ن لیگ کے یوٹرن کے بعد کیا چوہدری نثار کی واپسی ہو گی؟

جنرل باجوہ کی توسیع کے معاملے میں اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت پر یقین رکھنے والے شہبازشریف اور چوہدری نثار کا بیانیہ درست اور قابل عمل ثابت ہونے کے بعد سوال یہ ہے کہ کیا اب چوہدری نثار علی کی بھی پارٹی میں واپسی ہو جائے گی اور وہ پھر سے اسکا فعال حصہ بن پائیں گے۔ یہ سوال بھی جواب طلب ہے کہ کیا نئے سیادی ماحول میں شہباز شریف کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی یا بدستور نواز شریف اور مریم نواز ہی کلیدی کردار ادا کریں گے۔
جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم کے حوالے سے شریف برادران کے تاریخی یوٹرن کے بعد سیاسی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ چوہدری نثار علی خان اور میاں شہباز شریف کا مفاہمتی بیانیہ ہی درست نکا لیکن میاں نواز شریف اور مریم نواز کو سیاست سے آؤٹ ہونے اور جیلیں بھگتنے کے بعد مزاحمتی بیانیے کے نقصان اور مفاھمتی بیانیے کی افادیت کا اندازہ ہوا۔ دوسری طرف نون لیگ کے مخالفین پھبتیاں کس رہے ہیں کہ "پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا”۔
یعنی ن لیگ کا سیاسی سفر ضیاء الحق کے جوتنے پالش کرنے سے شروع ہو کر باجوہ صاحب کے جوتے چلانے پر ختم ہوا۔ اسی حقیقت کو دوسرے انداز میں کچھ یوں بیان کیا جارہا ہے کہ "ن لیگ اپنے خالق حقیقی سے جا ملی”۔ کسی نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ اب بوٹ کو عزت دو میں بدل چکا ہے۔ کسی نے کہا کہ ن لیگ نے تھوک کر چاٹا ہے۔ کسی دل جلے نے کہا کہ سول بالادستی کا نظریہ ن لیگ کے تاریخی یوٹرن لینے کے بعد دفن ہو گیا۔
سوشل میڈیا پر جاری جنگ سے ہٹ کر مستقبل کے منظر نامے کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے تو تجزیہ کاروں کا استدلال ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق ن لیگ کے تاریخی یوٹرن میں شہباز شریف کی قیادت میں مفاہمت گروپ کے ساتھ ساتھ نواز شریف اور مریم بھی پوری طرح شریک ہیں۔ گویا یہ اعتراف کرلیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کا شہباز شریف اور چودھری نثارکا بیانیہ درست اور نواز شریف اور مریم نواز وغیرہ کا موقف غلط تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نون لیگ کا یوٹرن دراصل اس وسیع تر مفاہمت کا حصہ ہے جو کہ پاکستان اور شریف فیملی کے وسیع تر مفاد میں میں پچھلے سال ہی ہوچکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو بہ آسانی ملک سے باہر بھجوا دیا گیا اور اب مریم نواز شریف کی باری ہے، اسی لئے مریم نواز شریف کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی خاموش ہے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس وقت شریف فیملی میں صرف ایک نقطے پر اختلاف ہے۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کا مطالبہ ہے کہ چونکہ ان سے مرکز میں حکومت چھینی گئی تھی لہذا انہیں پھر سے مرکز میں اقتدار دیا جائے جبکہ شہبازشریف سمجھتے ہیں کہ اگر پہلے مرحلے میں پنجاب کا اقتدار ان کے حوالے کر دیا گیا تو پھر وہ مرکز پر بھی قبضہ کرلیں گے۔
پاکستان کی سیاست میں اس بڑی ڈویلپمنٹ کے بعد اب اس نکتے پر بحث ہورہی ہے کہ کیا ن لیگ کو اقتدار ملنے کے بعد چوہدری نثار دوبارہ سے پارٹی کا حصہ بنیں گے اور لیگی قیادت چوہدری نثار سے معذرت کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ بھی سوال زیربحث ہے کہ اگر شہباز شریف کا بیانیہ درست ثابت ہوا ہے تو کیا اب اقتدار بھی شہباز شریف اور ان کے بیٹے کے حصے میں آئے گا۔ اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چونکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہونے والی ڈیل میں اصل کردار نواز شریف کا ہے اور مریم نواز کی خاموشی بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بھی اپنے والد کے ساتھ ہیں لہذا اگر مستقبل میں مسلم لیگ ن دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو کلیدی کردار نواز شریف اور مریم نواز کا ہی ہوگا کیونکہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ بھی انہیں نے دیا تھا اور اس وقت تنقید کا نشانہ بھی دونوں باپ بیٹی ہی بن رہے ہیں۔
جہاں ن لیگ کے تاریخی یوٹرن پر بہت لے دے ہو رہی ہے وہیں شریف برادران پر مر مٹنے والے بعض لیگی سمجھتے ہیں کہ سو سنار کی ایک لوہار کی۔ یعنی شریف برادران نے توسیع فیصلے کی غیر مشروط حمایت کرکے دراصل عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی یوٹرن لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
