آئی ایس آئی کے سابق چیف کی دوسری بیوی انصاف کے لیے عدالت میں

پاکستان پیپلز پارٹی کی سابقہ ممبر قومی اسمبلی پلوشہ خان نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور اپنے شوہر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ ) ظہیرالاسلام کے خلاف لاہور کی فیملی کورٹ میں اپنے اور بیٹے شمشیرالاسلام کے نان و نفقہ کے حصول کے لیے مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ پلوشہ بہرام خان آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظہیرالاسلام کی دوسری اہلیہ ہونے کی دعویدار ہیں۔ پلوشہ کا دعویٰ ہے کہ 2014 میں ان سے خفیہ نکاح کرتے وقت ظہیر الاسلام نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس شادی کو جلد پبلک کر دیں گے۔ تاہم اب شادی کے پانچ برس بعد جب وہ ایک بیٹے کی ماں بھی بن چکی ہیں تو ظہیر الاسلام نے نہ صرف ان کو اپنی بیوی تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے بلکہ وہ ان سے جان چھڑانے کے چکر میں ہیں اور خرچہ دینے سے بھی انکاری ہیں۔
ان حالات میں جب پلوشہ خان نے لاہور کی ایک فیملی کورٹ سے رجوع کیا تو 8 جنوری 2020 کے روز جج نے پلوشہ بہرام کی درخواست پر ظہیرالاسلام کو 20 جنوری 2020 کو عدالت میں طلبی کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالتی نوٹس کے مطابق جج عبدالمنیم نے ظہیر الاسلام کو ذاتی حیثیت میں حاضر ہو کر یا وکیل کے ذریعے جواب داخل کروانے کی ہدایت کی ہے اور بصورت دیگر خبردار کیا ہے کہ ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پیپلز پارٹی کی رہنما پلوشہ خان کے مطابق انہوں نے عدالت سے اپنے بیٹے کے حقوق اور اپنے شوہر کے ذمہ بقایاجات کے حصول کے لیے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے بچے کے حقوق کے لیے قانونی جنگ لڑوں گی۔ انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ ) ظہیرالاسلام سے طلاق لینے کے لیے قانونی کارروائی جاری ہے۔
خاتون کا الزام ہے کہ جب انہوں نے ظہیر الاسلام سے اپنے نکاح کو پبلک کرنے کا مطالبہ کیا تو انھوں نے ان پر تشدد کیا جس کے بعد دونوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔ تاہم ظہیر الاسلام کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پلوشہ خان دراصل جنرل صاحب کی پہلی بیوی کے گھر پہنچ گئیں تھیں جس وجہ سے جھگڑا ہوا لیکن کوئی تشدد نہیں کیا گیا اور یہ الزام جھوٹا ہے۔ دوسری طرف پلوشہ خان کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پر تشدد بھی ہوا اور قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
معلوم ہوا ہے کہ جنرل ظہیر الاسلام نے آج دن تک پلوشہ خان کو قانونی طور پر اپنی بیوی نہ تو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی اپنے سوشل سرکل میں ان کو بطور اپنی اہلیہ متعارف کروایا ہے۔ دوسری طرف پلوشہ خان کا کہنا ہے کہ ظہیرالاسلام کے قریبی افراد اور خاندان کے تمام لوگ جانتے ہیں کہ میں ان کی دوسری اہلیہ ہوں اور ان کے ایک بچے کی ماں بھی ہوں۔ دونوں کے نکاح نامے کے مطابق ظہیرالاسلام اور پلوشہ بہرام کی شادی پانچ مئی 2015 کو اسلام آباد میں ہوئی تھی اور ان کا ایک ساڑھے چار سال کا بیٹا بھی ہے جس کا نام شمشیر الاسلام ہے۔
نکاح نامہ کے مطابق ظہیر الاسلام اور پلوشہ خان کا نکاح اسلام آباد کی ایف ٹین ٹو میں واقع مسجد حسان بن ثابت کے نکاح خوان حاجی علی حسین نے پڑھایا اور اسے پانچ مئی 2015 کو رجسٹرڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ نادرا کے جاری کردہ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ پر ظہیرالاسلام، پلوشہ خان اور ان کے بیٹے شمشیر الاسلام کی تصاویر کے علاوہ دیگر تفصیلات بھی موجود ہیں۔ سرٹیفکیٹ پر ظہیر الاسلام کے والد کا نام غلام محمد خان اور والدہ کا نام راج بیگم درج ہے۔
پلوشہ کا پورا نام پلوشہ محمد زئی خان درج ہے جبکہ ان کے والد کا نام ذکاءاللہ خان اور والدہ کا نام عصمت اللہ خان درج ہے۔ ظہیرالاسلام کی تاریخ پیدائش اکتوبر 1957 کی درج ہے جبکہ پلوشہ خان کی تاریخ پیدائش اپریل 1976 کی درج ہے۔ یعنی دونوں کی عمروں میں تقریبا بیس سال کا فرق ہے۔ نادرا فیملی سرٹیفکیٹ پر بچے کی تفصیل میں والد کا نام محمد ظہیر الاسلام اور والدہ کا نام پلوشہ محمد زئی خان درج ہے۔ بیٹے کی تاریخ پیدائش 21 اکتوبر 2015 درج ہے جس کی عمر اب چار سال بنتی ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں ظہیر الاسلام اور پلوشہ خان کو کئی جگہ اکٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک تصویر میں ظہیر الاسلام اور پلوشہ بہرام خان اپنے بیٹے شمشیر الاسلام کی سالگرہ کا کیک کاٹتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کے لاہور کی فیملی کورٹ کی جانب سے بلائے جانے کے باوجود جنرل ظہیرالاسلام کا عدالت میں پیش ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنا کوئی وکیل بھجوا دیں۔ دونوں کے مابین جھگڑے کی اصل وجہ پلوشہ کی جانب سے نکاح کو پبلک کرنے کا مطالبہ تھا جسکے بعد ظہیر الاسلام اس رشتے کو ختم کرنے کے درپے ہو گئے۔ طلاق کے عوض انہوں نے مبینہ طور پر پلوشہ کو بحریہ ٹاون کے ملک ریاض کے ذریعے بھاری رقم کی آفر بھی کی تاہم پلوشہ کی طرف سے انکار کے بعد اب ان کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اب لگتا ہے کہ پلوشہ خان خود بھی اس نکاح کو قائم نہیں رکھنا چاہتیں۔
