بچے کھچےعمرانڈو لیڈر اسٹیبلشمنٹ اورعمران کی صلح کے لئے کوشاں

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور پارٹی کے صدر چودھری پرویز الہی کو جیل میں ڈالے جانے کے بعد پی ٹی آئی کی بچی کھچی دوسری سطح کی قیادت کے چودہ طبق روشن ہو چکے ہیں اور وہ ملک کو سیاسی استحکام دینے کا بہانہ کرکے اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان صلح کروانے کے لیے سرگرداں ہے. یہ سہمے عمرانڈو رہنما کرپشن کے جرم میں قید بھگتنے والے اپنے بڑبولے لیڈر سے اسٹیبلشمنٹ کی صلح میں ہی اپنی عافیت کا راستہ تلاش کر رہے ہیں کیونکہ نو مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کے ساتھ ریاست نے جو برمحل سلوک کیا وہ تحریک انصاف کی قیادت کے گمان میں بھی نہیں تھا، سونے پر سہاگہ یہ کہ پی ڈی ایم حکومت کے جانے کے بعد نگران وزیر اعظم کے بیانات اور اقدامات نے بھی تحریک انصاف کی اس امید پر پانی پھیر دیاہے کہ نگران حکومت میں پی ٹی آئی اور اس کی پابند سلاسل قیادت کو ریلیف ملے گا . نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے اپنے بیانات اور اقدامات سے یہ پیغام دیا ہے کہ نو مئی کے بلووں میں ملوث افراد کو ان کے کئے کی سزا بھگتنا ہو گی اور اگر کسی کو اب بھی کوئی غلط فہمی ہے تو ڈنڈا سب کا پیر ہے کی کہاوت ایسے ہی لوگوں کو دیکھ کر سنائی جاتی ہے. دوسری طرف سینئر صحافی انصار عباسی نے بھی اپنی ایک خبر میں یہ بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ ترین قیادت بشمول پارٹی چیئرمین اور نائب چیئرمین اور صدر فی الوقت جیل میں ہیں لیکن اب پارٹی عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کی بحالی کی خواہاں نظر آتی ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیرحراست سینئر پارٹی قیادت کی غیر موجودگی میں پی ٹی آئی کی دوسری سطح کی قیادت سنجیدگی کے ساتھ وہ راستے اور ذرائع تلاش کر رہی ہے جن کی مدد سے پارٹی کو اُس موجودہ صورتحال سے باہر نکالا جا سکے جہاں وہ براہِ راست اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تصادم کی راہ پر نظر آتی ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک ذریعے کے مطابق، پارٹی میں اس بات پر بھی بحث ہو رہی ہے کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مسلسل کشیدگی سے پارٹی کو فائدہ ہے نہ ملک اور ادارے کو۔ ذریعے کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پارٹی کی جانب اپنی موجودہ پالیسیوں کا جائزہ لے اور اس کے عوض ادارے کو یہ ضمانت دی جا سکتی ہے کہ عمران خان فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت کے حوالے سے اپنا موقف نرم کریں گے۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور ترجمان صداقت علی عباسی نے کہا کہ پارٹی ملک کے عوام کے وسیع تر مفاد میں ادارے اور عمران خان کے درمیان پایا جانے والا خلا دور کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں دونوں کے درمیان اختلافات ختم ہونا قومی مفاد میں ہے۔ ملک میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کیلئے قومی ڈائیلاگ میں شرکت کیلئے بھی پی ٹی آئی تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کو سیاسی عمل سے دور رکھنا ادارے کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاک فوج کے ادارے کی اہمیت کا اندازہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم ادارے اور عوام کے درمیان کوئی خلیج نہیں چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی کاز کیلئے عوام اور ادارے کے درمیان تصادم نہیں ہونا چاہئے۔ عباسی نے مزید کہا کہ سیاسی اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کیلئے پی ٹی آئی کسی بھی سیاسی جماعت یا ادارے کے ساتھ مل بیٹھ کر بات چیت میں ہچکچاہٹ کا شکار نہیں۔ اس کی بجائے، انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ ضروری ہے کہ ملک کو آئینی، سیاسی اور معاشی بحران سے نکالنے کیلئے قومی سطح پر مذاکرات ہونا چاہئیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے کہا کہ پارٹی کے حالیہ کور کمیٹی کے اجلاس میں اس بات پر بحث ہوئی کہ تحریک انصاف کے ایسے رہنما جو روپوش ہیں؛ وہ سب باہر آئیں اور مقدمات کا سامنا کریں، اور اگر وہ سامنے آکر کیسز کا سامنا نہیں کرتے تو وہ الیکشن نہیں لڑ پائیں گے۔ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی 9؍ مئی کے واقعات کے بعد تشکیل دی گئی تھی۔ تاہم، نئی کور کمیٹی کے ارکان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔ عمران خان نے اپنی گرفتاری سے قبل تمام متعلقہ افراد کو کور کمیٹی کے ارکان کے نام بتا دیے تھے اور ہدایت کی تھی کہ ان ارکان کے نام سامنے نہ لائے جائیں۔ عمران خان نے شاہ محمود قریشی سمیت کسی بھی پارٹی لیڈر کو پارٹی کا قائم مقام سربراہ نامزد نہیں کیا تھا۔ فی الحال شاہ محمود قریشی بھی سائفر کیس میں گرفتار ہیں۔ کور کمیٹی پر چھوڑ دیا گیا تھا کہ وہ مشترکہ طور پر فیصلے کریں۔ یہ واضح نہیں کہ کور کمیٹی نے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان صلح کرانے کیلئے عمران خان سے اجازت لی تھی یا نہیں۔
