معین اختر کا کامیڈین سے تبلیغی بننے تک کا سفر

1960 کی دہائی میں امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور اینتھونی کوئن کی نقالی کر کے دوست احباب سے داد سمیٹنے والے ایک دھان پان اور شریر لڑکے نے 16 سال کی عمر میں کمرشل تھیٹر سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ وہ بچپن میں ہی اپنے سکول ٹیچرز، قریبی عزیز و اقارب اور دوستوں کے لب و لہجے کی نقالی کر کے ہنسایا کرتا تھا۔ قدرت نے اسے بے مثال ٹیلنٹ عطا کیا تھا اور پھر مسلسل محنت، ریاضت سے وہ سب سے معتبر مزاحیہ فنکار، نقال اور میزبان کہلایا، جسے دنیا معین اختر کے نام سے جانتی ہے۔
شوبز کی دنیا کے سینئیر صحافی طاہر سرور میر کے مطابق معین اختر ایک متنوع اداکار تھے لیکن مزاح کا رنگ ان کے فن پر یوں سجا رہا جیسے کھیر پر چاندی کا ورق اس کے بصری روپ اور مٹھاس کو دو آتشہ کر دیتا ہے۔ معین 24 دسمبر 1950 کو پیدا ہوئے اور 22 اپریل 2011 کو دنیا چھوڑ گئے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے 60 برسوں میں 44 سال فن کی دنیا کی نذر کیے۔ وفات سے کچھ برس پہلے انکی زندگی میں اچانک ایک بڑی تبدیلی آئی اور انہوں نے اسلام کی تبلیغ شروع کر دی۔ لیکن شوبز سے اپنا تعلق نہیں توڑا۔ ان کے کام کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ وہ کئی زندگیاں جیئے۔ معین اختر نے اپنے کیریئر کا آغاز نجی نوعیت کی چھوٹی تقاریب میں ہنسانے اور نقالی سے کیا تھا، تاہم بعد میں وہ طویل عرصے تک ملک کے سب سے مہنگے اور مصروف میزبان بنے رہے۔ معین کو شوبز حلقوں میں ’معین بھائی‘ کہا جاتا تھا۔ انھوں نے ٹی وی ،فلم، تھیٹر اور ریڈیو کے ساتھ ساتھ مختلف تقاریب اور فیسٹیولز کی میزبانی کرنے کے ریکارڈز قائم کیے۔ 26 نومبر 1964 کو پی ٹی وی لانچ ہوا تو ضیا محی الدین شو سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والا معین اختر بھی جلد ہی پی ٹی وی کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ پھر کچھ برسوں بعد معین ایک ایسا برانڈ بن گئے جن کا جادو پورے ایشیا میں پھیل گیا۔ برصغیر کے سب سے محترم اداکار دلیپ کمار بھی ان کے مداحوں میں شامل تھے حالانکہ معین اختر بذات خود دلیپ کمار کے بے حد عقیدت مند تھے اور بچپن سے ہی ان کی نقالی کیا کرتے تھے۔
بھارت میں ہونے والے ایک میگا شو جس میں دلیپ کمار اور راج کمار آمنے سامنے تھے جس کی میزبانی کے لیے بطور خاص معین اختر کو کراچی سے ممبئی بلایا گیا۔ معین اختر کا نام دلیپ کمار نے تجویز کیا اور راج کمار نے بھی اپنا ووٹ دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی بھی پروگرام میں دلیپ کمار کو مہمان بنانے کے لیے یہ شرط ہوتی تھی کہ میزبان معین اختر ہونے چاہیے۔ کچھ ہی برس میں دلیپ کمار معین اختر کے بے تکلف دوست بن گئے تھے۔ دلیپ کمار کا معین اختر کا مداح ہونا ان کے لیے کسی مستند ایوارڈ سے کم نہیں۔ دلیپ کمار کا تعلق انڈین فلم انڈسٹری کی دوسری جنریشن سے تھا۔ ان کے بعد بالی وڈ کی پہلی ،دوسری اور تیسری جنریشنز جن میں راج کپور، رشی کپور اور رنبیر کپور شامل رہے سبھی معین اختر کے فین رہے۔شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان تینوں نے اپنے مختلف انٹرویو ز میں معین اختر کو اپنا فیورٹ قرار دیا۔ عامر خان نے چین میں ایک پاکستانی وفد سے کہا کہ وہ معین اختر کے پرستار ہیں۔
ایک عرصہ سے انڈیا میں دکھائے جانے والا ٹی وی پروگرام ’کپل شرما شو‘ دراصل معین اختر کا ڈیزائن کردہ ہے۔ معین اختر اس فارمیٹ کے بانیان میں شامل رہے جسے بعد ازاں عمر شریف نے بام عروج بخشا۔ کراچی میں ہونے والے سٹیج ڈرامے جس کے مرکزی کردار معین اختر اور عمر شریف ادا کیا کرتے تھے اور ان ڈراموں میں شہزاد رضا، لیاقت سولجر، شکیل صدیقی، سلومی، اسماعیل تارا، لطیف کپاڈیا، روحانی بانو، زیبا شہناز، روف لالہ، جاوید شیخ، بہروز سبزواری اور دیگر شامل رہے۔۔انڈیا کے ٹی وی پروگرامرز نے مذکورہ سٹیج ڈرامے کی ہو بہو نقالی کرتے ہوئے کپل شرما شو ڈیزائن کیا۔ کپل شرما کے مطابق انھوں نے معین اختر، عمر شریف اور امان اللہ کے کئی سٹیج ڈرامے دیکھے ہیں۔کپل شرما نے کہا کہ ’میں نے یہ ڈرامے اتنے غور سے دیکھے کہ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ یہ کہاں بات کرتے تھے اور کہاں سانس لیتے تھے۔ کپل شرما نے کہا کہ معین اختر اور عمر شریف کی بے ساختگی اور روانی جبکہ امان اللہ کی جگت بے مثل ہیں۔
معروف اداکارہ بشریٰ انصاری نے اپنے مرحوم ساتھی کو یاد کرتے ہوئے اعلیٰ درجے کا فنکار اور انسان قرار دیا۔ بشریٰ نے کہا کہ ’قدرت نے بھی معین اختر کو تخلیق کر کے سانچا توڑ دیا ہو گا۔ اسی لیے ان جیسا دوسرا کوئی پیدا نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ معین اختر اپنے کیرئیر کے آغاز میں لطیفے سنانے اور نقالی کرنے والا ایک لڑکا تھا لیکن پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ انھوں نے اپنے آپ کو کس طرح نکھارا۔ ایک مرتبہ معین اختر نے بشریٰ انصاری کی تعریف کرتے ہوئے انھیں ’عورتوں کی معین اختر‘ قرار دیا تھا اور جواب میں بشریٰ انصاری نے معین اختر کو ’مردوں کی بشریٰ انصاری‘ کہا تھا۔ بشریٰ کہتی ہیں ’اگر میں اپنا موازانہ معین سے کروں تو وہ مجھے آسمان پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ میرے لیے اگر دس سے پندرہ نمبر ہوں تو معین کیلیے ڈیڑھ سو نمبر ہونے چاہیے کیونکہ وہ کئی زبانیں مہارت سے بول کر ان گنت ٹونز سے حیران کرتے رہے۔
اپنے ساتھیوں کی نسبت معین اختر انگریزی زبان میں بھی کامیڈی کیا کرتے تھے جس سے ان کی پوزیشن آغاز سے ہی ’وی آئی پی‘ ہو گئی تھی۔ بشریٰ انصاری نے بتایا کہ معین جونیئر کیمبرج کرنے کے بعد انڈیا سے کراچی آئے تھے اور انکی سکولنگ انگلش میڈیم سکول کی تھی۔ بشریٰ نے بتایا کہ ’ایک مرتبہ معین کے والد اور والدہ سے ملاقات ہوئی دونوں انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ تب میں نے معین سے کہا کہ ہائے اللہ تم کس پر چلے گئے ہو؟
معین اختر کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی تھی جس نے انھیں کبھی زوال کا شکار نہ ہونے دیا؟ اس سوال کے جواب میں ان کے لڑکپن کے دوست اداکار شہزاد رضا نے کہا کہ وہ بلا کے ذہین انسان تھے جو حواس خمسہ کی پانچوں قوتوں جن میں قوت سامعہ، لامسہ، ذائقہ، شامئہ اور باصرہ شامل ہوتی ہیں، ان سے نہ صرف سیکھتے تھے بلکہ انھیں کام میں بھی لاتے تھے۔ ان کا بے پناہ مشاہدہ تھا، وہ لامحدود وقت تک مطالعہ کرتے تھے اور پھر مزاح کے گمنام پہلوانوں کے ساتھ مشقت اور ریاضت کیا کرتے تھے اس طرح وہ اپنی گیدڑ سنگھی خود بنایا کرتے تھے۔ معین اختر پر ہر لمحہ کچھ نیا کرنے کی دھن سوار رہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کی ہر ساعت ان کا فنی قد بڑھتا گیا۔
معین اختر کی زندگی کی آخری دہائی میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی اور وہ اسلام کی تبلیغ سے وابستہ ہو گئے، تاہم انھوں نے اپنا تعلق شوبز سے نہیں توڑا۔
ان کے والد محمد ابراہیم محبوب 92 برس کی عمر میں فوت ہوئے اور معین اختر صرف 60 سال زندہ رہے۔ جینیاتی طور پر طویل عمری شاید معین اختر کو بھی نصیب ہوتی لیکن انھوں نے زندگی کا تصرف یوں کیا کہ صرف ایک جنم میں کئی جنم جیئے۔ انھیں دو مرتبہ ہارٹ اٹیک ہوا، لیکن اوپن ہارٹ سرجری کے بعد بھی انھوں نے اپنے مصروف معمولات زندگی نہ بدلے اور اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔
