پاکستانی بچیاں تاڑنے میں مصروف ہیں، رضائی سے نکلنا ہی نہیں چاہتے

وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کا کہنا ہے کہ لاڈلے کی حکومت نے عوام کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے لیکن یہ بھی ایسے ٹھنڈ کے مارے ہیں کہ اٹھنا ہی نہیں چاہتے۔ اپنے ایک تازہ ویڈیو پیغام میں پاکستانی عوام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ریحام خان نے کہا کہ اتنا سب کچھ ہو جانے کے باوجود لوگ اب بھی انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی باہر سے آئے اور ہماری قیادت کرے۔ انہوں نے کہا کہ بجائے کی پاکستانی عوام اپنے لیے کچھ کریں، یہ یا تو بچیاں تاڑنے میں مصروف ہیں یا رضائی سے نکلنا ہی نہیں چاہتے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنا ویڈیو پیغام دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کا کہنا تھا کہ اصل میں پاکستانی کوئی کام کرنا نہں چاہتے، ان لوگوں نے کام نہ کرنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈنا ہوتا ہے۔
یہ آجکل سردی کے بہانے بنا رہے ہیں۔ رضائی سے نکلتے ہی نہیں اور پھر لاڈلے نے تو انہیں یہ بہانہ بھی دے دیا ہے کہ گیس ہی نہیں آرہی۔ ہم بستر سے کس لیے نکلیں۔ چینی مل نہیں رہی تو چائے کیوں بنائیں۔ پٹرول بھی بہت مہنگا ہو چکا ہے اس لئے ہم کہیں جا بھی نہیں سکتے۔ مختصر یہ کہ پاکستانی قوم ایک بہانے باز قوم ہے۔ اسے ہروقت بہانوں کی تلاش رہتی ہے تاکہ کچھ کرنا نہ پڑ جائے اور لاڈلی حکومت نے عوام کو اور کچھ دیا ہو یا نہ دیا ہو، اس نے عوام کو بہانے بے شمار دے دیے ہیں۔
ریحام کا مزید کہنا تھا کہ دنیا تیسری جنگ عظیم پر باتیں کر رہی ہے اور پاکستانی یا تو بچیاں تاڑنے میں مصروف ہیں یا رضائی سے نکلنا ہی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستانی عوام کو 2020 شروع ہونے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ عوام پر مہنگائی کے بم گرا کر اس سال کا جو آغاز لاڈلے کی حکومت نے کیا ہے اس پر میں عوام کی خاموشی کو سلام پیش کرتی ہوں۔
اس سے پہلے ریحام خان نے چند روز قبل ایک اور ویڈیو پیغام میں کہا کہ جب میں 2012 میں پاکستان آئی تو اُس وقت آرمی پرویز مشرف کے جانے کے بعد تھوڑی معذرت خواہانہ رویہ اپنائے ہوئے تھی۔ہم نے بچپن میں آرمی والوں کا رعب دیکھا تھا۔ لیکن مشرف کے جانے کے بعد مجھے وہ رعب کم لگا۔ میں حیران ہوئی کہ ایسا کیوں ہوا ہے۔ اس کے بعد راحیل شریف کے دور میں ہم نے دیکھا کہ جنرل عاصم باجوہ نے زبردست آئی ایس پی آر کیا۔راحیل شریف کے وقت بھی آرمی کی پی آر اچھی تھی اور اُنہوں نے ایکسٹینشن نہ لے کر اور بھی اچھا کیا کیونکہ اقتدار کی اگلی کمانڈ کو منتقلی نہ صرف جمہوریت بلکہ فوج اور عدلیہ سمیت دیگر اداروں کے لیے بھی بہت ضروری ہوتی ہے۔ ریحام خان نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ آرمی چیف ایکسٹینشن نہ لے کر ملک کی سب سے بڑی خدمت کر سکتے ہیں،اگر وہ اپنی مرضی سے ایکشٹینشن نہیں لیتے تو لوگ اُن کی عزت کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button