عالمی برادری ایران کے ساتھ کشیدگی روکنے کےلیے تعاون کرے

ترجمان امریکی وزارت خارجہ مورگن اوٹاگس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی روکنے کےلیے تعاون کرے۔
ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اس وقت سب کی جانب سے مدد کرنا لازم ہے تاکہ ایران کے شرپسند اور دہشت گردانہ رویے کا سلسلہ روکا جا سکے۔ اور اس رویے کو تبدیل کرنے کےلیے امریکا اور یورپ کے ساتھ مذاکرات کو ممکن بنایا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اتوار کے روز یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو قبول کیا تو وہ اس سے انکار نہیں کریں گے۔ اس سے قبل امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن کا کہنا تھا کہ تہران کے سامنے بات چیت کو قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
اوبرائن کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے "انتہائی دباؤ کی پالیسی” کامیاب رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور اب مذاکرات کی میز پر آنے کے سوا اس کےلیے کوئی چارہ نہیں۔
امریکی صدر نے اوبرائن کی گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ "حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ مذاکرات کرتے ہیں تو مجھے اس کی پروا نہیں۔ یہ مکمل طور پر ان کا معاملہ ہے لیکن جوہری ہتھیار کسی صورت نہیں، اور ہاں آپ لوگ اپنے خلاف احتجاج کرنے والوں کو جان سے نہ ماریں”۔
ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ امریکا احتجاج کے دوران ہزاروں مظاہرین کے قتل یا گرفتاری کی کارروائیوں کو بغور دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے ایرانی نظام سے مطالبہ کیا کہ وہ انٹرنیٹ کو بحال کرے اور صحافیوں کو آزادی کے ساتھ کرنے دے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button