’میرے پاس تم ہو‘ کا کیوٹ سا سیریس بچہ رومی کون ہے؟

مقبول ترین ڈرامہ سیریز ’میرے پاس تم ہو‘ کی تاریخ ساز کامیابی میں جہاں مصنف خلیل الرحمٰن قمر کے تحریر کا اہم رول ہے وہیں ایک ننھے کردار نے اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کردیا ہے۔ اس کیوٹ سے سیریس بچے رومی نے اپنی جاندار پرفارمنس سے شائقین کے دل موہ لیے ہیں۔ رومی کا کردار ادا کرنے والے بچے کا اصلی نام شیث سجاد گل ہے، شیث کا کہناہے کہ اس نے ’میرے پاس تم ہو‘ سے پہلے کسی ڈرامے میں کام نہیں کیا۔
شیث کہتا ہے اسے اچھا لگتا ہے کہ لوگ جب اسے رومی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ رومی کا کردار اسے اپنے والد سجاد گل عرف ساجی کےرائٹر ہونے کی وجہ سے ملا ہے، اس کردار کےلیے میرا آڈیشن تو نہیں ہوا، لیکن ملنے کےلیے آفس میں ضرور بلایا گیا تھا، اس میٹنگ میں کیا باتیں ہوئیں تھیں اب اچھی طرح یاد نہیں ہیں۔ شیث کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے اسکول کے ساتھ ساتھ ڈرامے کی شوٹنگ کو بھی مینیج کیا۔ میں ایک بجے اسکول سے آتا تھا اور دو بجے مجھے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینے آجایا کرتے تھے، پھر رات بارہ بجے تک مسلسل کام کرتا رہتا تھا۔
رومی نے کہا کہ جب میں نے پہلا سین شوٹ کروانا تھا تو میں بالکل بھی نروس نہیں تھا، مجھے اعتماد تھا کے میں یہ کر لوں گا۔ شیث نے بتایا کہ پہلے سین میں ڈائیلاگ نہ ہونے کی وجہ سے وہ بہت پر اعتماد تھے، لیکن کچھ تکنیکی مسائل کی وجہ سے ڈرامے کا سین پہلی بار میں فائنل نہیں ہوسکا تھا۔ سیٹ پر سب بہت اچھے تھے لیکن عائزہ آنٹی اور ہمایوں انکل مجھ سے بہت اچھے سے بات کرتے تھےاور میرا بہت خیال رکھتے تھے۔ مجھے ڈائیلاگ یاد کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا تھا، نہ ہی پریکٹس کرنے میں دیر لگتی تھی۔ بس دس منٹ کے اندر ڈائیلاگ یاد کرلیا کرتا تھا۔
شیث نے بتایا کہ وہ اپنے ڈائیلاگ کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتا تھا کیونکہ ڈائریکٹر ندیم انکل نے منع کر رکھا تھا۔ میں کیا شوٹ کر کے آتا ہوں، کیا ڈائیلاگز بولے، فیملی ہو یا فرینڈز کسی کو بھی نہیں بتاتا۔ نہ ہی میں کام کے حوالے سے اپنے والد سے ٹپس لیتا۔
عجیب بات یہ ہے کہ شیث مستقبل میں اداکاری کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ بڑے ہوکر سائنسدان بننا چاہتا ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ مجھے لوگ پہچاننے لگے ہیں، اچھا تو لگتا ہے لیکن غصہ بھی آتا ہے کیوں کہ وہ ایک ایک تصویر کرتے کتنی ہی تصویریں بنوا لیتے ہیں۔ شیث کے والد سجاد گل عرف ساجی جو معروف رائٹر بھی ہیں نے کہا کہ شیث دوپہر کو جاتا تھا، تو رات گئے واپس آتا تھا۔ کافی تھکا ہوتا تھا لیکن ہم اس کے اسکول کا حرج نہیں ہونے دیتے تھے، روزانہ اسکول بھیجتے تھے۔
ساجی گل نے بتایا کہ اس ڈرامے سے قبل شیث کمرشلز میں بھی کام کرچکا ہے، اور شہریار منور کی فلم ’سات دن محبت‘ کے ایک گیت میں شیث نے ان کے بچپن کا کردار ادا کیا تھا۔ لیکن اس کردار کے ڈائیلاگز نہیں تھے۔ شیث کو اب لگنے لگ گیا ہے کہ اداکاری تھکا دینے والا کام ہے، اس لیے یہ زرا چڑچڑا بھی ہونے لگا ہے۔ کہتا ہے مزید کام نہیں کرنا، لیکن وقفے وقفے سے کوئی اچھی چیز ملے گی تو یقیناً کرتا رہے گا۔ شیث کو جب لوگ پہچانتے ہیں تو بطور باپ مجھے بہت اچھا لگتا ہے، فخر محسوس کرتا ہوں۔ شیث کے والد ساجی گل نے بتایا کہ شیث ہونہار طالب علم ہے اور جب اس کا ٹی وی پہ ڈرامہ ’میرے پاس تم ہو‘ آتا ہے تو یہ شوق سے بیٹھ کر دیکھتا ہے، پھر یوٹیوب پہ بھی دیکھتا رہتا ہے۔ مجھے شروع میں دیکھ کر ہنسی آتی تھی لیکن ظاہر ہے دیکھ کر خوشی بھی محسوس ہوتی ہے۔
