گنڈا پور خود استعفیٰ دیں گے یا عمران کے ہاتھوں گھر جائیں گے؟

خیبرپختونخوا میں گنڈاپور اپوزیشن کی بجائے اپنی ہی جماعت پی ٹی آئی کے نشانے پر ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران عمران خان کی آنکھ کا تارا اور اوپنر بیٹسمین سمجھے جانے والے علی امین گنڈاپور بارے حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ اب پی ٹی آئی میں ان کی تبدیلی کی باتیں زبان زد عام ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی بے لگام اوورسیز سوشل میڈیا بریگیڈ نے تو گنڈاپور کے استعفے کیلئے باقاعدہ مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر انہیں ’غدار‘، ’کمپرومائزڈ‘ اور ’اسٹیبلشمنٹ کا آدمی‘ کہنے کے علاوہ ایسے ایسے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں کہ اب تو ان کی اپنی کابینہ کے کچھ ارکان بھی گنڈاپور کی تبدیلی کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ رہی سہی کسر گنڈاپور اور علیمہ خان کے سامنے آنے والے اختلافات نے نکال دی ہے۔ اب تو سیاسی حلقوں میں ایک ہی سوال زیر بحث ہے کہ کیا گنڈاپور اپنی رہی سہی ساکھ اور عزت کو بچاتے ہوئے استعفیٰ دینگے یا بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ہاتھوں اپنی عزت کا جنازہ نکلوا کر گھر جائیں گے؟
پی ٹی آئی ذرائع کے یہ کوئی راز نہیں تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کبھی پسند نہیں تھے، مگر اڈیالہ جیل کے باہر ان کی عمران خان سے ملاقات کے بعد ہونے والی میڈیا گفتگو نے نہ صرف علی امین کی سیاسی مشکلات بڑھائیں بلکہ گنڈاپور کے ناقدین کو بھی مزید جری بنا دیا ہے۔ جس کا اعتراف گنڈاپور نے عمران خان سے ملاقات کے دوران ان الفاظ میں کیا کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف اس حد تک الزام تراشیاں کی جا رہی ہیں کہ انھوں نے کبھی خود کو اتنا کمزور محسوس نہیں کیا جتنا اب کر رہے ہیں۔ جس کے بعد اب تو اقتدار کے ایوانوں میں بھی یہ چہ مگوئیاں ہونے لگی ہیں کہ آیا یہ مونچھوں والے، لمبے بالوں کے مالک سخت گیر گنڈاپور واقعی اقتدار سے محروم ہونے والے ہیں۔
گنڈاپور کے قریبی حلقوں کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے کلاچی سے تعلق رکھنے والے علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا کے اٹھارہویں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کبھی ہموار سفر نہیں کر سکے، ابتدائی 8 ماہ تو ایک احتجاجی مارچ کے بعد دوسرا لانچ کرنے میں گزر گئے، صوبے میں حکمرانی اُس وقت مکمل طور پر پسِ پشت ڈال دی گئی تھی۔ تاہم گنڈاپور کے سیاسی مسائل نومبر 2024 میں ڈی چوک کے واقعے کے بعد مزید گھمبیر ہوگئے، اور اس کے بعد حالات نے ان کے لیے مشکلات بڑھا دیں، سب سے پہلے معدنیات کا بل لانے کی ناکام کوشش پر انھیں ہدف تنقید بنایا گیا، جس کے بارے میں پارٹی کے سوشل میڈیا کارکنوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر لایا جا رہا ہے، تاہم جب عمران خان نے اس بل بارے اپنی مخالفت کا پیغام دیا تو وزیراعلیٰ کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ پھر اڈیالہ سے حکم آیا کہ بجٹ پیش کرنے سے پہلے عمران خان سے مشورہ کیا جائے، جس کے بعد بجٹ مسودے کو عمران خان تک پہنچانے اور منظوری لینے کی کوشش کی گئی، مگر یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی، پھر عمران خان کا دوسرا حکم آیا کہ ’بجٹ منظور نہ کرو‘۔
اس پر خود کو ’پنڈی بوائے‘ کہنے والے وزیراعلیٰ کے مشیر بیرسٹر سیف کو بانی پی ٹی آئی کے پاس بھیجا گیا تاکہ وہ قیدی نمبر 804 کو سمجھائیں کہ بجٹ منظور نہ کرنا آئینی طور پر حکومت کو ہی گرا دے گا، اس عمران خان مان گئے۔ لیکن جیسے ہی صوبے کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال نے فوجی کارروائی کا تقاضا کیا، گنڈا پور پھر سے تنقید کی زد میں آ گئے، ڈرون حملوں میں شہری ہلاکتوں نے مسئلہ اور بڑھا دیا اور نہ صرف پی ٹی آئی کے مخالفین بلکہ پارٹی کے اندر سے بھی گنڈاپور کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں۔
کیا علیمہ سے پنگا لیکر گنڈاپور اقتدار سے فارغ ہونے والے ہیں؟
اسی دوران پارٹی کے معاملات پر لیڈر کی رائے پہنچانے والی ایک ہی قابلِ بھروسہ آواز عمران خان کی بہن، علیمہ خان کی تھی تھیں کیونکہ انھیں ہی جیل میں بھائی سے ملنے کی اجازت تھی۔ تاہم یہ بات سب کو معلوم تھی کہ انہیں وزیراعلیٰ پسند نہیں،اسی وجہ سے اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان کی میڈیا گفتگو نے گنڈا پور کی مشکلات میں اضافہ کیا اور ناقدین کو حوصلہ دیا۔ جس کے بعد گنڈاپور بارے سیاسی طوفان زور پکڑنے لگا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا وقت پورا ہو چکا ہے۔ گنڈاپور کا دعویٰ ہے کہ انھیں صاف نظر آ رہا تھا کہ ہمارے پیغامات خان صاحب تک نہیں پہنچ رہے، انہیں باہر کی صورتحال کا علم ہی نہیں، انہیں گمراہ کیا جا رہا ہے اور ان کی بات کو فلٹر، سنسر اور مسخ کرکے آگے پہنچایا جا رہا ہے‘۔ انہیں 2 خواتین نیچا دکھا رہی ہیں، ایک جو پارٹی چلانے کی کوشش کر رہی ہے یعنی علیمہ خان اور دوسری جو دراصل پارٹی چلا رہی ہے یعنی بشریٰ بی بی۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق جب ہر طرف سے دباؤ بڑھ گیا، تو گنڈاپور کے پاس آخری امید اپنے قید لیڈر سے بالمشافہ ملاقات تھی،گنڈاپور کے مطابق، اس ملاقات میں انہوں نے علیمہ خان کی مبینہ سازشوں اور پارٹی معاملات میں کھلی مداخلت کے ’ثبوت‘ رکھے۔ گنڈا پور کے بقول خان صاحب نے تحمل سے سنا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ اب بھی ان کی وفاداری پر یقین رکھتے ہیں، اور انہوں نے کبھی اپنی بہن کو کسی قسم کی تردید یا بیانات دینے کے لیے نہیں کہا۔
گنڈاپور کے قریبی لوگ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے مخالفین پر سبقت حاصل کر لی ہے، لیکن موقع بہت چھوٹا ہے۔ انہیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا اور درست فیصلے کرنے ہوں گے، اس سے پہلے کہ سادہ دل بانی چیئرمین عمران خان کا موڈ پھر بدل جائے۔