صبا قمر کی فلم ’’گھبرانا نہیں ہے‘‘ کا عمران سے کیا تعلق ہے؟


پاکستانی اور بھارتی فلم انڈسٹری میں خود کو منوانے والی اداکارہ صبا قمر نے پاکستانی فلموں میں کم کام کرنے کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فلمیں ہی اتنی کم بنتی ہیں کہ یہ اعتراض جائز نہیں۔ اداکارہ نے بتایا کہ ندیم اور شبنم کے زمانے میں ڈھیروں فلمیں بنتی تھیں، لیکن اس کے بعد فلم انڈسٹری ڈوب گئی اور فلمیں بننا بہت کم ہوگئیں۔ اب ذیادہ فلمیں بن رہی ہیں تو میں نے بھی کام کرنا شروع کر دیا، میں چاہتی ہوں کہ اچھی فلم میں کام کروں، جب تک فلم کا سکرپٹ سمجھ میں نہ آئے میں کام نہیں کرتی۔
زیادہ تر فلموں میں اپنے ایک جیسے کردار کا جواب دیتے ہوئے اداکارہ صبا قمر نے بتایا کہ انکی اگلی فلم ’کملی‘ میں انکا کردار بہت زیادہ مختلف ہوگا، فلم ’گھبرانا نہیں ہے‘ کہ بارے میں اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس فلم کی کہانی سن کر وہ پرجوش ہو گئی تھیں کیوںکہ یہ مزے کا سکرپٹ تھا لہذا منع کرنے کی وجہ کوئی نہیں تھی۔ اداکارہ نے بتایا کہ فلم کا نام ’’گھبرانا نہیں ہے‘‘ اس لیے رکھا کہ اچھا لگا لیکن اس کا سابق وزیراعظم عمران خان کے تکیہ کلام سے کوئی تعلق نہیں، فلم میں اپنے کردار کے بارے میں صبا کا کہنا تھا کہ میں نے زبیدہ کا کردار کیا ہے جو اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہے، اور اس کی پرورش اس کے باپ نے بیٹے کی طرح کی ہے۔
پاکستانی مرد سپر سٹار کے ساتھ کام کرنے کے سوال پر اداکارہ نے بتایا کہ یہ کہانی پر منحصر ہوتا ہے، جیسے کملی میں کہانی کی نوعیت ایسی ہے کہ مرد کا کردار اہم نہیں۔ لیکن جیسے ہمایوں سعید ہیں، ان کی فلم میں لڑکی کا کردار ایسا ہوتا ہی نہیں جو میں کرنا چاہوں گی۔ اگر وہ کچھ ایسا بناتے ہیں جس میں لڑکی کا کردار اہم ہو تو ضرور کام کروں گی لیکن ان کی تمام فلموں میں مرد کا کردار ہی نمایاں ہوتا ہے، صبا نے بالی ووڈ سٹار اداکار عرفان خان کے ساتھ بھی کام کیا تھا، وہ ان یادوں کو قیمتی سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق انہین عرفان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔صبا قمر نے بتایا کہ پاکستان کے ڈرامے اور بھارت کی فلمیں اچھی ہوتی ہیں، بھارت میں آلات و تکنیکی سامان اچھا ہوتا ہے، وہاں تفصیل کے ساتھ کام کرتے ہیں، صبا پاکستانی سینیما کی ترقی میں سینسرشپ کو رکاوٹ نہیں سمجھتیں کیونکہ ان کے خیال میں ہر ملک کی اپنی ثقافت اور قوانین ہوتے ہیں اور وہ ان سے متفق ہیں۔
صبا ومر نے تسلیم کیا کہ پاکستانی ڈراموں اور فلموں کی عالمی سطح تک رسائی میں سینسر شپ رکاوٹ ہے، ہم اہم معاملات کو مختلف انداز میں بھی فلما سکتے ہیں۔ اپنی ویب سیریز ’’مسز اینڈ مسٹر شمیم‘‘ پر پاکستان میں لگائی گئی پابندی بارے بات کرتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ یہ حکومتی فیصلہ ہے اور وہی اس کو بہتر دیکھ سکتی ہے، میری ترجیح کیمرے کے سامنے اداکاری ہے، ڈرامے، فلم یا ویب سیریز میں کسی کو ترجیح نہیں دیتی، میں صرف اپنے کام کا لطف اٹھاتی ہیں۔
2012 میں تمغہِ امتیاز اور 2016 میں تمغہ حسنِ کارکردگی حاصل کرنے والی اداکارہ نے بتایا کہ جب انہیں کوئی ان کے کردار کے نام سے بلاتا ہے تو وہ ان کے لیے سب سے بڑا تمغہ ہوتا ہے۔ اداکارہ نے بتایا کہ بہت سے لوگ انہیں پسند کرتے ہیں اور بہت سے ناپسند اور انہیں اس سے فرق نہیں پڑتا وہ ہر ایک کی رائے رکھنے کے حق تو تسلیم کرتی ہیں، اداکارہ نے واضح کیا کہ وہ اپنی فلم کی وجہ سے بالکل بھی گھبرا نہیں رہیں، کیونکہ انکی فلم لوگوں کو پسند آئے گی، اداکارہ نے امید ظاہر کی کہ دیگر فلمیں بھی چلیں گی تاکہ پاکستانی سینیما کی صنعت آگے بڑھے اور مزید فلمیں بنائی جائیں۔

Back to top button