شہباز PPP کو PDMمیں واپس کیوں لانا چاہتے ہیں؟

نوازلیگ کے صدر شہباز شریف نے اپنی رہائی کے بعد مفاہمتی بیانیہ آگے بڑھاتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو پی ڈی ایم اتحاد پھر سے مضبوط بنانے کے لئے پیپلزپارٹی اورعوامی نیشنل پارٹی کو پی ڈی ایم میں واپس لانے کا مشورہ دیا ہے تا کہ عید کے بعد ہونے والے اپوزیشن اتحاد کے پہلے اجلاس میں یہ دونوں جماعتیں بھی شریک ہوں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف بنیادی طور پر مفاہمت کی سیاست کے حامی ہیں۔ وہ مزاحمتی سیاست کو ٹکراؤ کی سیاست سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں ان کی جماعت کو مزاحمت سے زیادہ مفاہمتی سیاست کا بیانیہ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اپنے بڑے بھائی نواز شریف اور بھتیجی مریم نواز کی سوچ کے برعکس شہباز فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی ایک بڑی سیاسی حقیقت سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا برملا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ حال ہی میں لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت کے بعد رہائی پانے والے شہباز شریف کی سیاسی میدان میں پھر سے اینٹری کو ملک کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب یہ اطلاعات ہیں کہ شہباز شریف نے پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پی ڈی ایم اتحاد کو زندہ کرنے کا بیڑہ بھی اٹھا لیا ہے تاکہ ن لیگ کے لیے ملکی سیاست میں نئے امکانات پیدا کئے جا سکیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کے بعد شہباز شریف کے جیل سے باہر آنے سے ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کی سیاسی حکمت عملی میں واضح تبدیلی رونما ہونے کا امکان ہے جس سے قومی سیاسی منظرنامے اور اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی نے نواز لیگ کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر تسلیم نہ کرنے کے اعلان کے بعد شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نہ ماننے کا اعلان کر دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مفاہمت بیانیہ لے کر چلنے والے شہباز شریف کے دوبارہ سیاسی طور پر متحرک ہونے کے بعد اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ نواز لیگ یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے تاکہ پیپلزپارٹی بھی ان کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کر لے۔ اس کے بعد شہباز کے سامنے بڑا چیلنج پی ڈی ایم کو ایک بار پھر متحد کرنے کا ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز نے پی ڈی ایم کے حالیہ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کو پی ڈی ایم اتحاد پھر سے مضبوط بنانے کے لئے پیپلزپارٹی اور اے این پی کو اتحاد میں واپس لانے کا مشورہ دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پی ڈی ایم اتحاد تو شاید اب دوبارہ پہلے جیسی حیثیت میں بحال نہ ہو تاہم مسلم لیگ نواز کے پیپلز پارٹی سے تعلقات آہستہ آہستہ بہتر ہو سکتے ہیں خصوصا شہباز کے باہر آنے کے بعد۔
سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام پایا جاتا ہے کہ ان کی ضمانت پس پردہ قوتوں کی مدد سے ممکن ہوئی ہے اور کچھ نہ کچھ ہے جو اسٹیبلشمنٹ اور شہباز شریف کے درمیان طے ہوا ہے۔ لہذا شہباز شریف کی رہائی کے بعد اس بات کا قومی امکان ہے کہ مسلم لیگ نون اب بہت زیادہ ٹکراؤ کی بجائے مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھے گی اور حکومت سمیت فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کسی مہم جوئی سے گریز کرے گی۔ یہ بھی توقع کی جا رہی ہے مسلم لیگ نون میں وہ انتہا پسند لوگ جو بلاوجہ ٹکراؤ کی سیاست کا ماحول پیدا کر رہے ہیں ان کو پیچھے کر کے مفاہمت کی سوچ رکھنے والے لوگوں کو سامنے لایا جائے گا تاکہ ٹکراؤ کی سیاست ختم کی جا سکے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا شہباز شریف کی مفاہمت کی سیاست سے مسلم لیگ نون کو جاری ٹکراؤ کی سیاست سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو سکیں گے؟ شہباز کے بقول ٹکراؤ اور اداروں اور ان کے سربراہان پر نواز شریف، مریم نواز اور دیگر مسلم لیگوں کی سخت تنقید نے مسلم لیگ نون اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ کا جو ماحول پیدا کیا ہے، وہ پارٹی کے مفاد میں نہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ شہباز کی حالیہ ضمانت پر رہائی کسی پس پردہ ڈیل کا نتیجہ ہے۔ وہ مسلم لیگ نون کو اب عملی طور پر مزاحمت یا ٹکراؤ کے مقابلے میں مفاہمت کی سیاست سے جوڑنے کی کوشش کریں گے اور اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام دیں گے کہ جو کچھ ماضی میں ہوا ہے، اسے بھول کر مستقبل کی طرف بڑھا جائے جو مفاہمت کی پالیسی پر مبنی ہو گا۔
لیکن تجزیہ کاروں کے خیال میں سیاست کے علاوہ شہباز کا سب سے بڑا چیلنج خود کو قانونی جنگ کے ذریعے دوبارہ گرفتاری سے بچانا بھی ہے اور ان کی پوری کوشش ہو گی کہ کچھ لو اورکچھ دو کی سیاست میں وہ کوئی بڑا ریلیف لے سکیں۔ لیکن اس مقصد میں کامیابی کے لیے ان کو سب سے پہلے مسلم لیگ نون کے تناظر میں ٹکراؤ کی سیاست کو مفاہمت کی سیاست میں تبدیل کرنا ہو گا۔ لہٰذا ان کی کوشش ہو گی کہ جو سیاسی ماحول مسلم لیگی قیادت نے اداروں اور ان کے سربراہان پر تنقید کر کے پیدا کر رکھا ہے اسے بہتر کیا جائے اور طاقت کے مراکز میں یہ پیغام دیا جائے کہ مستقبل میں نون لیگ کی ٹکراؤ یا تنازع کی پالیسی نہیں ہو گی۔ شہباز کو ایک سیاسی برتری یہ بھی حاصل ہے کہ ان کی سوچ اور فکر رکھنے والے بہت سے لوگ پارٹی میں موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اداروں سے ٹکراؤ کی سیاست سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔ ان میں زیادہ تر ارکان اسمبلی ہیں جو شہباز شریف کی سیاسی حکمت عملی کے حامی ہیں۔
لیکن اب بھی سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ میں اب کس کا سیاسی بیانیہ چلے گا کیوں کہ مفاہمت اور مزاحمت ساتھ ساتھ چلانا ممکن نہیں۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں مسلم لیگ کو مجموعی طور پر ایک بیانیے کی طرف رجوع کرنا ہے اور اس میں بڑا فیصلہ یقینی طور پر نواز شریف کو ہی کرنا ہے۔ لیکن سوال یہ بھی یے کہ کیا نواز اور مریم شہباز شریف کے بیانیہ کی کھل کر حمایت کر کے اپنے سیاسی بیانیہ پر خاموشی اختیار کر لیں گے، اس کا فوری جواب دینا مشکل ہو گا۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر مریم نواز اب خود کو پیچھے لے جاتی ہیں اور مزاحمتی بیانیے میں نرمی دکھاتی ہیں تو ان کی سیاسی اہمیت کم اور شہباز کی بڑھ جائے گی۔ دوسری جانب شہباز شریف کی یہ کوشش بھی ہے کہ کسی طریقے سے مریم کے ملک سے باہر جانے کا ماحول بن جائے تا کہ ان کی پارٹی پر گرفت مضبوط ہو۔ لیکن کیا مریم سیاسی میدان چھوڑ کر باہر جانے پر تیار ہوں گی؟ یہ ایک بہت اہم سوال ہے۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں شہباز شریف کا بڑا چیلنج ہی نواز شریف کو سیاسی طور پر راضی یا رام کرنا ہے کہ وہ کچھ عرصے کے لیے پارٹی کو انکی سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر چلانے کی اجازت دیں تاکہ وہ طاقت کے مراکز سے مل کر کوئی درمیانی راستہ نکال سکیں۔ نواز شریف کا چیلنج بھی مریم نواز ہیں اور ان کو راضی کرنا خود ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ نون لیگ کے لیے یہ چیلنج اس لیے بھی بڑا ہے کہ اگر اس نے 2023 کے انتخابات میں جانا ہے تو اسے سیاسی محاذ پر اپنی جماعت کے حوالے سے ایسا سیاسی ماحول پیدا کرنا ہے جو ایک محفوظ راستہ تلاش کرنے میں معاون ثابت ہو۔ لہازا شہباز شریف پی ڈی ایم کو فعال بنا کر پیپلزپارٹی کی طرح فوجی اسٹیبلشمنٹ سے معاملات بہتر کرنا چاہتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ شوکاز نوٹسز ملنے پر ناراض ہو کر پی ڈی ایم سے نکل جانے والی پیپلزپارٹی اور اے این کو اتحاد میں واپس لایا جائے، یہی وجہ ہے کہ شہباز نے مولانا کو مشورہ دیا ہے کہ دونوں جماعتوں کو دوبارہ سے پی ڈی ایم کا حصہ بنا کر ایک تگڑا اپوزیشن الائنس تشکیل دیا جائے کیونکہ اسی طرح ن لیگ بارگیننگ پوزیشن میں آ سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button