لیاری گینگ وار کا سرغنہ عزیر بلوچ مسلسل بری کیوں ہو رہا ہے؟

9 برس پہلے غیر ملکی خفیہ اداروں کو اہم ترین ملکی راز فراہم کرنے کے الزام پر گرفتار ہونے والے لیاری گینگ کے سرغنہ عزیر جان بلوچ کے خلاف ابھی تک کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا اور وہ قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری اور دہشت گردی کے 75 میں سے 63 کیسز میں بری ہو چکا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور اور ناقص تفتیش عزیر بلوچ کی بریت کا سبب بن رہی اور اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو وہ باقی 12 کیسز سے بھی بری ہو کر رہا ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ عزیر جان بلوچ ایک بدنام زمانہ گینگسٹر اور سابق کرائم لارڈ ہے جسکا تعلق کراچی سے ہے۔ وہ لیاری کی بدنام زمانہ گینگ وار کا اہم کردار رہا ہے۔ اس گینگ وار کے دوران کراچی میں سینکڑوں لوگ مارے گئے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ کو سزا نہ ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسکے حوالے سے فیصلہ ساز اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی تبدیل ہو چکی ہے اور پیپلز پارٹی کو دباؤ میں رکھنے کے لیے اسے سزا سے بچایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ عزیر بلوچ کا تعلق لیاری کے علاقے سے ہے جو کہ بلاول بھٹو کا انتخابی حلقہ بھی ہے۔
12 اپریل 2017 کو عزیر بلوچ کو فوجی تحویل میں لینے کا اعلان کرتے ہوئے تب کے فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے دعوی کیا تھا کہ فوج نے عزیر کو غیر ملکی اداروں کو اہم ترین ملکی راز فراہم کرنے کے الزام پر تحویل میں لیا گیا ہے۔ آصف غفور نے ٹوئٹر میسجز میں بتایا تھا کہ عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت فوجی تحویل میں لیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ سندھ رینجرز نے جنوری 2016 میں کراچی کے علاقے لیاری میں گینگ وار کے مرکزی کردار عزیر بلوچ کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسکے 15 ماہ بعد فوج نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ عزیر بلوچ کے خلاف لیاری کے مختلف تھانوں میں قتل اور اقدام قتل سمیت بھتہ خوری کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔
عزیر بلوچ 2013 میں کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن شروع ہونے کے بعد بیرون ملک نکل گیا تھا جس کے بعد سندھ حکومت نے اس کے سر کی قیمت مقرر کر دی تھی۔ عزیر بلوچ نے لیاری امن کمیٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی جو بھتہ خوری کا دھندا کرتی تھی اور پیسے نہ دینے والوں کو قتل کر دیا جاتا تھا۔ جب شہر بھر میں لیاری امن کمیٹی کی غنڈہ گردی حد سے بڑھ گئی تو پیپلزپارٹی کی حکومت نے اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عزیر اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے۔
جنوری 2016 میں گرفتاری کے بعد سے عزیر بلوچ بہت سارے قتل اور اقدام قتل کے کیسز میں اس لیے بھی بری ہو گیا کہ اسکے خلاف مدعی عدالت میں پیش ہونے سے پہلے ہی قتل ہو جاتے ہیں۔ ایک کیس میں تو ایسا بھی ہوا کہ پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ کیس کا مرکزی گواہ اور مدعی اس لیے پیش نہیں ہو سکا کہ اسے کل قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ سنتے ہی جج موصوف نے عزیر بلوچ کو بری کردیا جو کمرہ عدالت میں جج کو دیکھ کر مسلسل مسکرا رہا تھا۔
عزیر جان بلوچ اسوقت رینجرز کی تحویل میں ہے جسے کراچی کے میٹھا رام ہاسٹل میں رکھا گیا ہے۔ عزیر بلوچ نے 2003 میں اپنے والد فیض محمد عرف فیضو ماما ٹرانسپورٹر کے قتل کے بعد جرائم کی دنیا میں قدم رکھا۔ وہ اپنے باپ کے قاتل سے بدلہ لینے کے لیے عبدالرحمان ڈکیت کے گینگ میں شامل ہوا۔ عبدالرحمان ڈکیت کی موت کے بعد وہ گینگ کا نیا سربراہ بن گیا۔ پھر وہ وقت آیا جب عزیر بلوچ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مطلوب ترین شخص بن گیا۔ اسکی تلاش نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں کی جاتی رہی۔ اس تلاش کے نتیجے میں اسے 29 دسمبر 2015 کو انٹرپول نے دبئی سے گرفتار کیا تھا۔ تاہم سندھ رینجرز نے 30 جنوری 2016 کو عزیر بلوچ کی گرفتاری ظاہر کی۔ تاہم تمام اہم کیسز میں بری ہونے کے بعد اب عزیر بلوچ کے خلاف ارشد پپو قتل کیس ہی ایسا واحد مقدمہ بچا ہے جس میں اسے سزا ملنے کا امکان ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ارشد پپو بھی ایک گینگسٹر تھا جس کے ساتھی عدالت میں پیش بھی ہوتے ہیں اور عزیر بلوچ کے خلاف گواہیاں بھی ریکارڈ کروا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا خیبر پختونخوا اسمبلی میں امن جرگہ بلانے کا فیصلہ
تاہم ناقدین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ پروسیکیوشن پچھلے 9 برس میں عزیر بلوچ کو کسی ایک بھی مقدمہ قتل یا اقدام قتل میں سزا کیوں نہیں دلوا پایا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دراصل یہ لیاری گینگ وار کا ڈر ہے جو گواہوں اور عینی شاہدین کو عدالتوں میں آنے سے روکتا ہے اور پولیس بھی انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔
