ساجد گوندل کا اغواء،اہلخانہ کا وزیراعظم ہاؤس کے سامنے احتجاج

ایس ای سی پی کے مغوی افسر کے اہل خانہ نے وزیراعظم آفس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور وزیراعظم عمران خان سے اغوا کیے گئے ساجد گوندل کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ساجد گوندل کے اہلخانہ نے ان کی بازیابی کے نعروں اور مطالبات والے پلے کارڈزاٹھا رکھے تھے۔
میڈیا سے گفتگومیں ساجد گوندل کی اہلیہ نے بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ساجد گوندل کے خلاف مقدمہ ہے تو عدالت میں چلائیں۔ساجد گوندل کی والدہ نے وزیراعظم نے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا ساجد گوندل نے کوئی جرم نہیں کیا، اور ان کا قصوربھی نامعلوم ہے۔ دوسری جانب پولیس کی تفتیش ٹیموں کے ہمراہ سینئرافسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ٹیم نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ایس ای سی پی ملازمین کوبھی شامل تفتیش کیا ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 5 ستمبر کو آئی جی اسلام آباد اور سیکریٹری داخلہ کو حکم دیا تھا کہ ساجد گوندل کو 7 ستمبر تک بازیاب کروا کر ان کی عدالت میں پیش کیا جائے۔ تاہم جب عدالت لگی تو ایسا نہ ہو سکا۔ چنانچہ چیف جسٹس نے سیکریٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو دس روز کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ 7 ستمبر تک ساجد گوندل کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کریں۔ لیکن ساجد گوندل کی اہلیہ سجیلہ گوندل نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف ان کے خاندان کے لیے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے تو دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ نے اغوا کاروں کو دس روز کا مزید وقت دے دیا ہے کہ وہ انکے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں۔
دوسری طرف لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمیں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ساجد گوندل کے اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ساجد گوندل کی گمشدگی کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس بارے میں بحث کا سلسلہ جاری یے اور جہاں اسے جبری گمشدگی کے واقعات سے جوڑا جاتا رہا وہیں کئی لوگ اس واقعے کا تعلق سینئر صحافی احمد نورانی کی اس خبر سے جوڑتے دکھائی دیے جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی عاصم باجوہ کے خاندان کے بیرون ملک سو کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button