر موقع پر ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس کا غلط مطلب لیا گیا۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ پنجاب کا مقدمہ لڑا جائے۔

بلوچستان میں خودکش حملہ کرنے والی ماہل بلوچ کس کی بیٹی تھی؟

بلال غوری سابق وزیراعلی پنجاب محمد حنیف رامے کا ایک جملہ یاد دلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’میرا ایمان ہے کہ اگر پنجاب نے پنجابیت اختیار نہ کی تووہ پاکستان کو بھی لے ڈوبے گا‘‘۔ حنیف رامے کا یہ جملہ بلال غوری کو بلوچستان کے علاقے موسیٰ خیل میں بلوچ دہشتگردوں کی جانب سے 23 پنجابی مزدوروں کو چن کر قتل کئے جانے پر یاد آیا ہے۔ وہ پہلے اور آخری دانشور تھے جنہوں نے ’’پنجاب کا مقدمہ‘‘ لڑنے کی کوشش کی۔ان کی یہ تصنیف 1985ء میں پہلی بار شائع ہوئی تو ’’پانچ کروڑ بے زبان پنجابی عوام‘‘ کے نام انتساب کے عنوان سے انہوں نے لکھا ’’اس معذرت کے ساتھ کہ میں نے یہ کتاب پنجابی میں نہیں لکھی۔ مگر شاید ’پنجاب کا مقدمہ ‘مجھے اردو میں اسلئے پیش کرنا پڑا کہ پڑھے لکھے پنجابیوں نے پنجابی کو چھوڑ دیا ہے۔‘‘ اب 39 برس بعد پنجاب کے باسیوں کی تعداد بڑھ کر 12 کروڑ ہوچکی ہے اور ان میں سے کم ازکم 7 کروڑ مجھ جیسے وہ غیر پنجابی ہیں جن کے آبائو اجداد پاکستان بننے سے پہلے یا بعد میں یہاں آکر آباد ہوئے۔ غوری، ابدالی اور مغل نہ جانے کتنے ہی فاتحین نے پنجاب پر یلغار کی، شیر شاہ سوری نے تو لاہور کو تباہ و برباد کرنے کی خواہش کا برملا اظہار کیا مگر فراخ دل پنجابیوں نے اپنے ہاںکسی قسم کے عناد، بغض، کینہ یا تعصب کو پروان نہیں چڑھنے دیا۔ سب کو خوش آمدید کہا۔ یہاں تک کہ دیگر صوبوں اور قوموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے یہاں آکر کاروباری معاملات پر اپنی گرفت مضبوط کر لی مگر کبھی کسی پنجابی نے یہ گلہ نہیں کیا کہ پشتون، سندھی یا بلوچ ہمارے وسائل پر قابض ہوگئے ہیں ،انہیں یہاں سے نکالا جائے، انہیں یہاں زمینیں خریدنے اور کاروبار کرنے سے روکا جائے ۔یہاں نہ کوئی قوم پرست جماعت ہے نہ قوم پرست رہنما۔ سندھ ،بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لوگ اپنی انفرادیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں، اپنی تہذیب و ثقافت اور زبانوں سے جڑے رہنے پر اصرار کرتے ہیں اور اس میں کوئی قباحت نہیں مگر پنجاب کے لوگ پاکستانیت کے رنگ میں رنگے جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

بلال غوری کہتے ہیں کہ پنجاب وہ واحد صوبہ ہے جو تقسیم ہندوستان کے وقت بٹوارے کا شکار ہوا مگر پھر بھی یہاں کسی قسم کی تلخی، عداوت اور نفرت کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔ پنجاب میں کبھی کسی کو علاقائی تعصب کی بنیاد پر قتل نہیں کیا گیا۔ مگر پنجاب کو مسلسل لاشوں کے تحائف بھجوائے جارہے ہیں۔ اگر بلوچستان میں محرومیوں اور استحصال کا ذکر کریں تو پہلا فوجی آپریشن جنرل ایوب خان نے کیا، دوسری بار بڑے پیمانے پر کارروائی ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کی گئی، تیسری بار مزاحمت کو کچلنے کی کوشش جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوئی ،ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی پنجابی نہیں تھا مگر گالیاں ہمیشہ پنجاب کے حصے میں آئیں؟ آخر کیوں؟

بلال غوری بتاتے ہیں کہ 26 اگست 2024 کو نواب اکبر بگٹی کے نام پر موسی خیل کے علاقے میں 23 غریب پنجابی مزدوروں کا ناحق قتل کیا گیا۔ نواب اکبر بگٹی کو جنرل پرویز مشرف کے دور میں مارا گیا، اس پر پنجاب کے لوگوں نے آواز اُٹھائی۔ مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ چلا کر سزا سنائی گئی۔ مگر یہ کیسی نفرت ہے کہ پنجاب کے رہنے والوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر بسوں سے اُتارا جاتا ہے اور جانوروں کی طرح بیدردی سے قتل کردیا جاتا ہے۔ وحدت کا درس دینے والے دانشوروں کا اصرار ہے کہ پنجابی اور بلوچ کی بات نہ کی جائے۔ دہشتگردوں کا کوئی مذہب ،مسلک یا قومیت نہیں ہوتی۔ انہوں نے پاکستانیوں کو مارا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں ہوتی قومیت؟ اگر پاکستانیوں کو نشانہ بنایا گیا ہوتا تو شناختی کارڈ دیکھنے کے بجائے بلا تخصیص فائرنگ کی جاتی ۔مگر تلخ حقیقت یہ ہے پنجابیوں کو چن چن کر مارا گیا۔ بغض میں لتھڑے ہوئے کچھ لوگ یہ سوال کر کے ابہام پیدا کرنے اور وکٹم بلیمنگ کی کوشش کر رہے ہیں کہ پنجابی مزدور بلوچستان میں لینے کیا جاتے ہیں؟ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی خاتون کی آبرو ریزی پر ملزموں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ظلم کا شکار خاتون کو ہی کٹہرے میں کھڑا کرکے یہ پوچھنا شروع کر دیں کہ تم گھر سے نکلی ہی کیوں تھیں؟ تمہیں وہاں جانے کی ضرورت کیا تھی؟

بلال کہتے ہیں کہ پنجاب کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے لوگ جوتے پالش کرنے سے لیکر پلازے کھڑے کرنے تک ہر طرح کا کام کرتے ہیں، کیا کبھی ان سے کسی نے یہ سوال پوچھا؟یہ جو جگہ جگہ کوئٹہ ہوٹل، پشاوری چائے خانے، افغان برگر اور سندھی بریانی کے بورڈ دکھائی دیتے ہیں، کیا کبھی کسی نے ان سے یہ سوال کیا؟ ایک طرف آپ اپنے استحصال کا رونا روتے ہیں، ترقیاتی کام نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہیں، دوسری طرف جب سڑکیں بنانے کی کوشش کی جائے تو مزدور نہیں ملتے، پنجاب سے لوگوں کو لاکر آپ کی محرومیاں دور کرنے کی تگ و دو کی جائے تو انہیں چن چن کر قتل کردیا جاتا ہے اور پھر نہایت سفاکانہ انداز میں یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ پنجابی مزدور وہاں کرنے کیا جاتے ہیں؟ اپ تو بندوقیں اُٹھا کر پہاڑوں پر چڑھ جاتے ہیں، ہنر سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے، حجام جیسے چھوٹے موٹے کام کرنے سے آپ کی شان میں کمی آتی ہے کیونکہ آپ تو سردار ہیں، ان حالات میں اگر پنجاب کے لوگ آپ کی خدمت کرنے آئیں تو ان کا خون بہا کر مہمان نوازی کا حق ادا کیا جاتا ہے۔ ایک لمحے کیلئے تصور کریں، اگر پنجاب میں یہ سوال ہونے لگے کہ دیگر صوبوں کے لوگ یہاں کرنے کیا آتے ہیں؟ اگر یہاں بھی شناختی کارڈ دیکھ کر غیر مقامی افراد کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہو جائے تو بات کہاں تک جائے گی؟ مگر نہیں ،ایسا نہ کبھی ہوا ہے اور نہ ہو گا۔ پنجاب کے لوگ کٹ جائیں گے، مر جائیں گے، مگر اپنے بھائیوں کا خون نہیں بہائیں گے۔

Back to top button