کیا ن لیگ نے چیف الیکشن کمشنر پر بھی سمجھوتہ کر لیا؟

مسلم لیگی قیادت کی جانب سے مزاحمتی بیانیہ ترک کر کے مفاہمتی پالیسی اپنانے کے بعد اب یہ خبر آرہی ہے کہ شریف برادران نے حکومت کے نامزد کردہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے امیدوار کیپٹن ریٹائرڈ بابر یعقوب کے نام پر بھی اتفاق کرلیا ہے۔
لہذا اب حال ہی میں سبکدوش ہونے والے سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کیپٹن بابر یعقوب فتح محمد کو نیا چیف الیکشن کمشنر منتخب کرنے کا قوی امکان ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے متحدہ اپوزیشن جماعتوں کا کیپٹن بابریعقوب کے نام پر ایک سابق فوجی ہونے کی بنا پر سخت موقف تھا۔ اپوزیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کا ایک مرکزی کردار بابریعقوب بھی تھا اس لئے اسے کسی بھی صورت چیف الیکشن کمشنر نہیں بننے دیا جائے گا۔ تاہم اب نون لیگ نے اس حوالے سے اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے اور حکومت کو خفیہ پیغام بھجوادیا ہے کہ انہیں بابریعقوب کے نام پر کوئی اعتراض نہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اس حوالے سے شریف برادران کو منانے میں مقتدر حلقوں نے اہم کردار ادا کیا جنہوں نے لندن میں دونوں بھائیوں سے خفیہ ملاقاتیں کیں جس کے بعد نون لیگ نے نے آرمی چیف ترمیمی ایکٹ کی بلا مشروط حمایت کا اعلان کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتدر قوتوں کی جانب سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر گذشتہ چند مہینوں سے شدید دباؤ تھا کہ وہ حکمران جماعت کی جانب سے تجویز کردہ تین ناموں میں سے بابر یعقوب فتح محمد کے نام پر اتفاق کریں تاکہ ڈیڈ لاک کا خاتمہ ہو اور الیکشن کمیشن کو فعال کیا جاسکے۔ اگرچہ شروع سے ہی اپوزیشن جماعتوں نے تحریک انصاف سے بابر یعقوب کی بجائے کسی بھی دوسری شخصیت کو یہ عہدہ دینے کی آفر کی ہے اور عوامی نیشنل پارٹی نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ بابر یعقوب کو چیف الیکشن کمشنر پاکستان بنانے سے وفاق پر ذد پڑے گی مگر بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں بڑی حد تک ن لیگ کی جماعتوں کے لئے یہ نام قابلِ قبول ہوچکا ہے۔ پرہ چلا ہے کہ ڈیل کے مطابق اپوزیشن بابر یعقوب فتح کی حمایت کے بدلے میں بلوچستان اور سندھ سے الیکن کمیشن کا رکن اپی مرضی سے نامزد کرسکے گی۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نئے چیف الیکشن کمشنرکے لئے تین نام تجویز کئے گئے ہیں اور یہ تینوں شخصیات سینئر بیوروکریٹس ہیں۔ ان میں سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد، فضل عباس میکن اورعارف خان شامل ہیں۔ فضل عباس میکن وفاقی سیکرٹری برائے کابینہ ڈویژن جبکہ عارف احمد خان سیکرٹری اکنامک افیئر ڈویژن اور سیکرٹری خزانہ رہ چکے ہیں۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کےلیے ناصرمحمود کھوسہ، جلیل عباس جیلانی اور اخلاق احمد تارڑ کے نام تجویز کیے گئے تھے۔ جن پر وزیراعظم عمران خان یہ کہتے ہوئےاعتراض عائد کیا کہ ناصر محمود کھوسہ شریف فیملی جبکہ جلیل عباس جیلانی سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، اخلاق احمد تارڑ پر یہ اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ ان کے بھی ماضی کی حکمران جماعتوں کی اہم شخصیات کے ساتھ تعلقات رہے ہیں۔
بابر یعقوب فتح محمد چیف سیکرٹری گلگت بلتستان، چیف سیکرٹری بلوچستان کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ 2015 میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہیں دو بارہ مدت ملازمت میں توسیع دی گئی۔ بابر یعقوب فتح محمد بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے ساتھ ساتھ 2018 کے عام انتخابات بھی کرا چکے ہیں۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے حوال سے مسلم لیگ ن نے وہی پوزیشن اختیار کی ہے جو جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع کے معاملے پر اپنائی تھی یعنی ن لیگ کی قیادت نے اس حوالے سے بھی تاریخی یوٹرن لے لیا ہے۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لئے الیکن کمیشن کے سابق سیکریٹری کیپٹن بابر یعقوب فتح محمد کی حمایت کے لئے ن لیگ کی قیادت مقتدر حلقوں کی جانب سےدبائو کا شکار رہی ہے۔ نومبر 2019 میں لیگی قیادت نے اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کو تابعداری کا یقین دلایا لیکن جب عوامی نیشنل پارٹی اور جے یو آئی آئی ف سمیت بعض سرکردہ لیگی رہنماؤں نے بابر یعقوب کی مخالفت کی تو لیگی قیادت اس فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی۔ خیال رہے اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ بابر یعقوب فتح محمد 2018 کے الیکشن میں سیکریٹری الیکشن کمیشن تھے لہٰذا اس وقت کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی ذمہ داری بابر یعقوب پہ عائد ہوتی ہے۔ اپوزیشن رہنما سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت اپنا نامزد کردہ چیف الیکشن کمشنر لانے پہ بضد رہی تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ملک میں پھر کوئی عہدہ بھی غیر جانبدار نہیں رہے گا۔
کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد نیب حرکت میں آئی۔ پھر نہ صرف شہبازشریف کے اکاونٹس اور اثاثے منجمد ہوئے بلکہ خواجہ آصف اور احسن اقبال کو بھی بلاوا آگیا۔ ذرائع کہتے ہیں کہ بدلتے ہوئے حالات میں پارٹی قائد میاں نواز شریف نے خواجہ آصف کوگرین سگنل دے دیا کہ بابر یعقوب فتح کے نام پر پارٹی میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے مگر جب انہوں نے پارلیمانی پارٹی کو قیادت کے اس فیصلے سے آگاہ کیا تو انہیں توسیع سے متعلق ترمیمی بل کی طرح اس معاملے میں بھی بڑی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیگی رہنما لاکھ اعتراض کریں اگر نوازشریف واقعی بابر یعقوب کے نام پر رضامند ہیں تو ان کے تقرر کے راہ میں ہر رکاوٹ ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں انتظامات کو حتمی شکل دیتے ہوئے ن لیگ بشمول دیگر اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے حکومت کے نامزد کردہ بابر یعقوب فتح محمد کی حمایت کریں گی جس کے جواب میں تحریک انصاف حکومت الیکشن کمیشن کے اراکین برائے سندھ اور بلوچستان کے لیے اپوزیشن کے پیش کردہ ناموں پر اتفاق کرے گی۔
کہا جاتا ہے کہ بابر یعقوب مقتدر حلقوں میں اپنا خاص مقام رکھتے ہیں۔ سابق فوجی اور سنیئر بیوروکریٹ ہونے کی وجہ سے انہیں مختلف حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کام کا ڈھنگ خوب آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نواز شریف دور حکومت میں سیکرٹری الیکشن کمیشن مقرر کرنے کا مرحلہ آیا تو انہیں واضح طورپر بتادیا گیا کہ بابر یعقوب فتح محمد ن لیگ سے بغض رکھنے والی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں اور اگر انہیں الیکشن کمیشن میں تعینات کیا گیا تو ن لیگ کو اس کا بہت نقصان ہو گا۔ میاں صاحب کو یہ بھی بتایا گیا کہ بابر یعقوب کی طرف سے کبھی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی نہیں آیا لیکن چونکہ اس وقت میاں نواز شریف بھی خواص میں گھرے ہوئے تھے اس لئے اپنے کار خاص فواد حسن فواد کے چکر میں آکر بابر یعقوب فتح کو سیکرٹری الیکشن کمیشن تعینات کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد بابر یعقوب کے ن لیگ اور پی پی سے متعلق عزائم کھل کر سامنے آتے رہے لیکن سب بے بس تھے کیونکہ بابر یعقوب کو مقتدر سے زبردست حمایت مل رہی تھی۔ بابر یعقوب پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی کی سیاست بچانے کے لئے بحیثیت سیکرٹری الیکشن کمیشن نہ صرف ڈاکٹر عمار حسین کے لئے نیا انتخابی حلقہ این اے 84 تخلیق کیا بلکہ آئندہ اقتدار میں آنے والی پارٹی تحریک انصاف کا ٹکٹ دلوانے کی سر توڑ کوششوں میں بھی مصروف رہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومتی طبلچی جس زوروشور سے بابر یعقوب کا ڈنکا بجا رہے ہیں اس سے تاثر مل رہا ہے کہ یہ پرچی بھی جس انداز میں کہیں سے عمران خان کی “جھولی “میں ڈالی گئی ہے اور استخارہ کرنے والوں نے حکومت پر واضح کر دیا ہے الیکشن کمیشن کو چلانا ہے تو بابر یعقوب کو ہی لانا ہے۔
