کپتانی یوٹرن: بالآخر جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بند کر دیا گیا

جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا انتخابی نعرہ لگانے والے کپتان کی پنجاب حکومت نے اپنے ہوئے پہلے مرحلے میں بنائے گئے جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ کو بھی بند کر دیا ہے۔

اقتدار میں آنے کے فورا بعد جب جنوبی پنجاب کے حکومتی ممبران پارلیمنٹ نے وزیراعظم پر دباؤ ڈالا کے جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کا وعدہ پورا کیا جائے تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ انکے پاس صوبہ بنانے کے لیے درکار دو تہائی اکثریت موجود نہیں ہے، چنانچہ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ فی الحال وہاں ایک سیکریٹیریٹ الگ سے بنادیا جائے۔ اسخے بعد سرکاری دفاتر کےلیے لاکھوں روپے ماہانہ پر عمارتیں کرائے پر حاصل کی گئیں اور درجنوں سیکرٹری اور عملہ بھی تعینات کردیا گیا۔ تاہم اب وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ کو مکمل طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ دوسری جانب ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ کے سٹرکچر میں چند انتظامی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جس سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا اور جلد سیکریٹیریٹ کو بحال کردیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جسکا جنوبی حصہ ملتان سے رحیم یار خان تک ہے جسے معاشی طور پر کمزور یا پسماندہ خطہ تصور کیا جاتا ہے۔ پنجاب اور وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت میں اس علاقے کے منتخب نمائندوں کا کردار اہم ہے جن کی اکثریت پچھلے دور حکومت میں مسلم لیگ ن میں شامل تھی۔ وزیراعظم عمران خان نے حلف اٹھاتے ہی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کےلیے جنوبی پنجاب کے علاقے سے سردار عثمان بزدار کو منتخب کیا جنہوں نے 2018 میں صوبے کی کمان سنبھالتے ہی علاقے کی معاشی ترقی اور نیا صوبہ بنانے کا اعلان کیا۔ لیکن جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی گئی کیوں کہ ملک میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کےلیے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لازم تھی اور ایسی تبدیلی کرنے کےلیے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت درکار تھی۔
صوبائی حکومت نے اس کا حل یہ نکالا کہ فی الحال جنوبی پنجاب میں ایک الگ سیکریٹیریٹ بنوا دیا جو صرف جنوبی پنجاب کے عوام کے مسائل براہ راست حل کرنے کا ذمہ دار تھا۔ تاہم یہ سیکریٹیریٹ سنٹرل پنجاب کی بیورو کریسی کی اجارہ دارہ پر ایک وار تھا جو اسے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔ چنانچہ اسے چلنے سے پہلے ہی مختلف حیلے بہانوں سے ناکام بنا دیا گیا۔ اس کے بعد 30 مارچ کو چیف سیکریٹری پنجاب کی جانب سے ایک نوٹی فکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق جنوبی پنجاب میں قائم سیکریٹیریٹ کے ایگزیکٹو اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں اور پانچ بڑے محکموں یعنی محکمہ داخلہ، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کو جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ سے ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ تمام محکمے واپس لاہور میں واقع سول سیکریٹیریٹ میں قائم کر دیے گئے ہیں۔ اسی طرح جنوبی پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو دیے جانے والے ایگزیکٹو اختیار بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔ اب جنوبی پنجاب کے ’خود ساختہ‘ سیکریٹیریٹ میں ہر طرح کے تقرر و تبادلے بھی لاہور سے ہوں گے۔

جنوبی پنجاب سے آخری اطلاعات آنے تک وہاں کے پہلے ایڈیشنل چیف سیکریٹری زاہد اختر زمان کا تبادلہ چھ مارچ کو اسلام آباد کر دیا گیا ہے۔ جب کہ سیکریٹری آب پاشی کیپٹن ریٹائرڈ سیف انجم کو اضافی چارج دے کر ایڈیشنل چیف سیکریٹری جنوبی پنجاب لگا دیا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ میں کام کرنے والے ایک اعلیٰ افسر نے کا کہنا ہے کہ عملی طور پر جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ ختم کردیا گیا ہے۔ زاہد اختر زمان نے اس شرط پر جنوبی پنجاب کا ایڈیشنل چیف سیکرٹری بننے کی حامی بھری تھی کہ اگر یہ ایک خود مختار سیکریٹیریٹ ہوگا تو ہی وہ ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ اس سے پہلے اگست 2020 میں اور ستمبر میں جنوبی پنجاب کے سیکریٹیریٹ کو نیم خودمختاری دی گئی جس میں اس کا الگ سے ہوم، فنانس، پی اینڈ ڈی، محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن اور قانون کا محکمہ بنا دیا گیا۔ تمام عملہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو جواب دہ تھا اور تمام سیکریٹری مکمل طور پر اختیارات کے مالک تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے رولز آف بزنس میں ترامیم کرکے یہ اختیارات تفویض کرنا تھے کہ اچانک اس سال فروری میں یہ سارا کام روک دیا گیا۔ جس پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری چھٹی پر چلے گئے جس کے بعد ان کے تبادلے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button