ن لیگ کو کپتان حکومت کے خاتمے کی یقین دہانی کروادی گئی؟

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے تاریخی یو ٹرن لینے کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ سے ایک خفیہ ڈیل کے بعد اس یقین دہانی پر کیا کہ کپتان کی جلد چھٹی کروا دی جائے گی اور آئندہ حکومت مسلم لیگ ن کی ہوگی۔
پاکستان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترامیم کی غیر مشروط حمایت پر چہار جانب سے تنقید جاری ہے مگر واقفان حال کا کہنا ہے کہ لیگی قیادت نے یہ فیصلہ مستقبل کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ توسیع کا عمل مکمل طور پر حل ہوجانے کے بعد ملکی سیاست کا پہیہ الٹا گھمایا جائے گا اور آئندہ اقتدار مسلم لیگ ن کو ملے گا۔
ملکی منظر نامے پر نظر دوڑائی جائے تو واضح نظر آتا ہے کہ گزشتہ چند مہینے میں مسلم لیگ نون کی قیادت کو کئی حوالوں سے بڑے سے بڑا ریلیف مل چکا ہے۔ عدالت سے سزا یافتہ ہونے کے باوجود میاں نواز شریف علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں، ن کے پارٹی صدر شہباز شریف بھی ان کے ہمراہ ہیں اور دونوں پر واپسی کے لئے بھی تاحال کسی جانب سے دباؤ سامنے نہیں آیا۔ یہی نہیں بلکہ مریم نواز شریف بھی کیسز کے باوجود جاتی امرا لاہور میں پر سکون زندگی گزار رہی ہیں اور آنے والے دنوں میں ان کا بھی اپنے والد کے پاس لندن جانے کا امکان ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شریف برادران کا ووٹ کو عزت دو کے اپنے سیاسی بیانیے سے پھرنے کا غیر مقبول فیصلہ بغیر کسی بڑی وجہ کے نہیں ہو سکتا جبکہ شریف برادران پر بیرون ملک جانے کے بعد کسی قسم کا کوئی پریشر نہیں تھا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر تاریخی یوٹرن میں کوئی بہت بڑی مصلحت پوشیدہ ہے۔ موجودہ حالات میں نون لیگ کی قیادت کسی بڑے دباؤ میں نہیں تھی شریف برادران آرام سکون سے لندن میں بیٹھے اپنی سیاست کر رہے ہیں کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت کی ناکامی ن لیگ کے لیے مستقبل میں کئی راہیں کھول رہی ہے۔ ایسے میں اگر نون لیگ نے ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو دفن کر کے بوٹ پالش کرنے جیسا قبیح فعل سرانجام دیا ہے تو یقیناً یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن میں اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں اور شریف برادران کے مابین ہونے والی ملاقاتوں میں اس نکتے پر اتفاق کرلیا گیا تھا کہ بہت جلد ان ہاؤس تبدیلی یا نئے الیکشن کی صورت میں اقتدار مسلم لیگ نون کے حوالے کردیا جائے گا۔ شریف برادران نے ڈیل پر آمادگی ظاہر کی تو آرمی ایکٹ ترمیمی بل بھی بآسانی پاس ہوگیا۔ پارٹی کی دوسری درجے کی قیادت کے تمام تر تحفظات اور احتجاج کے باوجود فیصلہ یہی کیا گیا کہ اب عزت بوٹ کو دینی ہے ووٹ کو نہیں چونکہ اقتدار بوٹ والے دیتے ہیں ووٹ والے نہیں۔ ووٹ کا کیا ہے جس بھی ڈبے میں ڈالو مرضی کے ڈبے سے نکلے گا۔
پیپلزپارٹی کے قریبی حلقوں کا بھی کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے پی پی پی کی قیادت سے حالیہ دنوں میں آرمی ترمیمی ایکٹ پر حمایت حاصل کرنے کے لیے ملاقاتیں کیں۔ یہ یقین دہانی بھی کروائی گئی ہے کہ مستقبل میں پیپلزپارٹی کی مشکلات مزید کم کی جائیں گی۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ پر پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی مشترکہ طور پر غیر مشروط حمایت سے یہ تائثر۔ملتا ہے کہ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اسٹیبلشمنٹ سے مار کھانے کے بعد اس کے ساتھ مک مکا کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے سے جنرل باجوہ کی توسیع کے حوالے سے کیس ختم ہوجانے کے بعد کپتان حکومت کی فراغت کی ڈیل پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان اور ان کے حواری آرمی ایکٹ میں ترمیم پر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں لیکن ملکی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد عمران خان اور ان کی حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اس حقیقت کو جان چکی ہے کہ تحریک انصاف حکومت عوام کی نظروں میں گر چکی ہے۔ جس طرح کپتان اینڈ کمپنی نے آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے معاملے کو متنازعہ بنایا، اس نے ثابت کیا کہ یہ حکومت نااہل بھی ہے۔ لہذا ایک غیر مقبول اور نااہل حکومت کی غلط کاریوں کا الزام اسٹیبلشمنٹ مزید خود پر نہیں لے گی۔
