بوریت دور کرنے کیلئے 10 بہترین پاکستانی ڈرامے کونسے؟

کرونا کی وبا خود کسی ڈراؤنی فلم سے کم نہیں لیکن اس وبا کا خوف کم کرنے اور مشکل وقت کو آسان بنانے میں فلم اور ڈرامے عوام کا ایک بڑا سہارا بن چکے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران جہاں نیٹ فلیکس دنیا بھر میں پہلے سے کہیں زیادہ سٹریم ہوا ہے، وہیں اردو زبان کے ڈرامے بھی یاداشت اور انٹرنیٹ کے سہارے دوبارہ زندہ کیے جارہے ہیں اور پی ٹی وی کی جاندار روائت نئی نسل کو منتقل ہو رہی ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران اگرآپ بور ہورہے ہیں تو وارث، ان کہی، تنہائیاں، خدا کی بستی اور دھواں سمیت پاکستان کے 10بلاک بسٹر ٹی وی ڈرامے دیکھیں۔ یہ 10پاکستانی ڈرامےلاک ڈاؤن کے دوران گھر بیٹھے آپ کی بوریت دور کرسکتے ہیں۔۔
ڈرامہ وارث کی خاص بات اس میں سنسنی اور رومانویت کا امتزاج ہے۔ اس ڈرامے کی کہانی اس خطے میں حاکم اور محکوم کے ازلی رشتے کے گرد گھومتی یے جو چالیس سال گزرنے کے بعد بھی بھی پرانی نہیں ہوئی۔ اس ڈرامے کو امجد اسلام امجد نے لکھا تھا اور غضنفر علی اور نصرت ٹھاکر نے اس کو ڈائریکٹ کیا تھا۔ یہ ڈرامہ نہ صرف اپنے وقت کا بلکہ آج کے دور کا بھی بہترین ڈرامہ ہے ۔
معروف ڈرامہ نگار حسینہ معین کی تحریر کردہ ان کہی میں ٹمی کا مشہور کردار جمشید انصاری نےادا کیا۔شہناز شیخ نے اس ڈرامہ میں ایسا کردار ادا کیا جس کو بعد میں بالی وڈ کی فلموں میں کاپی کیا گیا۔ ڈرامہ میں ایک ہیرو جاوید شیخ تھے جبکہ دوسرے ہیرو شکیل تھے۔ ڈرامے کی کہانی اور کرداروں سے اس بہت زیادہ عوامی پزیرائی ملی
اسی طرح ڈرامہ تنہائیاں میں مرینہ خان اور شہناز شیخ کے کردار بھولنے والے نہیں ہیں اور قباچہ کا کردار اس ڈرامے کی جان ہے۔ تنہائیاں شہناز شیخ کا دوسرا ڈرامہ تھا اور اس کے بعد انھوں نے کام نہیں کیا لیکن ان کو یاد رکھنے کے لیے ان کہی اور تنہائیاں یہ دو ڈرامے ہی کافی ہیں. اس ڈرامے میں بدر خلیل اور آصف رضا میر نے کمال کا کام کیا ہے۔
مزاح سے بھر پور، نوجوانوں کی کہانی پر مشتمل ڈرامہ سنہرے دن آئی ایس پی آر کی پروڈکشن میں بننے والی پہلی باقاعدہ پروڈکشن تھی۔ سلیم شیخ نے اس ڈرامے سے اداکاری کا آغاز کیا تھا۔ اس ڈرامہ کو شعیب منصور نے ڈائریکٹ کیا تھا۔آئی ایس پی آر نے اس کے بعد ایلفا، براوو، چارلی اور عہد وفا بھی بنائے لیکن اگرآ پ نے صحیح معنوں میں ان دو ڈراموں کا مزہ لینا ہے تو آپ کو سنہرے دن ضرور دیکھنا چاہیے۔
اگر آپ نے ایکشن اور تھرل دیکھنا ہے تو ڈرامہ دھواں دیکھا جا سکتا ہے ۔ نوے کی دہائی میں پی ٹی وی پر نشر کیا جانے والا وہ ڈرامہ ہے جس کو اس زمانے میں ہر کسی نے دیکھا ہو گا۔اس ڈرامے کی ہر قسط میں ایک نئی کہانی ہے۔ عاشر عظیم نے اس ڈرامے کو لکھا اور انھوں نے ہی اس ڈرامے میں کردار بھی ادا کیا۔ ڈرامے میں نصرت فتح علی خان کا گانا، کسے دا یار نہ وچھڑے، اس ڈرامے کے بعد زیادہ مشہور ہو گیا تھا۔
مشہور ڈرامہ خدا کی بستی کو دو بار ریکارڈ کیا گیا۔ ایک بار اس ڈرامے کی ٹیپس ضائع ہو گئیں تھیں۔ جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو ایک بار پھر اس ڈرامے کو ریکارڈ کیا گیا۔ خدا کی بستی کا مرکزی کردار نو شا کا ہے۔یہ ڈرامہ شوکت صدیقی کے ناول پر بنا ہوا ہے، پاکستان میں طبقات کے درمیان جو کشمکش ہے اور تقسیمِ ہندوستان کے بعد جو ایک نئی سوسائٹی جنم لے رہی تھی اس کا بہت ہی عمدہ انداز میں اس ڈرامہ میں تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
ظفر معراج کے لکھے ہوئے دو ڈرامے لشکارا، اور انکار میں سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کو بہترین انداز میں اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لشکارا ڈرامہ تیزاب سے جلنے والوں کی کہانی ہے کہ ان پر کیا گزرتی ہے۔ اس ڈرامے کا مرکزی اشنا شاہ نے ادا کیا ہے جو کہ ببلی کا کردار نبھا رہی ہیں۔چلبل اور زندگی سے بھر پور ببلی کس طرح اس معاشرے میں بدلے کی آگ کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔آپ کو اس ڈرامے میں نظر آئے گا۔
جنسی تشدد صرف گھر سے باہر نہیں ہوتا بلکہ گھر کے اندر رہنے والے بھی بعض اوقات ایسا کرتے نظر آتے ہیں۔ کاشف انصار کا ڈائریکٹ کیا ہوا ڈرامہ ڈر سی جاتی ہے صلہ میں دکھایا گیا ہے کہ جنسی طور پر ہراساں کرنے والا شخص بعض اوقات خاندان کے اندر سے ہوتا ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
سجل علی اور احد رضا کو اگر آپ ایک ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں۔تو نئے ڈراموں میں یقین کا سفر دیکھنا چاہیے۔ سجل علی اور احد رضا میر کا کردار اس ڈرامے کے شروع میں کچھ سنجیدہ تھا، لیکن اگر آپ کو رومانس دیکھنا ہے تو یہ ڈرامہ بہترین ہے۔
