ن لیگ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں گرما گرمی، سخت جملوں کا تبادلہ

پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں متعدد ارکان نے شہباز شریف کی وطن واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں خواجہ آصف، پیر صابر شاہ اور جاوید لطیف میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں متعدد ارکان نے سینیئر رہنماؤں سے شہباز شریف کی وطن واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینٹرز اور سینیئر قیادت شہباز شریف کو وطن واپس آنے کا کہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں پارٹی کی سینئر قیادت سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، راجا ظفر الحق، رانا تنویر، مشاہد اللہ، ایاز صادق اور رانا ثنا اللہ سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔
دوران اجلاس مسلم لیگ (ن) کے کچھ اراکین پارٹی پالیسی پر بھی ناراض نظر آئے. پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سینیٹر پیر صابر شاہ نے پارٹی کی پالیسیوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی ناقص کارکردگی پر مسلم لیگ (ن) کو فائدہ اٹھانا چاہیے تھا تاہم قائد کے بیانیہ کو پس پشت ڈال کر نقصان اٹھایا ہے، ہماری پارلیمان میں کارکردگی پر عوام افسوس کررہے، ہمیں نواز شریف کے بیانیہ پر چلنا ہوگا ورنہ عوام بھی ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ دوران اجلاس جاوید لطیف نے کہا کہ 4 لوگ عقل کل نہیں، پارٹی میں مشاورتی دائرہ کار کو بڑھایا جائے. انھوں نے مزید کہا کہ ایک غلطی کرچکے ہیں جس کا آنے والے وقت میں ادراک ہوگا، لیڈرشپ کے بعد آپ لوگوں کو تلخ باتیں سننا پڑیں گی. انھوں نے مزید کہا کہ کڑوی باتیں سن کر فیصلے کریں گے تو جماعت کے لیے اچھا ہوگا، ہم نے آگے بڑھنا ہے، احتجاج کے لیے جماعت کو تیار کریں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پیر صابر شاہ جذبات میں بہت کچھ کہہ گئے ہیں، ان کی کچھ باتیں درست اور کچھ درست نہیں۔ اس پر پیر صابر شاہ نے جواب دیتے ہوئے اجلاس میں کہا کہ ایسا نہیں ہے اور نہ ہی میں چور دروازے سے آیا ہوں، عوام کی بات سنیں اور زمینی حقائق دیکھیں تو میں درست کہہ رہا ہوں۔ تاہم اس کے بعد جاوید لطیف نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ کراچی میں تنظیم مضبوط ہو یا نہ ہو لیکن جماعت کو قومی جماعت ہونا چاہیے، ہم کہتے ہیں معیشت تباہ ہوگئی، جس سے ملک کمزور ہوا ہے۔ جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ عوام آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں لہٰذا قومی مباحثے کی بات کریں کیونکہ باتیں کرنے سے آپ ہدف حاصل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ جو تاثر ملا اس کے نتائج کیا نکلے، لہٰذا فیصلہ کرنے سے پہلے مشاورتی دائرے کو بڑھائیں،
علاوہ ازیں ان کے مؤقف کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی محسن شاہ نواز رانجھا نے مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو واپس آنا چاہیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جوانی میں ہم بھی بڑی بڑھکیں مارتے رہے ہیں، کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں کیا، سب فیصلے پارٹی قیادت کی ہدایت پر کیا جاتا ہے۔
دریں اثنا پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نے اجلاس میں پیش آنے والے معاملے پر کہا کہ اختلاف رائے ہی جمہوریت کا حسن ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اختلاف رائے ہی کسی سیاسی جماعت کی روح ہوتی ہے اور تنقید کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔
ادھر اس اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ ایک ہی دن میں 6.02 فیصد تک اسٹاک مارکیٹ گرنا معاشی تباہی کی نئی تاریخ ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یہ معاشی تباہی کا الارم ہے اگر معاشی کشتی ڈوب گئی تو کچھ نہیں بچے گا۔اعلامیے میں وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ عمران خان پاکستان کے گوربا چوف ہیں، ساتھ ہی پارٹی نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی چینی بحران سے متعلق رپورٹ مسترد کردی۔بیان کے مطابق یہ رپورٹ چینی چوروں کو بچانے کے لیے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا حربہ ہے، حکومت میں بیٹھے چینی چوروں اور ان کے سرغنہ کو بچانے کے لیے کہانی بنائی گئی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے اعلامیے میں کہا گیا کہ آٹا، چینی چوری کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی اب تک تشکیل نہیں دی گئی، مذکورہ رپورٹ ‘عمران خان نیازی’ نے اپنی دراز میں چھپائی ہوئی ہے۔پارلیمانی پارٹی نے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان پر لندن میں قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ ڈاکٹر عدنان کے سر پر فولادی ڈنڈے سے وار کیا گیا، زخمی ہونے کے باوجود تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
مذکورہ اجلاس میں نوازشریف کی صحت کے لیے خصوصی دعا بھی گئی جبکہ حکومتی رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت سیاسی انتقام کے راستے پر گامزن ہے۔پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ نوازشریف کی صحت پر سیاست کرنے والے عوامی خدمت میں قطعی طور پر ناکام ہوچکے ہیں، ساتھ ہی کہا گیا کہ عوام اور پارٹی کارکن نواز شریف کی صحت پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں لہٰذا حکومت کی اوچھی حرکتوں کے باوجود نوازشریف کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور جب تک وہ صحت مند نہیں ہوجاتے اس وقت تک وہ لندن ہی میں قیام کریں۔
علاوہ ازیں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ہونے والی گرما گرمی پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ہر رکن کو بات کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور بحث سے ہی پارٹی بہتر فیصلے پر پہنچتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پارٹی کے صدر اور اپوزیشن لیڈر ہیں انہیں واپس آنا چاہیے، وہ جس مجبوری کے تحت وہاں موجود ہے اس کے ختم ہونے پر وہ مارچ کے آخری ہفتے میں پاکستان واپس آجائیں گے۔
