تاپی پائپ لائن منصوبہ: پاکستان کا گیس کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ

ترکمانستان،افغانستان،پاکستان،انڈیا (تاپی) پائپ لائن گیس منصوبے میں پاکستان نے منصوبہ شروع ہونے سے قبل گیس کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کر دیا اور پاکستان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بھارت نے بھی ترکمانستان کے حکام کو قیمتوں میں کمی کے حوالے سے تحریری طور پر لکھ دیا ، جس سے منصوبے میں نئی رکاوٹ پیدا ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے گیس کی قیمتیں قطر اور دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی لیکوئیفائڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی قیمتوں سے زیادہ ہونے پر باضابطہ طور پر ترکمانستان سے قیمتوں میں کمی کے لیے 5 رکنی قیمتوں پر مذاکراتی کمیٹی (پی این سی) قائم کردی۔دونوں ممالک نے قیمتوں پر آئندہ ماہ بحث کے لیے رضامندی ظاہر کردی ہے۔جبکہ بھارت کی طرف سے بھی ترکمانستان سے گیس کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ سامنے آگیا ہے۔
خیال رہے کہ 8 ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والا ایک ہزار 820 کلومیٹر طویل پائپ لائن منصوے سے 1.3 ارب کیوبک فٹ فی یوم قدرتی گیس پاکستان اور بھارت کی ملنی تھی۔اس کے علاوہ امریکی افواج کا افغانستان سے ممکنہ انخلا بھی اس منصوبے کے سرمایہ کاروں میں منفی اثرات پیدا کر رہا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ندیم بابر کے مطابق تاپی منصوبے کے تحت دی گئی موجودہ گیس کی قیمتیں پاکستان کے لیے ٹھیک نہیں۔تاہم ترکمانستان سے قیمتوں پر مذاکرات کے لیے 5 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق اس کمیٹی میں وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے سیکریٹری چیئرمین کے طور پر کام کریں گے جبکہ دیگر اراکین میں سیکریٹری فنانس یا ان کے نامزد کردہ، جوائنٹ سیکریٹری وزارت توانائی (پاور ڈویژن)، ڈائریکٹر جنرل (گیس)/ڈائریکٹر (گیس) اور منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس جی سی ایل شامل ہوں گے۔حکام کا کہنا تھا کہ ندیم بابر نے ای سی سی کو بتایا کہ ترکمنستان سے ملنے والی گیس کی قیمت دستیاب ایل این جی کی قیمت سے 5 سے 10 فیصد زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ ایل این جی کا میکانزم خریداروں کے لیے آسان ہے جبکہ گیس پائپ لائن ایک مرتبہ بننے کے بعد ترک یا تبدیل نہیں کی جاسکتی اور یہ 15 سے 20 سال سے بھی زائد کی ذمہ داری بن جائے گی۔پائپ کے ذریعے آنے والی گیس بظاہر جہازوں کے ذریعے آنے والی ایل این جی سے سستی ہے تاہم پاکستان کا اس میں کوئی فائدہ نہیں آرہا ہے۔
معلومات رکھنے والے ذرائع کا کہنا تھا کہ پائپ لائن منصوبے کی تعمیر 2 مراحل میں کی جائے گی جس کا فیصلہ تاپی میں 85 فیصد اسٹیک رکھنے والے ترکمانستان نے کیا تھا۔پائپ لائن منصوبے میں افغانستان، بھارت اور پاکستان کا 5،5 فیصد اسٹیک شامل ہے۔
یاد رہے کہ بھارت کی جانب سے پائپ لائن کے پاکستان سے گزرنے پر سکیورٹی کی ضمانت کا مطالبہ کیے جانے پر ترکمانستان نے پاکستان کو بغیر کمپریسر کے 1.3 ارب کیوبک فیٹ فی یوم دینے کا منصوبہ بنایا ہے یہ مقدار کمپریسنگ اسٹیشنز لگانے کے بعد دگنی کی جاسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button