ڈونلڈ ٹرمپ کن وجوہات کی بنا پر صدارتی الیکشن ہارے؟

امریکی صدارتی الیکشن کی تاریخ میں یہ چوتھی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی موجودہ صدر دوسری مدت کے لیے الیکشن میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ لیکن اسکی بنیادی وجہ بایئڈن نہیں بلکہ ٹرمپ خود ہیں جنہوں نے ہیلری کلنٹن جیسی مضبوط امیدوار کو شکست دے دی لیکن بائیڈن کے ہاتھوں ہار گئے۔
ٹرمپ نے اپنے صدارتی حریف جو بائیڈن کو انتخابی مہم کے دوران نیچا دکھانے کے لئے کئی مرتبہ یہ کہا کہ اگر وہ اتنے کمزور حریف سے بھی الیکشن ہار گئے تو شاید انہیں امریکہ چھوڑ کر کہیں دور چلے جانا پڑے۔ اب جبکہ وہ واقعی جو بایئڈن کے ہاتھوں الیکشن ہار چکے ہیں تو یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ وہ امریکہ کی جان کب چھوڑیں گے۔ اس خوف کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ کہیں 2024 کے صدارتی الیکشن میں دوبارہ امیدوار نہ بن جائیں کیوں کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ ٹرمپ بائیڈن کے ہاتھوں بڑی آسانی سے الیکشن ہار گئے ہوں۔ ٹرمپ نے سخت مقابلے کے بعد الیکشن ہارا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے تین نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب میں سات کروڑ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ، جو کہ امریکی صدارتی انتخاب کی تاریخ میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ ڈالے گئے ووٹوں میں سے 47 فیصد سے زیادہ ان کا حصہ ہے اور اس بار کم از کم 24 ریاستوں میں جیت ان کے نام ہوئی ہے بشمول فلوریڈا اور ٹیکساس۔ ملک کے بڑے بڑے حصوں پر ان کا بھرپور اثر رہا ہے جہاں لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں ان کے حامی ہیں۔ چار سالہ حکومت میں ان کے حامیوں نے ان کے دور ِ حکومت کو دیکھا، جانچا، پرکھا اور جب انتخاب کا وقت آیا تو کُھل کر ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیے۔
اگر آپ ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی کمزوریوں کی بات کرنا چاہتے ہیں تو یہ نا انصافی ہوگی کہ ان کی سیاسی طاقت کی بات نہ کریں۔ لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ انھیں شکست ہو گئی ہے اور وہ عہدِ جدید میں چوتھے صدر بن گئے ہیں جو دوسرا دورِ صدارت حاصل نہ کر سکے۔ اس کے علاوہ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی صدر لگاتار دو بار مقبول ووٹوں کی دوڑ ہار جائے۔ چار سال قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اگر نیو یارک کی مشہور ففتھ ایوینیو سڑک پر کسی کو گولی مار دیں تو بھی ان کے ووٹ بینک پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور لوگ ان کی حمایت کرتے رہیں گے۔ لیکن ان کی اپنی پارٹی میں کئی لوگ ایسے ہیں جو ان کے جارحانہ مزاج سے خائف ہو گئے۔
اگر امریکی الیکشن میں ڈالے گئے ووٹوں کا تجزیہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ملک میں 373 کاؤنٹیز میں جو بائیڈن نے ہلیری کلنٹن سے بہتر کارکردگی دکھائی جس کی مدد سے وہ پینسلوینیا، وسکانسن اور مشیگن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس سال کے صدارتی انتخاب میں وہی ہوا جو 2018 کے وسط مدتی انتخاب میں ہوا تھا۔ پڑھے لکھے رپبلکن جنھوں نے چار سال قبل ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا، اس بار ان کو ووٹ دینے پر آمادہ نہ ہوئے کیونکہ وہ ان کے طرز عمل اور رویے سے نا خوش تھے۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحیت سے نالاں تھے۔ نسل پرستانہ بیانیہ سے تنگ تھے۔ سفید فاموں کی بالادستی کے بیانیے کی تنقید نہ کرنے سے تنگ تھے۔ ادھر ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑھکیں بھی عجیب نوعیت کی تھیں۔ کبھی خود کو ‘بہت مستحکم ذہین شخص’ کہنا۔ کبھی سازشی خیالات کا پرچار کرنا، اور کبھی ایسی زبان کا استعمال کرنا جو کسی صدر کے شایان شان نہیں تھی بلکہ کسی جرائم پیشہ خاندان کے افراد کی زبان لگتی تھی۔
پھر اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ناقد ان کو آمرانہ طبیعت کا مالک قرار دیتے اور اس کی مثال دی کہ صدر نے انتخاب میں سامنے آنے والے نتائج ماننے سے انکار کر دیا۔ صدارتی الیکشن سے پہلے کیے گئے سروے کے نتائج کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت کی یہ رائے تھی کہ وہ تنگ آ گئے ہیں اور حالات کو معمول پر لانا چاہتے ہیں۔ وہ اخلاقیات کو واپس آتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اس نفرت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس ملک کو متحد کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس لیے وہ سب مل کر بائیڈن کو صدارت دلوائیں گے۔’
سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بڑی سیاسی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے اپنے حامیوں کو بڑھانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ 2016 میں وہ 30 ریاستوں میں کامیاب ہوئے تھے اور ان کے اقدامات سے لگتا تھا کہ وہ صرف ان لوگوں کے صدر ہیں جنھوں نے ان کو ووٹ دیا ہے۔ انھوں نے تو ذرہ برابر بھی کوشش نہیں کی کہ ملک کی آبادی کی ایک بڑی تعداد جو ڈیموکریٹک تھی، ان کے لیے کچھ کریں۔ لیکن اس سال کے انتخاب گذشتہ انتخاب جیسے نہیں تھے۔ اس بار صدر ٹرمپ غیر سیاسی شخص نہیں تھے، اس بار وہ صدر تھے۔ ان کا اپنی صدارت کا دفاع کرنا تھا۔ اور اس دورِ صدارت میں کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک 230000 امریکیوں کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ ایک اور عنصر یہ تھا کہ ان کے مدمقابل کوئی متنازع شخصیت نہیں تھی جنھیں لوگ ناپسند کرتے تھے، جیسا کہ 2016 میں ہلیری کلنٹن کی صورت میں ہوا تھا۔ اس بار ان کا سامنا تھا سابق نائب صدر جو بائیڈن سے تھا جو کہ بہت اچھی شہرت کے حامل تھے اور شاید یہی وجہ تھی کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی خواہش تھی کہ وہ انتخاب میں حصہ لیں اور صدارتی امیدوار بنیں۔ پارٹی کو توقع تھی کہ 77 سالہ جو بائیڈن سفید فام مزدوروں کے طبقے کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو امریکہ کی ‘رسٹ بیلٹ’ کہلائے جانے والی ریاستوں میں رہتے ہیں۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخاب میں شکست پر اٹھنے والے سوالات میں ایک بڑا دلچسپ سوال یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست ‘کب’ ہوئی؟
کیا یہ ان کی 2016 میں جیت کے فوراً بعد تھا جب ان کو ووٹ دینے والوں کو اندازہ ہوا کہ انھوں نے تو صرف اس لیے ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا کہ وہ واشنگٹن کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہیں۔ صدارت جیتنے کے 24 گھنٹوں بعد ہی ان کو جتوانے والے عوام کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا خصوصاً جب ٹرمپ نے اپنی پہلی تقریر میں امریکہ کا ایسا منظر پیش کیا تھا کہ پورا ملک تباہ ہو رہا ہے، فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، متوسط طبقے اور مزدور طبقے کو بھلا دیا گیا ہے۔ اس دن جب انتخاب جیتنے کے 24 گھنٹے گزر گئے تو دنیا کو اسی وقت علم ہو گیا تھا کہ ٹرمپ خود کو نہیں بدلیں گے بلکہ صدارت کو تبدیل کر دیں گے۔ یا پھر یہ چار سالوں پر محیط ایک سفر تھا جس میں اتنے تنازعات سامنے آئے، اتنے لوگوں کو نکالا گیا یا انھوں نے خود نوکریاں چھوڑ دیں۔ ٹرمپ کو شکست اس وقت بھی ہوئی تھی جب امریکہ کورونا وائرس کی وبا میں گھِر گیا جو ٹرمپ کے دورِ صدارت کا سب سے بڑا بحران تھا۔ِ
جب وبا نہیں آئی تھی تو اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت 49 فیصد تھی اور ملک کی معیشت بھی کافی اچھی کارکردگی دکھا رہی تھی۔ انھوں نے اپنے خلاف ہونے والے مواخذے کو بھی شکست دے دی تھی اور یہ وہ تمام عناصر تھے جنھوں نے ماضی کے صدور کو دوسری بار صدر بننے میں مدد کی تھی۔ صدارتی انتخابات اکثر ایک سوال پر پلٹ جاتے ہیں۔۔۔ کیا ہمارے ملک کے موجودہ حالات چار سال قبل کے حالات سے بہتر ہیں؟ جب امریکہ میں کووڈ آیا اور اس سے معیشت کو دھچکا پہنچا، تو اس سوال کا جواب نفی میں تھا۔ بحرانی حالات نے ماضی کے چند صدور کے کردار کو ابھارا اور دکھایا کہ ایک مضبوط شخص کیسے مشکل حالات کا سامنا کرتا ہے اور ان سے باہر نکلتا ہے۔ جب 1920 کی دہائی میں ملک میں معیشت کا بحران تھا تو فرینکلن روزویلٹ نے ملک کو مقابلے پر تیار کیا۔ جب نائن الیون کا واقعہ ہوا تو جارج بش جونئیر نے اس کا بھرپور جواب دیا اور مقبولیت میں اضافہ کیا جس کی مدد سے وہ دوسرا عہد صدارت جیتنے میں کامیاب ہوئے. تو کرونا وائرس کے بحران سے یہ واضح نہیں تھا کہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اتنی مشکلات پیدا کر دے گا لیکن پھر سب نے دیکھا کہ انھوں نے اس کا کیسے سامنا کیا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا۔ لیکن یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ ڈونلڈ ٹرمپ اتنے بڑے بحران کے باوجود آخر وقت تک سیاسی طور پر بڑے مضبوط رہے۔ امریکہ میں رپبلکن پارٹی، ان کے قدامت پسند حامی ان کی واپسی کے خواہشمند ہوں گے۔ وہ قدامت پسندوں کی تحریک میں ایک اہم شخصیت کے طور پر گنے جاتے رہیں گے۔
امریکی سیاست پر نظر رکھنے والے سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک منقسم شخصیت کے حامل تھے اور ممکن ہے کہ 2024 کے انتخاب میں دوبارہ امیدوار بننے کی کوشش کریں۔ لیکن یہ یقینی ہے کہ صدر ٹرمپ کا قصہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ امریکی تاریخ کے سب سے منفرد صدر کو ہم نے آخری بار دیکھا یا سنا ہو۔
