سہیل وڑائچ نے عمران کے ساتھیوں کو تارا مسیح کیوں قرار دیا؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے قیدی نمبر 804 کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر آپکے حمایتی ساتھی تارا مسیح نامی جلاد کا کردار ادا کر رہے ہیں جس نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی تھی، لہٰذا آنکھیں کھولیں اور اپنے دوست دشمن کی پہچان کریں، آپکی رہائی کے راستے میں جو بھی فرد یا شرط حائل ہے وہ آپکی دشمن ہے اور ہر وہ فرد جو آپکو رہائی دلانا چاہتا ہے وہ آپ کا مخلص دوست ہے۔ وہ قیدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تاریخ آپ کے دروازے پر دستک دے رہی ہے فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔

سہیل وڑائچ روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں بتاتے ہیں کہ 9 مئی کے حملوں سے پہلے انہوں نے عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ سے مصالحت کی تجویز پیش کی تھی۔ خان کے پاس جیل سے باہر آنے کا راستہ آج بھی مصالحت والا ہی ہے کیونکہ لڑائی سے نہ تو کبھی کوئی راستہ نکلا ہے اور نہ ہی نکلے گا۔ سہیل وڑائچ عمران کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قیدی جی! پاکستان کی تاریخ تضادات سے بھری ہے۔ ماضی کے واقعات سے سبق سیکھ کر ہی راستہ نکل سکتا ہے۔ فوج اور سیاستدانوں کی جنگ بھی ہوتی رہی ہے اور سیاستدانوں کو فوج کی سرپرستی بھی حاصل ہوتی رہی ہے۔ 1971 کے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد یحیی خان کی جگہ ذوالفقار علی بھٹو صدر بنے۔ انہوں نے ایک لاکھ پاکستانی فوجی قیدیوں کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا۔ بحیثیت عہدہ فوج نے انہیں مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی بنا دیا۔ انہوں نے 1973 میں پاکستان کو پہلا متفقہ آئین دیا اور پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم بھی بنے۔

لیکن سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ جب 1977 میں جنرل ضیا نے بھٹو حکومت کو برطرف کر کے مارشل لا نافذ کیا تو بھٹو عتاب کا شکار ہو گئے۔ تب دو نقطہ ہائے نظر تھے کہ جنرل ضیاء نان پاپولر ہے، لہٰذا دو تہائی اکثریت والے وزیراعظم کو ہٹا کر ضیائی فوج اپنا اقتدار زیادہ دیر برقرار نہیں رکھ سکے گی۔ یہ خیال بھی تھا کہ بھٹو جیسے پاپولر لیڈر کو جیل میں رکھنا اور پھانسی دینا ناممکن ہے، ایک نقطہ نظر یہ تھا کہ بھٹو کسی صورت ضیاء الحق سے لڑائی نہ کریں بلکہ خاموشی کے ساتھ جلاوطنی اختیار کریں اور اچھا وقت آنے پر پاکستان واپس آ جائیں۔ لیکن بھٹو صاحب اور انکے جیالوں کا نقطہ نظر غالب رہا جسکے مطابق لڑائی اور سیاسی جدوجہد ہی بہترین راستہ ہے، چنانچہ پیپلز پارٹی نے مزاحمت کا راستہ چنا جس کا نتیجہ بھٹو کی پھانسی کی صورت میں نکلا۔ نہ دنیا بھر کے لیڈروں کی اپیلوں نے کام کیا نہ سپریم کورٹ نے انصاف کیا اور نہ ہی احتجاجی تحریک جنرل ضیاء کو روک پائی۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس کے بعد 10 برس گزر گئے۔ بالآخر جنرل ضیاء الحق فضائی حادثے میں مارا گیا تو کہیں جا کر بے نظیر بھٹو کو سیاسی راستہ ملا اور وہ وزیراعظم کے عہدے پر پہنچیں۔ بعدازاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی اسٹیبلشمینٹ سے لڑائیاں اور جھگڑے تو ہوئے لیکن دونوں نے مفاہمتی راستہ اپنایا اور یوں بار بار اقتدار کے دروازے سے اندر اور باہر آتے جاتے رہے۔ سیاسی تجربات نے پیپلزپارٹی اور نون لیگ کو پاکستان میں سیاست کا ہنر سکھا دیا ہے، انہیں لاکھ بے اصولی کا طعنہ دیں لیکن یہ دونوں جماعتیں آج اتحادی حکومت میں ہیں۔ ہم کچھ بھی کہیں مگر عملی سیاست میں تو اسی کو کامیابی کہتے ہیں۔

سہیل وڑائچ بانی تحریک انصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں، قیدی جی! سیاسی تضادات نے ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے کہ آپکے چاہنے والے آپ کو چوم چوم کر مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ بظاہر یہ آپ سے محبت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انقلاب اور احتجاج کے ذریعے آپکو تخت پر لا بٹھائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس بیانیے نے آپ کو یرغمال بنا کر آپکے سیاسی راستے مسدود کر دیئے ہیں اور اپ کا تختے کی جانب سفر تیز تر ہو چکا ہے، آہ و بکا، جھوٹ پر مبنی کہانیوں اور دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی بدعاؤں سے حالات نہیں بدلا کرتے۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا خیال تھا کہ ملک کی اقتصادی حالت نازک ہے یا تو پاکستان ڈیفالٹ ہو کر رہے گا یا اقتصادی بدحالی سے انارکی پھیل جائے گی۔ یہ چورن پارٹی کے ہر اجلاس میں بیچا جاتا تھا۔ لیکن فوج اور حکومت نے مل کر پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکال لیا۔ پی ٹی آئی کا دوسرا چورن تھا کہ عدلیہ، فوج اور عوام میں عمران کی مقبولیت اس قدر ہے کہ ججز کے فیصلوں سے حکومت چلنی مشکل ہو جائے گی اور دوبارہ سے الیکشن کروانا مجبوری بن جائے گا۔ لیکن حکومت اور فوج نے اس سازش کو بھی ناکام بنا دیا۔ پھر یہ سوچا گیا کہ عوامی احتجاج اور عالمی دباؤ کام کرے گا۔ صدر ٹرمپ کے برسر اقتدار آتے ہی یہ ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ اب عمران خان کی رہائی یقینی ہے، لیکن یہ دعوی بھی غلط نکلا۔ صدر ٹرمپ نے یوٹرن لینا بہتر سمجھا اور قیدی کی رہائی کی کوشش کی بجائے صیاد کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس دوران پاک بھارت جنگ سے بھی امیدیں لگائی گئیں مگر جنگ بھی پاکستانی فوج جیت گئی۔ یوں یوتھیوں نے پاکستان کی شکست سے جو توقعات وابستہ کر رکھی تھیں وہ بھی پوری نہ ہو پائیں۔ اس طرح تحریک انصاف کے اندازے اور تجزیے مسلسل غلط ثابت ہوئے۔ اس کے بیانیے ناکام ہوئے، او اس کی خواہشیں پٹتی رہیں۔ لیکن پارٹی کے سوشل میڈیا بریگیڈ سے وابستہ یوٹیوبرز ہر شکست کے بعد ایک نئی کہانی تراش کر عمران خان کو مسلسل جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی رکھنا چاہتے ہیں۔

سہیل واڑئچ بانی پی ٹی آئی کو مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ قیدی جی! جان ہے تو جہاں ہے، پاکستان بھٹو شہید جیسا ایک اور سانحہ دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا، اگر معافی تلافی سے جان بچانا ممکن ہے تو فورا جیل سے باہر نکلنا ہی عملیت پسندی ہے، تخیل پرستی تو ایک لمبی اور صبر آزما جدوجہد ہے جو کہ جمہوری آئیڈیلز کیلئے کی جاتی ہے، آپ تو فوج کی مدد سے اقتدار میں آئے تھے اور فوج سے مل کر حکومت کرنے کو جائز قرار دیتے رہے ہیں۔ اب بھی آپکا اس حوالے سے فوج کے ساتھ کوئی اصولی اختلاف نہیں۔ آپکا اختلاف تو ذاتی ہے، لہٰذا ڈیل ماریں اور اس مشکل وقت سے نکلیں۔

ججز کی مراعات میں اضافہ، تدفین کا خرچ بھی عوام پر ڈال دیا

سینیئر صحافی کہتے ہیں، ڈیئر قیدی جی! آپ خود ہی تو بار بار کہا کرتے تھے کہ یوٹرن تو اچھے ہوتے ہیں لہٰذا ایک یوٹرن ملکی استحکام کیلئے بھی لے لیں۔ اس کے بعد اگلے انتخابات تک چُپ کا روزہ رکھیں اور اپنا سارا زور اگلے الیکشن کی شفافیت کو یقینی بنانے پر لگائیں۔ یہ ڈیل سب کیلئے قابل قبول ہوگی، حکومت کو فری ہینڈ ملے گا، فوج کے شبہات دور ہو جائیں گے، تحریک انصاف کو نہ صرف لیڈر کی رہائی ملے گی بلکہ اسے پارلیمان میں کام کرنے کے لیے فری ہینڈ بھی مل جائے گا۔ لیکن سہیل وڑائچ قیدی سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ کوئی کرشمہ یا حادثہ ہو جائے تو اور بات ہے وگرنہ آپ کی موجودہ حکمت عملی اور یوٹیوبرز کی لیڈر شپ میں کوئی بڑا سیاسی فیصلہ ممکن نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب تحریک انصاف کے چیئرمین آپ نہیں بلکہ وُہ یوٹیوبر ز ہیں جو آپکے نام پر عوام کے جذبات سے کھیلتے ہیں ،نہ کوئی لیڈر ان کی سکروٹنی سے باہر ہے، نہ فوج، نہ حکومت، نہ میڈیا اور نہ ہی آپ کا خاندان۔ آپ عملی طور پر اپنے ہی چاہنے والوں کے یرغمالی اور روبوٹ بن چکے ہیں آپ انکی مرضی کیخلاف فیصلہ کرنے کے قابل ہی نہیں رہے حالانکہ عوام آپ کے غیر مقبول فیصلے کو بھی قبول کریں گے۔ یقین کریں، آپ اپنی رہائی کیلئے جو بھی ڈیل کریں گے وہ آپ کی فتح ثابت ہو گی۔ تاریخ آپ کے دروازے پر دستک دے رہی ہے اور فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔

Back to top button