فلموں میں فلاپ ہونے والا بلال ڈراموں میں کامیاب ہو گیا

ٹی وی ڈراموں کے معروف اداکار بلال عباس نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے شوبز کیریئر کا آغاز فلمی دنیا سے بطور ہیرو کیا تھا، لیکن انکی پہلی ہی فلم بری طرح فلاپ ہو گئی۔ تاہم وہ ہمت ہارنے کی بجائے ڈراموں کی جانب آ گے۔
ڈرامہ سیریل ’پیار کے صدقے‘ میں اداکاری کے جوہر دکھا کر ایوارڈ حاصل کرنے والے اداکار بلال عباس نے بتایا کہ فلمی کیرئیر فلم فلاپ ہونے کے بعد مایوس ہونے کی بجائے انہوں نے پاکستانی ڈراموں کا رخ کیا تھا اور اپنے فن کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوگئے۔
بلال نے بتایا کی اب جبکہ عوام نے مجھے ایک کامیاب اداکار تسلیم کر لیا ہے تو میں نے دوبارہ فلمی دنیا کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹی وی زیادہ دیکھا جاتا ہے، لیکن میں ہر وقت رومانس نہیں کرسکتا، اگر مین نے ہر ڈرامے میں رومانس کیا تو یکسانیت کا شکار ہوجاؤں گا۔
1971 کی پاک بھارت جنگ جنگ اور سقوطِ ڈھاکہ کے تناظر میں بنائی جانے والی فلم ’کھیل کھیل میں‘ اپنے کردار کے متعلق بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میرا کردار متنازعہ نہیں ہے، لیکن پہلے پاکستان میں سقوطِ ڈھاکہ کے بارے میں کوئی فلم یا ٹیلی فلم اس لیے نہیں بنی کہ یہ ایک حساس موضوع ہے اور لوگ اس بارے میں بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اداکار کا کہنا تھا کہ ہدایت کار نبیل قریشی اور فضہ علی مرزا عام طور پر کمرشل فلمیں ہی بناتے ہیں مگر اس مرتبہ انہوں نے یہ حساس موضوع چن لیا لہذا سجل علی کے ساتھ مجھے بھی ان کی ٹیم کا حصہ بن کر اداکاری کرتے ہوئے کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ 1971 کے واقعات سے متعلق بلال نے خود بھی کچھ تحقیق کی تھی تاکہ وہ اپنے کردار کو بہتر طریقے سے نبھا سکیں۔ بلال عباس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کردار سے کبھی مطمئن نہیں ہوتے، وہ اپنے مشہور کرداروں کو بھی بہت کڑی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس لیے اطمینان کا درجہ حاصل نہیں ہو پاتا۔
بلال کے مطابق انہوں نے ٹی وی ڈراموں میں فلم سے بھی زیادہ مشکل کردار ادا کیے ہیں، انکے خیال میں سقوط ڈھاکہ پر بنی فلم ‘کھیل کھیل میں’ ان کا کردار بہت سادہ ہے اور یہ انہیں یہ ٹی وی سے بھی آسان محسوس ہوا۔ بلال نے بتایا کہ اس فلم کی عکس بندی کے دوران انہیں ہدایت کار کی جانب سے کافی آزادی تھی اور کردار کی مناسبت سے مختلف حالات میں اپنے طور پر بھی کام کیا ہے۔
پاکستان میں ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ جن اداکاروں کے ڈرامے ٹی وی پر چل رہے ہوتے ہیں، انہی کی فلمیں سینماوں میں پیش کی جاتی ہیں۔ اس بارے بلال نے کہا کہ ہمارے ملک میں انٹرٹینمنٹ کا بنیادی ذریعہ ٹی وی ہی ہے اور ابھی دو سال بعد سنیما کھلے ہیں، ایسے میں اس قسم کی رائے مناسب نہیں، اس لیے وہ اس پر توجہ نہیں دینا چاہتے۔ بلال عباس نے کہا کہ اس فلم سے انہیں اچھی اُمیدیں ہیں۔
بلال نے بتایا کہ سجل علی کے ساتھ یہ ان کا دوسرا پراجیکٹ ہے اور سجل علی پاکستان کی بہترین اداکاراؤں میں سے ایک ہیں۔ انہیں سجل کے ساتھ پانچ سال بعد کام کرنے کا موقع ملا ہے، اس لیے لوگوں کی جانب سے پذیرائی بھی مل رہی ہے۔ یاد رہے کہ بلال عباس ’او رنگریزہ‘، ’چیخ‘ اور ’ڈنک‘ جیسے شہرہ آفاق ڈراموں میں اپنی اداکاری کو منوا چکے ہیں۔
